ہر حال میں نواز شریف کے ساتھ کھڑے ہیں، بڑی سیاسی جماعت نے اچانک دھماکے دار اعلان کردیا

0
90

زمین پھٹے یا آسمان گرے،ہر حال میں نواز شریف کے ساتھ کھڑے ہیں،محمود خان اچکزئی کا اعلان

پشتونخواملی عوامی پارٹی کے چیئرمین محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ زمین پھٹے یا آسان گرے ہم ہر حال میں جمہوری وزیر اعظم نواز شریف کے ساتھ کھڑے ہیں ،کروڑوں عوام کے ووٹ سے وہ منتخب ہوئے ہیں کسی ایک گروہ کے کہنے پر استعفیٰ نہیں دینگے ، ہمارا اتحاد جمہوریت کے لیے ہے ملک کو چلانے اور بچا نے کے لئے جمہور کی حکمرانی ہو نی چا ہئے ہم کسی کو بھی جمہوریت کی بساط لپیٹنے نہیں دیں گے، جے آئی ٹی رپورٹ میں سازش کی بو آرہی ہے،جلد سب کچھ سامنے آ جائے گا، ہمارا ملک مزید بحرانوں کا متحمل نہیں ہوسکتا تحقیقات ہونی چا ہئے لیکن تحقیقات کی آڑ میں جمہوریت کو لپیٹنے کی اجازت کسی کو نہیں دی جائے گی اگر ملک کے آئین کو چھیڑا گیا تو پشتونخواملی عوامی پارٹی سڑکوں پر ہونگے اگر نوازشریف کے خلاف کرپشن کی تحقیقات ہونا ہے تو آئین اور پارلیمنٹ کے تقدس کو پامال کرنے والوں کے خلاف بھی تحقیقات ہونی چا ہئے کرپشن نے ملک کو تباہی سے دوچار کر دیا کرپشن کو ختم کرنے کے لئے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلایا جائے اور سپریم کورٹ کے فیصلے تک انتظار کر نا چا ہئے جو بھی فیصلہ آئے گا سب کو تسلیم کرنا ہو گا جب تک افغانستان کو ایک آزاد اور خود مختار ریاست تسلیم نہیں کیا جا تا اس وقت تک حالات بہتر نہیں ہونگے اب بھی وقت ہے کہ افغانستان کے ساتھ اچھے تعلقات ہو پھر ملک میں ترقی وخوشحالی آئے گی افغانستان پاکستان کا اسٹرٹیجک پارٹنر اور ان کے ساتھ تعلقا ت کو بہتر کرنا ہمارے مفاد میں ہے افغانستان کو ایک آزاد وخود مختار ریاست تسلیم کریں تو افغانوں کو راضی کر نا ہمارا کام ہے انہوں نے کہا ہے کہ خطے میں جس طرح ایران اور سعودی عرب کی معاملات چل رہے ہیں اس کے پاکستان پر منفی اثرات پڑیں گے ایران اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کو بہتر بنا نے کے لئے پاکستان کو اپنا کردار ادا کر نا ہو گا ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کر تے ہوئے کیا اس موقع پر پارٹی کے مرکزی رہنماء رضا محمد رضا، پارلیما نی لیڈ ر وصوبائی وزیر تعلیم عبدالرحیم زیارتوال، رکن قومی اسمبلی قہار خان ودان، صوبائی وزیر سردار رضا خان بڑیچ، رکن صوبائی اسمبلی سید لیاقت آغا اور علاؤ الدین کولکوال سمیت پارٹی کے دیگر عہدیداران بھی موجود تھے پشتونخواملی عوامی پارٹی کے چیئرمین رکن قومی اسمبلی محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ نوازشریف کے ساتھ ہمارا اتحاد جمہوریت کے لیے ہے، پشتونخواہ میپ کسی کو بھی جمہوریت کی بساط لپیٹنے نہیں دے گی جب کہ موجودہ حالات میں کوئی نواز شریف سے پاپولر رہنما نہیں ہے کرپشن پاکستان کی سب سے خطرناک بیماری ہے، اس مسئلے پر گول میز کانفرنس ہونی چاہیے جب کہ کرپشن کی آڑ میں کسی ایک کو نشانہ بنانا سیاسی بات ہوجاتی ہے جے آئی ٹی اگر کرپشن کا خاتمہ چاہتی ہے تو اچھی بات ہے لیکن ملک میں آج تک کرپشن کو ڈیفائن نہیں کیا گیا، کسی کی وفاداری خریدنا بھی کرپشن ہے۔ اسلام آباد میں بلاجواز دھرنے دیئے گئے، ماضی میں لوگوں نے پارلیمنٹ کی دیواریں توڑ کر وہاں خیمے لگائے، ملک میں پارلیمنٹ پر حملہ کیا گیا لیکن اس وقت ملک معمولی غلطی کا بھی متحمل نہیں ہوسکتا، آئین اور پارلیمان کی بالا دستی ہوگی تو کوئی بھی پاکستان کو میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا انہوں نے کہا ہے کہ ملک میں ایک بار پھر خطرناک کھیل کھیلا جا رہا ہے جو صورتحال اس وقت ہے وہ انتہائی خطرناک صورتحال ہے یہاں مینٹوں میں حالات بدل سکتی ہے پشتونخواملی عوامی پارٹی نے اپنے60 سالہ دور میں کبھی بھی غیر جمہوری قو توں کا ساتھ نہیں دیا ہم کسی کو بھی برا بھلا نہیں کہیں گے اس وقت جمہوریت کے ساتھ جو سازش ہو رہی ہے اس سازش کو ہر صورت میں ناکام بنائیں گے پشتونخواملی عوامی پارٹی نے جمہوریت کی بقاء جمہوریت کی ترقی وخوشحالی کیلئے طویل جدوجہد کی ہے اور ہمیشہ جمہوریت پر یقین سیاست اور عدم تشدد کا راستہ اپنایا گیا انہوں نے کہا ہے کہ اس ملک میں جمہور کی حکمرانی ہو کیونکہ جمہور کے حکمرانی کے بغیر ملک کبھی بھی ترقی نہیں کر سکتا ہم پر الزام ہے کہ ہم کن کے ساتھ ہے مگر ہم نے نوازشریف کو سپورٹ نہیں کیا بلکہ جمہوریت کا ساتھ دیا ہے اور نوازشریف نے برے حالات سے سبق سیکھ لیا اور اب وہ جمہوریت کے حامی ہے انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان کو چلانے اور بچانے کا واحد راستہ جمہور کی حکمرانی ہے ہمارے ملک میں تمام ادارے اپنے حدود میں رہ کر کام کریں اورآزاد وخود مختار ہو نی چاہئے اور تمام ادارے پارلیمنٹ کے تابع ہو تا کہ کوئی بھی اس ملک کے آئین کیساتھ مزاق نہ کریں پشتونخواملی عوامی پارٹی شروع دن سے کرپشن کی مخالف رہی کرپشن ہمارے معاشرے میں زہر کی طرح پھیل رہی ہے کرپشن کی آڑ میں صرف سیاسی لو گوں کو پکڑنا زیادتی ہو گی اور کرپشن کا یہ علاج نہیں کرپشن اس ملک کی سب سے بڑی خرابی ہے جس طرح لوگ اس کی علاج کر رہے ہیں اس طرح اس کی علاج نہیں ہونی چا ہئے کرپشن کے حوالے سے گول میز کانفرنس بلائیں اور پھر اس کا علاج ڈھونڈے پاناما کیس اور جے آئی ٹی کے بعد جو کچھ ہو رہا ہے یہ ہمارے معاشرے اور جمہوریت کے لئے نیک شگون نہیں ہے کرپشن کی آڑ میں کسی ایک شخص یا سمت کونشانہ بنانا جمہوریت کے خلاف سازش ہے انہوں نے کہا ہے کہ آج میں واضح کر نا چا ہتا ہوں کہ کسی بھی قیمت اور کسی بھی ادارے کو جمہوریت کی بساط لپیٹنے کی اجازت نہیں دینگے اور جمہوریت کے خلاف سازش پر کبھی بھی سودا بازی نہیں کرینگے اگر کسی نے ملکی آئین کو چھیڑا تو ان کے خلاف سڑکوں پر نکل آئیں گے اسلام آباد میں جو دو بڑے دھرنے دیئے گئے اور ہزاروں لو گوں کو ریڈ زون میں 160 دن رکھا گیا جو پارلیمنٹ کے تقدس کوپامال کیا گیا کہ ان کے خلاف کوئی کارروائی اور پارلیمنٹ کے دیواریں توڑ کر خیمے لگائے گئے ان دھرنوں کی تحقیقات کیوں نہیں ہوئی پاکستان مزید بحرانوں کا متحمل نہیں ہو سکتا اپوزیشن سمیت ملک کی تمام ادارے ملک کو مزید بحرانوں سے دوچار کرنے سے گریز کریں یہ کسی کی بھی مفاد میں نہیں ہے انہوں نے کہا ہے کہ آئے ہم سب مل کر کرپشن کے خلاف ایک ہو جائے مگر کرپشن کی آڑ میں جمہوریت کو لپیٹنے کی سازش کو کسی بھی صورت کامیاب نہیں ہونے دینگے انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان آج بھی ایشین ٹائیگر بن سکتا ہے مگر اس ملک میں امن وامان کی صورتحال بہتر ہو سی پیک ان حالات میں نہیں بن سکتے انہوں نے کہا ہے کہ ان تمام تر صورتحال پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلایا جائے پارلیمنٹ اور جمہوریت ہی اس ملک کے بنیاد کو مضبوط کر سکتے ہیں انہوں نے کہا ہے کہ 12 مئی2007 کو کراچی میں جس طرح چیف جسٹس کے آمد کے موقع پر خون کی ہولی کھیلی گئی کیا اس کی تحقیقات ہوئی یا اس واقعہ میں ملوث عناصر کو سزائیں دی گئی انہوں نے کہا ہے کہ اگر اس مرتبہ آئین کو چھیڑنے کی کوشش کی گئی تو ترکی کی طرز پر لاکھوں افراد سڑکوں پر نکلیں گے اور پھر ہر گلی کوچے میں خانہ جنگی جیسے کیفیت پیدا ہونگے انہوں نے کہا ہے کہ جب تک افغانستان کو ایک آزاد اور خود مختار ریاست تسلیم نہیں کیا جا تا اس وقت تک حالات بہتر نہیں ہونگے اب بھی وقت ہے کہ افغانستان کے ساتھ اچھے تعلقات ہو پھر ملک میں ترقی وخوشحالی آئے گی افغانستان پاکستان کا اسٹرٹیجک پارٹنر اور ان کے ساتھ تعلقا ت کو بہتر کرنا ہمارے مفاد میں ہے افغانستان کو ایک آزاد وخود مختار ریاست تسلیم کریں تو افغانوں کو راضی کر نا ہمارا کام ہے انہوں نے کہا ہے کہ خطے میں جس طرح ایران اور سعودی عرب کی معاملات چل رہے ہیں اس کے پاکستان پر منفی اثرات پڑیں گے ایران اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کو بہتر بنا نے کے لئے پاکستان کو اپنا کردار ادا کر نا ہو گا ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here