عظمت اور برکت کا مہینہ سایہ فگن ہو رہا ہے

ہجری تقویم کا نواں مہینہ رمضان المبارک تمام مہینوں کا سردار ہے جو کہ اپنے اندران گنت رحمتیں سموئے ہوئے ہے۔رحمتوں اور برکتوں کا یہ مہینہ مسلمانوں کے لئے نیکیوں کی موسلادھار بارش ہے جس سے مومنوں کے گناہ دھل جاتے ہیں۔ خوش قسمت ہیں وہ مسلمان جو اس ماہ مبارک میںزیادہ سے زیادہ عبادت کرکے اللہ تعالیٰ کی رحمتیںسمیٹنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ قرآن مجید فرقان حمید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے ”اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کر دیئے گئے جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کر دیئے گئے تھے تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ”۔ عظمت رمضان کے بارے میں حضرت سلیمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ماہ شعبان کی آخری تاریخ کو سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک خطبہ دیا اور اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا” اے لوگو! تم پر ایک عظمت اور برکت والا مہینہ سایہ فگن ہو رہا ہے ، اس مبارک مہینہ کی ایک رات ( شب قدر ) ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ اس مہینے کے روزے اللہ تعالیٰ نے فرض قرار دیئے ہیں اور اس کی راتوں میں بارگاہ خداوندی میں کھڑا ہونے ( یعنی نماز تراویح پڑھنے ) کو نفل عبادت مقرر کیا ہے ، جو شخص اس مہینے میں اللہ کی رضا اور اس کا قرب حاصل کرنے کیلئے کوئی غیر فرض عبادت ( یعنی سنت یا نوافل) ادا کرے گا تو اس کو دوسرے زمانہ کے فرضوں کے برابر ثواب ملے گا اور اس مہینے میں فرض ادا کرنے کا ثواب دوسرے زمانے کے ستر فرضوں کے برابر ہے۔ یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا بدلہ جنت ہے۔ یہ ہمدردی اور غمخواری کا مہینہ ہے اور یہی وہ مہینہ ہے جس میں مؤمنین بندوں کے رزق میں اضافہ کیا جاتا ہے جس نے اس مہینے میں کسی ر وزہ دار کو ( اللہ کی رضا اور ثواب حاصل کرنے کیلئے ) افطار کرایا تو اس کیلئے گناہوں کی مغفرت اور آتش دوزخ سے آزادی کا ذریعہ ہو گا اور اس کو روزہ دار کے برابر ثواب دیا جائے گا۔ بغیر اس کے کہ روزہ دار کے ثواب میں کوئی کمی آ جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا کہ یا رسول اللہ ! ہم میں سے ہر ایک کو تو افطار کرانے کا سامان میسر نہیں ہوتا ( تو کیا غرباء اس عظیم ثواب سے محروم رہیں گے؟ )آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ یہ ثواب اس شخص کو بھی دے گا جو دودھ کی تھوڑی سی لسی پر یا صرف پانی ہی کے ایک گھونٹ پر کسی روزہ دار کا روزہ افطار کرا دے۔ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ جو کوئی کسی روزہ دار کا روزہ افطار کرا دے اس کو اللہ تعالیٰ میرے حوض ( یعنی کوثر ) سے ایسا سیراب کرے گا جس کے بعد اس کو کبھی پیاس ہی نہیں لگے گی حتیٰ کہ وہ جنت میں پہنچ جائے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااس ماہ مبارک کا ابتدائی حصہ رحمت ہے اور درمیانی حصہ مغفرت ہے اور آخری حصہ آتش دوزخ سے آزادی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو آدمی اس ماہ اپنے غلام و خادم کے کام میں تخفیف اور کمی کر دے گا اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت فرما دے گا۔ اور اس کو دوزخ سے رہائی اور آزادی دے گا۔ ” اس خطبہ میں ماہ رمضان کی سب سے بڑی اور پہلی عظمت وفضیلت یہ بیان کی گئی ہے کہ اس میں ایک رات ایسی ہوتی ہے جو ہزاروں دنوں اور راتوں سے نہیں بلکہ ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ یہ بات قرآن مجید کی سورة القدر میں بھی فرمائی گئی ہے بلکہ اس پوری سورة میں اس مبارک رات کی عظمت اور فضیلت ہی کا بیان ہے اور اس رات کی عظمت و اہمیت سمجھنے کیلئے بس یہی بات کافی ہے۔ ایک ہزار مہینوں میں تقریباً تیس ہزار راتیں ہوتی ہیں۔ لیلتہ القدر کے ایک ہزار مہینوں سے بہتر ہونے کا مطلب یہ سمجھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ سے تعلق رکھنے والے اور اس کے قرب و رضا کے طالب بندے اس ایک رات میں قرب الٰہی کی اتنی مسافت طے کر سکتے ہیں جو دوسری ہزاروں راتوں میں طے نہیں ہو سکتیں، ہم جس طرح اپنی اس مادی دنیا میں دیکھتے ہیں کہ تیز رفتار ہوائی جہاز یاراکٹ کے ذریعہ اب ایک دن بلکہ ایک گھنٹہ میں اس سے زیادہ مسافت طے کی جا سکتی ہے جتنی پرانے زمانے میں سینکڑوں برس میں طے ہوا کرتی تھی اسی طرح حصول رضائے خداوندی اور قرب الٰہی کے سفر کی رفتار لیلتہ القدر میں اتنی تیز کر دی جاتی ہے کہ جو بات صادق طالبوں کو سینکڑوں مہینوں میں حاصل نہیں ہو سکتی وہ اس مبارک رات میں حاصل ہو جاتی ہے۔اسی طرح سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کا مطلب بھی سمجھنا چاہیے کہ اس مبارک مہینہ میں جو شخص کسی قسم کی نفلی نیکی کرے گا اس کا ثواب دوسرے زمانہ کی فرض نیکی کے برابر ملے گا اور فرض نیکی کرنے والے کو دوسری زمانہ کے ستر فرض ادا کرنے کا ثواب ملے گا گویا ”لیلتہ القدر” کی خصوصیت تو رمضان مبارک کی ایک مخصوص رات کی خصوصیت ہے، لیکن نیکی کا ثواب ستر گنا یہ رمضان مبارک کے ہر دن اور ہر رات کی برکت اور فضیلت ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان حقیقتوں کا یقین نصیب فرمائے اور ان سے مستفید اور متمتع ہونے کی توفیق دے۔ حدیث درج بالا میں رمضان المبارک کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ یہ صبر اور غمخواری کا مہینہ ہے دینی زبان میں صبر کے اصل معنی ہیں اللہ کی رضا کیلئے اپنے نفس کی خواہشوں کو دبانا اور تلخیوں اور ناگواریوں کو جھیلنا، ظاہر ہے کہ روزہ کا اول و آخر بالکل یہی ہے۔ اسی طرح روزہ رکھ کر ہر روزہ دار کو تجربہ ہوتا ہے کہ فاقہ کیسی تکلیف کی چیز ہے ، اس سے اس کے اندر ان غرباء اور مساکین کی ہمدردی اور غمخواری کا جذبہ پیدا ہونا چاہیے جو بے چارے ناداری کی وجہ سے فاقوں پر فاقے کرتے ہیں اس لئے رمضان کا مہینہ بلا شبہ صبر اور غمخواری کا مہینہ ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ رمضان کی جب پہلی رات ہوتی ہے تو شیاطین کو بند کردیا جاتا ہے اور مضبوط باندھ دیا جاتا ہے اور سرکش جنوں کو بھی بند کردیا جاتا ہے اور دوزخ کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں اس کا کوئی بھی دروازہ نہیں کھولا جاتا اور بہشت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور اس کا کوئی بھی دروازہ بند نہیں کیا جاتا اور ایک آواز دینے والا آواز دیتا ہے اے نیکی کے طالب آگے بڑھ کہ نیکی کا وقت ہے اور اے بدی کے چاہنے والے بدی سے رک جا اور اپنے نفس کو گناہوں سے باز رکھ کیونکہ یہ وقت گناہوں سے توبہ کرنے اور ان کو چھوڑنے کا ہے۔ روزے دار کے متعلق اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ روزہ خاص میرے لئے ہے ، اور میں ہی ( جس طرح چاہوں گا ) اس کا اجر و ثواب دوں گا۔ میرا بندہ میری رضا کے واسطے اپنی خواہش نفس اور اپنا کھانا پینا چھوڑ دیتا ہے ( پس میں خود ہی اپنی مرضی کے مطابق اس کی اس قربانی اور نفس کشی کا صلہ دوں گا )۔ روزہ دار کے لئے دو مسرتیں ہیںایک افطار کے وقت اور دوسری اپنے مالک و مولیٰ کی بارگاہ میں حاضری اور شرف ملاقات کے وقت اور روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بھی بہتر ہے ، یعنی انسانوں کیلئے مشک کی خوشبو جتنی اچھی اور جتنی پیاری ہے اللہ تعالیٰ کے ہاں روزہ دار کے منہ کی بو اس سے بھی اچھی ہے، اور روزہ دنیا میں شیطان و نفس کے حملوں سے بچائو کیلئے اور آخرت میں آتش دوزخ سے حفاظت کیلئے ڈھال ہے۔ روزہ دار کو چاہیے کہ وہ بے ہودہ اور فحش باتیں نہ کہے اور شور و غل نہ کرے اور اگر کوئی دوسرا اس سے گالی گلوچ یا جھگڑا کرے تو کہہ دے کہ میں رزہ دار ہوں۔ ایک حدیث میں فرمایا گیا ہے کہ” جو شخص روزہ رکھے لیکن برے کاموں اور غلیظ باتوں سے پرہیز نہ کرے تو اس کے بھوکے پیاسے رہنے کی اللہ کو کوئی ضرورت نہیں ہے۔” حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے رویت ہے کہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان عظیم ہے کہ” جنت کے دروازوں میں ایک خاص دروازہ ہے جس کو ”باب الریان” کہا جاتا ہے۔ اس دروازے سے قیامت کے دن صرف روزہ داروں کا داخلہ ہو گا، ان کے سوا کوئی اس دروازے سے داخل نہیں ہو سکے گا۔ اس دن پکارا جائے گا کہ کدھر ہیں وہ بندے جو اللہ کیلئے روزے رکھا کرتے تھے اور بھوک پیاس کی تکلیف اٹھایا کرتے تھے؟ وہ اس پکار پر چل پڑیں گے اس کے سوا کسی اور کا اس دروازے سے داخلہ نہیں ہو سکے گا۔ جب وہ روزہ دار اس دروازے سے جنت میں پہنچ جائیں گے تو یہ دروازہ بند کر دیا جائے گا، پھر کسی کا اس سے داخلہ نہیں ہو سکے گا۔” ریان کے لغوی معنی ہیں ”پورا پورا سیراب” یہ بھرپور سیرابی تو اس روزہ دار کی صفت ہے جس سے روزہ داروں کا داخلہ ہو گا۔آگے جنت میں پہنچ کر جو کچھ اللہ تعالیٰ کے انعامات ان پر ہوں گے ان کا علم تو بس اللہ تعالیٰ کو ہی ہے۔ اس مبارک ماہ کی ان تمام فضیلتوں کو دیکھتے ہوئے مسلمانوں کو اس مہینہ میں عبادت کا خاص اہتمام کرنا چاہیے اور کوئی لمحہ ضائع اور بے کار نہیں جانے دینا چاہیے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں رمضان المبارک کے ان قیمتی ایام سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی توفیق عطاء فرمائے، اورہمیں روزے سے اپنے نفس کا تذکیہ کرکے تقویٰ اختیار کرنے کی توفیق عطاء فرمائے تاکہ ہم خالق کو راضی کرنے والے بنیں ،آمین۔
٭…٭…٭
تحریر: رانا اعجاز حسین چوہان
ای میل:ra03009230033@gmail.com

اپنا تبصرہ بھیجیں