اپوزیشن کے استعفیٰ دینے کے مطالبے کے بعدوزیراعظم نے اپنافیصلہ سنادیا

0
138

وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ اسمبلی توڑینگے نہ ہی استعفٰی دینگے ، وزیراعظم کی زیر صدارت اہم مشاورتی اجلاس ہوا جس میں وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف،مریم نواز اور سابق چیئرمین نیب سیف الرحمان ،وفاقی وزراء اورپارٹی کے سینئر رہنمائوں نے بھی شرکت کی۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ جےآئی ٹی رپورٹ کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر اتحادی جماعتوں کو اعتماد میں لیا جائے گا، اپوزیشن کی طرف سے سینیٹ وقومی اسمبلی کے اجلاسوں کی ریکوزیشن پر اجلاس میں حکومت میں شامل جماعتوں کی مشاورت سے حکمت عملی اختیار کی جائے گی۔ مشاورتی اجلاس میں فیصلہ کیاگیا کہ وزیراعظم استعفیٰ دیں گے نہ اسمبلیاں توڑیں گے بلکہ ہر سطح پر آئینی، قانونی اور سیاسی جنگ لڑی جائے گی، بعض قوتوں کی طرف سے وزیراعظم کے استعفے کا کھیل پورا نہیں ہونے دیا جائے گا، اجلاس میں وزیراعظم نے خواجہ حارث ایڈووکیٹ کی سربراہی میں لیگل ٹیم تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ، لیگل ٹیم کے دیگر ارکان کا فیصلہ بعد کیا جائے گا جبکہ حکومتی لیگل ٹیم وفاقی وزیر قانون وانصاف زاہد حامد کی سربراہی میں جو پہلے ہی قائم ہو چکی ہے جن میں بیرسٹر ظفراللہ خان، انوشہ رحمن شامل ہیں، دونوں لیگل ٹیمیں جے آئی ٹی رپورٹ کے مختلف پہلوئوں کا جائزہ لیکر رپورٹ تیار کریں گی۔اجلاس میں حکومتی لیگل ٹیم نے وزیراعظم کو جے آئی ٹی رپورٹ کے مختلف پہلوئوں پر تفصیلی بریفنگ دی، اس رپورٹ کے خلاف تمام آئینی وقانونی پہلوئوں بارے آگاہ کیا۔ اجلاس میں اپوزیشن جماعتوں بالخصوص پیپلزپارٹی کی طرف سے شدید ردعمل اور وزیراعظم سے استعفے کے معاملے پر غوروخوض کیا گیا۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں پیپلزپارٹی کو صورتحال بارے اعتماد میں لینے اور پی پی قیادت سے ملاقات بارے مشاورت کی گئی، سینیٹ اور قومی اسمبلی کے اجلاس سے قبل وزیر خزانہ اسحاق ڈار پی پی رہنمائوں خورشید شاہ اور اعتزاز احسن سے بیک ڈور مشاورت کریں گے اور انہیں صورتحال بارے اعتماد میں لیں گے ۔ذرائع کے مطابق جے آئی ٹی بارے اتحادی جماعتوں سمیت اے این پی، آفتاب شیرپائو، ایم کیوایم کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی اور انہیں باور کرایا جائے گا کہ ایک سازش کے تحت منتخب وزیراعظم کو ہٹانے کی کوشش کی جارہی ہے ، جمہوری نظام کی مضبوطی اور پارلیمنٹ کی بالادستی کیلئے حکومت کی کھل کر حمایت کی جائے جیسا کہ ماضی میں تحریک انصاف کے دھرنے کے وقت سیاسی قیادت نے حکومت کی مکمل حمایت کی تھی۔ذرائع کے مطابق اس سلسلے میں وزیراعظم جلد مولانا فضل الرحمن، محمود خان اچکزئی، حاصل بزنجواور اعجازالحق سے ملاقات کریں گے جبکہ وزیرخزانہ اسحاق ڈار بیک ڈور ڈپلومیسی کے تحت پیپلزپارٹی سے بات چیت کریں گے ، اجلاس میں اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے وزیراعظم کے استعفے کے یک نکاتی ایجنڈے پر متوقع اتحاد بارے بھی مشاورت کی گئی۔اجلا س میں شریک وفاقی وزراء اور دیگر پارٹی رہنمائوں نے نواز شریف کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا،اجلاس میں رہنمائوں نے جے آئی ٹی کی رپورٹ کو سیاسی قرار دیا۔ ذرائع کے مطابق وفاقی وزرا نے کہا کہ جے آئی ٹی نے میڈیا رپورٹس اور الزامات پر انحصار کیا، یہ ایک سیاسی پارٹی کی رپورٹ معلوم ہوتی ہے ۔ وفاقی وزراء نے کہاہے کہ پاناما لیکس سازش ہے ،اس سازش کے ہدایتکار ملک سے باہر اداکار اندر ہیں ،ہمارے ہاتھ صاف ہیں،وزیر اعظم کی کوئی آف شور کمپنی نہیں،استعفیٰ نہیں دینگے ، اپوزیشن صبر کرے اور جمہوری نظام چلنے دے ۔جے آئی ٹی کی رپورٹ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرینگے ۔وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے پی آئی ڈی میں سعد رفیق اور بیرسٹر ظفراللہ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کل جے آئی ٹی رپورٹ آئی ہے ،ابھی صبر کیا جائے ، کل سے سپریم کورٹ کے باہر عدالت لگی ہے ،جے آئی ٹی رپورٹ حتمی فیصلہ نہیں ہے ،رپورٹ میں کئی خلا ہیں،بہت سے کاغذات پر دستخط نہیں ،کئی پڑھے نہیں جا سکتے ،اس میں پکوڑے بیچنے والے کاغذات بھی شامل ہیں ۔وزیر اعظم کی قانونی ٹیم رپورٹ کا جائزہ لے رہی ہے ،کسی غیر ملکی کمپنی میں وزیر اعظم کا نام نہیں ہے ،وزیر اعظم کے خلاف بیانیہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے ،اسحاق ڈار نے کہا کہ کچھ لوگ چہرے کی جھریاں چھپانے کے لئے بوٹکس کراتے ہیں جب ان کی باری آتی ہے تو ان کے وکلاء بیمار ہو جاتے ہیں ،1999 ئمیں مارشل لاء کے وقت نیب میرے گھرسے دستاویزات لے گئی تھی، 3 جولائی کوجے آئی ٹی نے مجھ سے ٹیکس ریٹرن سے متعلق پوچھا، مجھے کہاگیا 2003ء سے 2008ء تک آپ کی ٹیکس ریٹرن نہیں آئیں،اپنی ٹیکس ریٹرن جے آئی ٹی کوبھجوائیں جن کی رسیدیں موجودہیں، چیلنج کرتا ہوں سوئی سے لے کر مرسڈیزتک ہر چیز کا ریکارڈ موجود ہے ،2003 ئمیں اپنے دونوں بیٹوں کوخودمختارکردیا، بچوں کوقرض حسنہ دیا، بچوں کی طرف سے جوپیسے واپس آئے ریٹرن میں موجودہیں

وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے کہا ہے کہ کسی کو بھی پاکستان کے سیاسی استحکام سے کھیلنے کی اجازت نہیں دیں گے ، سول حکمرانوں کو 5سال مکمل کیوں نہیں کرنے دیئے جاتے ، پہلے 58ٹو بی تھی،آج عدالتی 58ٹو بی بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے ، سازشوں کے ذریعے ملکی ترقی روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے ، پائیدار ملکی ترقی کے لئے پاکستان کو دائروں کے سفر سے نکالنا پڑے گا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here