سی پیک اربوں کا منصوبہ بزاروں لوگ شامل ہونگے، ان کےلئے ہسپتال ضروری ہے: سپریم کورٹ

0
35

اسلام آباد  سپریم کورٹ میں سانحہ کوئٹہ ہسپتال میں وکلاءکی بڑے پیمانے پر ہونے والی ہلاکتوں سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت ، عدالت کا بلوچستان حکومت کی جانب سے بحالی کے لیئے اٹھائے گئے اقدمات سے متعلق پیش رفت رپورٹ پر اطمینان کا اظہار ،عدالت نے بارز نمائندووں کو ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان سے میٹنگ کرکے دس روز میں اپنی سفاشارت دینے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 16اکتوبر تک ملتوی کردی ہے۔ دوران سماعت جسٹس آصف سعید خان کھوسہ نے ریمارکس دیئے کہ سی پیک اربوں روپے کامنصوبہ ہے ہزاروں لوگ اس میں شامل ہوں گے اس کے لیے بھی ہسپتال ضروری ہے ہمیں اچھے کی امید رکھنی چاہئے ، اگر کوئی سول سرونٹ حکومت کے آرڈرز نہیں مانتا تو اسے نوکری پر رہنے کا کوئی حق نہیں،جبکہ جسٹس دوست محمد خان نے ریمارکس دیئے کہ انشاءاللہ پاکستان قائم و دائم رہے گااگر ہم متحد رہے تو بہت جلد دہشت گردی پر بھی مکمل طور پر قابو پالیں گے ہمیں مایوسی کی ضرورت نہیں نظام ٹھیک کام کرے تومسائل بھی کم ہوں گے ، سی پیک کے ثمرات لوگوں تک ضرور پہنچیں گے۔ سی پیک کے تحت ایک عالمی معےارکا جدید ہسپتال بنانا ضروری ہے، ڈاکٹرز ٹراما سینٹر میں ٹرانسفر ہونے کے بعد اس لئے جانے میں پس وپیش سے کام لے رہے ہیں کیوں کہ ان کے پرائیویٹ کلینک سیٹ اپ کا کام متاثر ہوتا ہے۔جسٹس آصف سعید خان کھوسہ کی سربراہی میں جسٹس دوست محمد خان اور جسٹس مشیر عالم پر مشتمل تین رکنی بنچ نے سانحہ کوئٹہ ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی تو ایڈووکیٹ جنرل امان اللہ کنرانی نے بلوچستان حکومت کی جانب سے پیش رفت رپورٹ عدالت میں پیش کی جبکہ پولیس حکام کی جانب سے الگ کیس کی الگ رپورٹ پیش کی گئی عدالت نے رپورٹس کا جائزہ لےا۔بلوچستان حکومت کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹ میں عدالت کو بتایا گیا ہے کہ ایک ارب پچاس کروڑ کی رقم متاثرین پرخرچ کی گئی،وکلاءسمیت92زخمی افرادکو مفت طبی امداد دی گئی اور متاثرہ وکلاءکے بچوں کی تعلیم اور زیر تعلیم وکلاءکے لیے انڈوومنٹ فنڈقائم کیا گیا ہے جس کےلئے 50کروڑ مختص کیے گئے عدالت کو بتایا گیا ہے کہ متاثر ین کی امداد کے لیئے حکومت پنجاب نے 7کروڑ 50 لاکھ روپے جبکہ سندھ حکومت کی جانب سے 4کروڑ روپے دیئے گئے پورٹ کے مطابق سی ایم ایچ کوئٹہ کووکلاءکے علاج کی مد میں 65لاکھ روپے جبکہ آغا خان ہسپتال کراچی کو 3 کروڑ 25 لاکھ روپے ادا کیے گئے ہیں اور ایک کروڑ 18 لاکھ روپے زخمی وکلا کو دئیے گئے جبکہ 65کروڑ شہدا کے ورثا کو فی کس ایک کروڑ کے حساب سے دیئے گئے ہیں ۔پولیس کی رپورٹ کے حوالے سے عدالت کو بتاےاگےا کہ کیس کے سارے ملزمان گرفتار ہیں ےا مارے جاچکے ہیںصرف ایک ملزم ذوالقرنین مفرور ہے کیس کا ٹرائل جاری ہے زےادہ تفصیلات اوپن کورٹ میں بتانے سے تفتیش متاثر ہوگی ان کیمرہ بریفنگ دی جاسکتی ہے ۔ کوئٹہ بارز کے وکیل حامد خان نے کہا کہ گزشتہ سماعت پر 6پوانٹس پر اتفاق رائے ہوا تھا ، وکلاءکی ہاﺅسنگ سوسائٹی کی بات کی گئی تھی ۔ ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان نے کہا کہ اس حوالے کوآپریٹیو ہاﺅسنگ سوسائٹی کے لئے پیش رفت جاری ہے۔ نوٹیفیکیشن جاری ہو چکا ہے۔ اس دوران ہزارہ برادری کے ایک شخص جعفررضا شخص نے اٹھ کر عدالت سے درخواست کی کہ بلوچستان میں سپریم کورٹ کی مداخلت پرصرف جاں بحق ہونے والے وکلاکو مالی معاونت ملی ہے ہزارہ برادری کے 2ہزار سے زائد لوگ مارے گئے ہیں ان کو کوئی نہ معاوضہ دیا گیا اور نہ ہی ان کے تحفظ کےلئے کچھ کیا گیا الٹا زیارات کےلئیے جانے والوں کو 20،20گھنٹے کانوائے کے انتظار میں بٹھایا جاتا ہے ، اس سے زائرین کی تکالیف میں اور بھی اضافہ ہوگیا ہے ، جس پر جسٹس آصف کھوسہ نے کہا کہ یہ سارے کام عدالت سے نہ کروائیں انتظامیہ کاکام ہے ہم ان کو ہدایت کردیتے ہیں کہ ہزاراہ برادی کی مشکلات کو کم کیا جائے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here