سوشل میڈ یا ، نسلِ جد ید کے بگاڑ کا سبب

* * * مولانانثار احمد حصیر القاسمی۔ حیدرآباد دکن* * *
موجودہ تیز رفتار سائنسی ترقی اور جدید ٹکنالوجی نے بے شمار جدید آلات کو جنم دیا اورحیران کن مشینریز کو معرض وجود میں لایا ہے جن کا تعلق انسانی زندگی کے کسی ایک شعبہ سے نہیں بلکہ ہر شعبہ اور ہر میدان سے ہے۔ ایسے ہی آلات میں سے سماجی رابطے کے وسائل بھی ہیں۔ انٹر نیٹ اور اس پر موجود سائٹ ہر میدان کے اندر حیران کن خدمات پیش کررہے ہیں۔ یہ وسائل انسان کو جوڑنے اور مربوط کرنے میں اہم رول ادا کررہے ہیں اور معلومات کے خزانے پیش کررہے ہیں۔ چھوٹے بڑے آج اس سے استفادہ کررہے ہیں اور اس میں منہمک نظر آتے ہیں۔ ہر طرح کے لوگوں کی دلچسپی کا سامان یہاں موجود ہے۔ اس کا استعمال بڑے اورچھوٹے سب کررہے ہیں بلکہ چھوٹے زیادہ کررہے ہیں۔ یہاں تک کہ بے شعور نادان بچے بھی نہ صرف اسے استعمال کررہے ہیں بلکہ اس میں انہماک رکھتے اور اس سے جڑے رہتے ہیں۔ اس کی الفت ومحبت میں چھوٹے ، بڑے، بوڑھے، جوان، عورت، مرد، امیر وغریب، عالم وجاہل لیڈر وعوام میں فرق نہیں ۔ ہر کوئی اپنی اپنی دلچسپی کے مطابق اسے استعمال کررہا ہے۔ یہ وسائل آج ساری دنیا میں پھیل گئے ہیں۔ اس نے جغرافیائی سرحدوں کو توڑ دیا اور ساری دنیا کو ایک بستی میں تبدیل کردیا ہے۔ ہفتوں میں نہیں بلکہ سیکنڈوں میں لوگ مشرق ومغرب سے رابطہ کرلیتے اور اپنی بات دنیا کے گوشے گوشتے تک پہنچا دیتے ہیں۔ اس میں ہر دن ترقی بھی ہورہی ہے اور اس میدان میں سرگرم عمل ہزارہا سائٹس ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کررہے اور بہتر سے بہتر خدمات پیش کرنے کی سعی کررہے ہیں تاکہ دوسروں کی بہ نسبت انہیں زیادہ شہرت حاصل ہو اور انہیں استعمال کرنے والوں کی تعداد میں روز افزوں اضافہ ہو۔ ان وسائل کے مثبت پہلو بھی ہیں اور منفی بھی ۔ اس سے جہاں علم ومعرفت کے دروازے کھلے اور معلومات کا حصول آسان ہوا ہے، اسی طرح اس نے عریانیت وبے حیائی کا دروازہ بھی کھولا اور اباحت پسندی کو رواج دیا ہے۔ آج بدکاریوں ،جرائم اور اس جیسی منفی باتوں میں جو بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے، اسی کی مرہون منت ہے۔ دوسری طرف اہل علم اس کے ذریعہ بحث وتحقیق کے میدان میں بھر پور استفادہ کررہے ہیں۔ آج دنیا کے سارے کاروبار اسی سے جڑے ہوئے ہیں۔ دنیا کے سارے نظام کا انحصار اسی پر ہے۔
ان حالات میں ضروت اس بات کی ہے کہ والدین اپنے معصوم بچوں ، بچیوں اور نوجوانوں کو اس کے مفید ومضر اثرات سے آگاہ کریں۔ ان کی صحیح تربیت کریں، انہیں اسلامی تعلیمات سے آگاہ وروشناس کریں۔صحیح تربیت اور متوازن رہنمائی کے اصول کا بنیادی مقصد انسان کو نیک وصالح بنانا اور ایسا مثالی فرد بشر تیار کرنا ہے جو اپنے پیغام اور مقصد تخلیق کو پورے طور پر روبعمل لاسکے۔ اسے اپنے نفس پر مکمل کنٹرول حاصل ہو اور وہ اپنے تصرفات اور نقل وحرکت کو صحیح راستے پر گامزن رکھے۔ وہ اخلاقی اقدار کا احترام کرے اوردوسروں کیلئے اسوہ نمونہ بنے۔ وہ جس مقصد کیلئے جی رہا ہے یا اس کی زندگی کا جو مقصد ہے وہ اس کی سچی تصویر ہو۔ اسکے اعمال وحرکات اسی مقصد کی روشنی میں ہوں۔ ہمارے اسلاف اور صحابہ کرام ؓ کا اسوہ ہمارے سامنے ہے۔
زلیخا نے جب حضرت یوسف علیہ السلام کو اپنے دامنِ فریب میں پھانسنا چاہا اورسارے دروازے بند کرکے انہیں دعوتِ گناہ دی تو وہ اپنے مقصد سے نہیںہٹے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی عکاسی یوں کی ہے:
’’اُس عورت نے جس کے گھر میں یوسف تھے، بہلانا پھسلانا شروع کیا اور دروازے بند کرکے کہنے لگی: لو آجائو۔ یوسف نے کہا: اللہ کی پناہ وہ میرا رب ہے اس نے مجھے بہت اچھی طرح رکھا ہے، بے انصافی کرنے والوں کا بھلا نہیں ہوتا، اس عورت نے یوسف کا ارادہ کیا اور یوسف نے بھی ارادہ کیاہوتا اگر اُس نے اپنے پروردگار کی دلیل نہ دیکھی ہوتی۔‘‘ (یوسف 24,23)۔
وہ انسان تھے مگر خوف الٰہی غالب تھا اس لئے انہوں نے نفس کو قابو میں رکھا۔ نفس پر جسے کنٹرول حاصل ہوتا ہے وہ دوسروں کے دام فریب میں مبتلا نہیں ہوتا، وہ دنیوی لالچ میں نہیں پڑتا۔ نہ مال ودولت اسکے قدم میں ارتعاش پیدا کرتا ہے۔ نہ بھری جوانی رکھنے والی دو شیزائوں کا حسن وجمال اور دنیا کی رعنائیاں اس کے عزم وثبات کو متزلزل کرتی ہیں۔
دشمنان اسلام کے پاس بہت سے سامان ہیں جسے وہ تیار کرتے اور ہمارے کمزور نفس مسلمانوں کے سامنے پیش کرتے اور ہمارے ملکوں میں ایکسپورٹ کرتے ہیں جس کا مقصد ہمارے اخلاق کو سلب کرنا، ہمارے اقدار کو تباہ کرنا، ہمارے ایمان پر ڈاکے ڈالنا ۔ ہماری روح کو برباد کرنا اور ہمارے ایمانی وجود کو بے جان کرکے تڑپتی لاشوں میں تبدیل کرنا ، ہمارے تشخص پر سیاہی پوتنا، اپنے اصل سرمایہ سے تہی دست کرنا اور پوری امت مسلمہ کو ذلت وخواری میں مبتلا کرنا، ہمارے نوجوانوں کو مدہوش ومخمور کرنا، ہمارے بچوں کو لہوولعب، بے حیائی ، بے راہ روی کا خوگر بنا کر تعلیم اور تحقیق وجستجو سے دور کرنا اور غفلت میں پڑے رہنے کا عادی بنانا، ہماری دینی غیرت وحمیت پر پانی پھیرنا، ہمارے عقیدے کو بگاڑنا اور نونہالان اسلام کو اپنے سانچے میں ڈھالنا ہے۔ وہ اپنے اس مقصد میںصد فیصد کامیاب ہیں۔ ہم اپنے ملک اپنے شہر اور اپنی گلی کوچوںمیں اس کا مشاہدہ کررہے ہیں۔
ہمارے نوجوان بچے بچیاںنہ صرف دشمنانِ اسلام کی نقالی کررہے بلکہ اس پر فخر کررہے ہیں۔ وہ زندگی کے ہر شعبہ میں ان کے نقش قدم پر چل رہے ہیں۔ ہمارے نوجوان تعلیم وثقافت اور دین وایمان سے رشتہ توڑ کر آوارگی میں مبتلا ہورہے ہیں۔ ان میں بے راہ روی عادتِ ثانیہ بن گئی ہے۔ ان کے اندر سے باہمی میل جول، رشتہ داروں اورعزیزوں سے ملنا جلنا بند ہوگیا۔ صلہ رحمی کا فقدان ہوچکا ہے، کوئی اپنے عزیز واقارب سے اب ملنا پسند نہیں کرتا، کہ جو بھی فرصت کا وقت میسر آتا اسے انہی وسائل کے استعمال میں صرف کرتا اوراسی میں مگن رہتا ہے۔
بہت سے نوجوان تو ایسے ہیں کہ ان میں حرام کے اندر بے باکی وجرأت پیدا ہوگئی ہے اور وہ کھلے عام محرماتِ شرعیہ کے ارتکاب میں کوئی عار وحجاب محسوس نہیں کرتے۔ وہ دینداروں اور شرعی حدود کی پاسداری کرنے والوں کا مذاق اڑاتے ۔ شرعی قوانین اوراسلامی تعلیمات پر آواز کستے اور بہت سے فرائض ومحرمات کا انکار کرکے یا اسے اپنے لئے جائز سمجھ کر کفر تک کا ارتکاب کررہے ہیں۔ اپنے دین وایمان کو بیچ کر غیر مسلموں سے معاشقہ کرتے ہیں۔ ان سے شادی کرتے اور اسے اپنے لئے مباح وحلال سمجھتے اور اسلامی تعلیمات کو فرسودہ گردانتے ہیں۔ اعدائے اسلام کی یلغار ہمارے کسی ایک شعبۂ زندگی اور کسی ایک میدان میں نہیں بلکہ ہر میدان میں ہے۔ عقیدہ وتعلیم سے لے کر سیاست ومعیشت سب ان کی یلغار کا شکار ہے اور ہم اسے خوشی خوشی گلے لگا رہے اور اس پر شاداں وفرحاں ہیں۔
آج سب سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہے اور پوری امت مسلمہ کا اولین فریضہ ہے کہ وہ گلے میں پڑے اس غلامی کے طوق کو اتار پھینکیں ۔ اپنے ہاتھ وپائوں کی بیڑیوں کو کاٹیں اور اس سے خود بھی آزادی حاصل کریں اور اپنے بچوں اور دیگر مسلمان بچوں کو بھی اس سے آزادی دلائیں۔
ہمارا دین ومذہب ایک آفاقی مذہب ہے۔ اس کی تعلیمات انسانی زندگی کے تمام شعبوں میں رہنمائی کرتی ہیں۔ زندگی کا کوئی ایسا گوشہ اور موڑ نہیں جہاں اسلامی تعلیمات موجود نہ ہوں۔ ہمارا مذہب تعلیمات اور آداب واقدار سے زر خیز ہے۔ ان تعلیمات اور آداب واخلاق کے سہارے ہم بلندی حاصل کرسکتے ہیں۔ اسکے ذریعہ ہم علوم وفنون میں بھی بلندی حاصل کرسکتے ہیں اور سارے دنیوی میدان میں بھی ہمیں انہی اسلامی تعلیمات کے ذریعہ کمال حاصل ہوسکتا ہے اور اسی کے ذریعہ ہمیں اس دنیا میں بھی سرخروئی حاصل ہوسکتی ہے اور آخرت میں بھی۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
’’اور یہ کہ یہ دین ہی میرا راستہ ہے جو بالکل سیدھا ہے، تو اسی راہ پر چلو اور دوسری راہوں پر مت چلو کہ وہ راہیں تم کو اللہ کی راہ سے جدا کردیںگے۔‘‘ (الانعام 153)۔
مسلمانوں کے اخلاق قرآن کے آئینہ دار ہونے چاہئیں جیسا کہ رسول اللہ ﷺکا اور آپﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کا شیوہ تھا۔ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓسے رسول ﷺکے اخلاق کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا :کان خلقہ القرآن’’ آپﷺ کے اخلاق سراپا قرآن تھے۔‘‘
مسلمانوں کا سلوک۔ طرز زندگی۔ طریقہ کار۔ اور انداز تعامل اسلام ہونا چاہئے۔ جس میں اسلام کی عکاسی ہوتی ہو۔ ان کی شریعت اور ان کے احکام اللہ کی کتاب ہونی چاہئے جسے ہم اپنی پوری زندگی میں نافذ کریں۔ ہماری زندگی دشمنان اسلام اور تمام غیر قوموں ومذہبوں کی زندگیوں سے ممتاز ہونی چاہئے ہمارے ظاہر وباطن پر اسلام کی علامتیں ۔ تقویٰ کی نشانیاں ۔ مسلمانوں کے صفات ظاہر ونمایاں ہونے چاہئیں۔ ہم قرآن اور قرآنی آداب وتعلیمات پر فخر کرنے والے ہوں۔ہمیں رسول اللہﷺاور صحابہ کرامؓ کو اسوہ بنانا چاہئے جنہوں نے علم کی روشنی پھیلانے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی۔ اور ساری دنیا کو علم ومعرفت کے نور سے منور کیا ۔ یہاں تک کہ ساری تہذیبیں اسلام کی دست نگرہوگئیں۔ انہوں نے آداب واخلاق ۔ تہذیب وثقافت علم وہنر ۔ تحقیق وجستجو کا گر اسلام سے اپنایا اور اس میں لگے رہے۔
اور آج ہم اس سے دست کش ہوکر ذلیل وخوار ہوگئے ہیں۔ ہم اسلامی تعلیمات اور اس کے اخلاق واداب سے اگر مسلح ہوںگے تو ہم ہر طرح کے منفی طرز زندگی اور اسلامی اقدار اور اس کی تعلیمات کے منافی باتوں کا مقابلہ کرسکیںگے ورنہ ہم ان کے لائے ہوئے سیل رواں میں بہ جائیںگے ۔ اور ہمارا کوئی پرسان حال نہ ہوگا۔ ہم اگر علم کی دولت سے آراستہ ۔ قرآنی تعلیمات سے آشنا اور سنت نبوی سے رہنمائی حاصل کرنے والے ہوںگے تو ہم قوم وسماج اورملک وملت کے لئے مفید وکارآمد اور فعال عنصر ہوںگے۔ مسلمانوں کی اصل شخصیت اگر محفوظ رہتی ہے اس کا روحانی وفکری منبع وسرچشمہ صاف رہتا اور غلاظتوں سے آلودہ وگدلا نہیں ہو تاہم اگر اپنی زندگی میں دین حنیف کومضبوطی سے تھامے رہتے ہیں۔ اس کے اونچے اقدار واخلاق حاصل اور امت مسلمہ کے وجود میں اس کو راسخ کرتے ہیں تو اس امت مسلمہ کا وہ تشخص باقی رہے گا اور وہ مقصد بر آئے گا جس کے لئے اس امت کو لایا گیا ہے ۔ پھر یہ امت خیر امت ثابت ہونے میں کامیاب ہوگی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:
’’تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے لئے پیدا کی گئی ہو۔ کہ تم نیک باتوں کا حکم کرتے ہو اور بری باتوں سے روکتے ہو اور اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہو۔‘‘ (آل عمران 110)۔
اس طرح ہم اپنے سماج کو ترقی کی راہ پر گامزن کرسکتے لوگوں کو تعمیر ۔ صلاح ۔ سچائی اورترقی وخوشحالی کی دعوت دے سکتے ہیں۔ جس کے بعد اس دنیا میں ہم الفت ومحبت۔ بھائی چارگی ۔ میل ملاپ اور ہم آہنگی کے ساتھ جی سکتے اور جینے کا سلیقہ دوسروں کو سکھا سکتے ہیں۔ مگر اسکے لئے ضروری ہے کہ ہم کتاب وسنت کو اپنا مشعل راہ بنائیں۔ اس کی تعلیمات کو اپنائیں اس کے احکام اور اس کی شریعت کی اتباع وپیروی کریں کیونکہ جو شخص اپنے آپ کوا طاعت کی چادر سے ڈھک لیتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے محفوظ قلعہ میں پناہ گزیں وفروکش ہوجاتا اور اس کی ایسی روشنی واجالے میں داخل ہوجاتا ہے جس میں داخل ہونے والا ہر کوئی مامون ومحفوظ ہوجاتا ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ والدین اور ہر فرد مسلم جن پر چھوٹوں کی تربیت ونگرانی کی ذمہ داری ہے وہ ان جدید آلات کے مفاسد سے اپنے ماتحتوں کو آگاہ کریں۔ اس پر عقابی نگاہ رکھیں اور انہیں اسلام کی تعلیمات اور دینی معلومات سے آراستہ کریں کہ یہی انہیں راہ سے بھٹکنے اور دوسروں کے دام فریب میں پھسنے سے روکنے والی چیز ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.