وزیر اعظم نواز شریف کامقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور نہتے افراد پر بھارتی فورسز کے وحشیانہ تشدد پر اظہار تشویش

0
74

وزیراعظم محمد نواز شریف نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور نہتے افراد پر بھارتی فورسز کے وحشیانہ تشدد پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے عالمی برادری پر زوردیا ہے کہ وہ کشمیریوں کی مشکلات کے خاتمے کیلئے اپنا کردار اداکرے، خطے اور دنیا بھر کو درپیش مختلف مسائل کے حل کیلئے پاکستان اور امریکہ کے درمیان پائیدار اور مضبوط اشتراک عمل ناگزیر ہے۔ وزیر اعظم اسلام آباد میں سینیٹر جان مکین کی قیادت میں امریکی سینیٹ کے پانچ رکنی وفد سے گفتگو کررہے تھے جس نے پیر کو وزیر اعظم ہاوس میں ان سے ملاقات کی۔ ملاقات میں دو طرفہ تعلقات کے فروغ اور خطے کی صورتحال سمیت اہم امور پر تبادلہ خیالات کیا گیا۔ ملاقات میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار، مشیر خارجہ سرتاج عزیز اور قومی سلامتی مشیر ناصر جنجوعہ بھی موجود تھے، اس موقع  پروزیراعظم نے وفد کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حکومت کی کوششوں کے بارے میں بتایا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سیکورٹی کی واضح طور پر بہتر صورتحال سے ہماری کامیابیوں کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان اور امریکا ایک دوسرے کے دیرینہ شراکت دار اور سٹرٹیجک اتحادی ہیں۔ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مضبوط پاک امریکا شراکت داری کا ہونا ضروری ہے،وزیر اعظم نے دہشتگردی کے خاتمے کے لیے حکومتی کارروائیوں سے امریکی وفد کو آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ چار سال کے دوران پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں کمی آئی جبکہ پاکستان کے اندر سیکیورٹی کی صورتحال بھی بہت بہتر ہوئی ہے۔ دوسری جانب اقتصادی صورتحال بہتر ہونے سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا ہے۔وزیر اعظم نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالہ سے بھی وفد کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ وادی میں انسانی حقوق کی صورتحال پر سخت تشویش ہے۔ امریکا مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں روکنے کے لیے اپنا کردار ادا کرے،وزیراعظم نے افغانستان اور بھارت کے ساتھ تعلقات کی بہتری کیلئے اپنی حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔ان کا کہنا تھا کہ ہم بھارت اور افغانستان کے ساتھ اچھی ہمسائیگی چاہتے ہیں۔ پاکستان افغانستان میں قیام امن کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔ افغانستان میں دیرپا قیام امن کے لیے پاکستان،افغانستان اور امریکا کے دوران شراکت داری ضروری ہے۔انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور نہتے افراد پر بھارتی فورسز کے وحشیانہ تشدد پر گہری تشویش ظاہر کی ۔وزیراعظم نے کشمیر کے نصب العین کی حقانیت پر زور دیا اور کہا کہ عالمی برادری کو کشمیری عوام کی مشکلات کے خاتمے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔انہوں نے ملک کی اقتصادی بحالی پر روشنی ڈالی جس کی بدولت سرمایہ کاروں کے پاکستان پر اعتماد اور دلچسپی میں اضافہ ہوا ہے۔وزیراعظم نے پھر کہا کہ پاکستان افغانستان میں پائیدار امن واستحکام کیلئے تمام کوششوں میں تعاون جاری رکھے گا۔انہوں نے کہا کہ افغانستان کے زیر قیادت امن عمل کے تحت مذاکرات کے ذریعے سیاسی تصفیے کیلئے ٹھوس کوششیں کرنا ہوں گی۔نواز شریف نے افغان مصالحتی عمل میں سہولت کیلئے چار فریقی رابطہ گروپ کی اہمیت پر بھی زور دیا۔سینیٹر میک کین نے اتفاق کیا کہ خطے میں امن ا ور استحکام کے حصول کیلئے امریکہ اور پاکستان کے درمیان مسلسل قریبی تعاون بہت ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکہ پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے۔ خطے میں امن کے لیے پاکستان اور امریکا کا تعاون ضروری ہے ،امریکی سینیٹروں نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کردار، قربانیوں اور کامیابیوں کو سراہا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here