34

مجھے تو بلاتے ہی جائیں گے، میں تو سمجھا تھا کہ آج یہ آخری پیشی ہے: عمران خان

اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے پارلیمنٹ ہاؤس اور ریاست کے زیر انتظام چلنے والے سرکاری ٹیلی ویژن پر حملوں کے مقدمے میں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی عبوری ضمانت مں مزید چار روز کی توسیع کر دی ہے اور انھیں 11 دسمبر کو دوبارہ پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔اس سے پہلے ملزم عمران خان ان مقدمات کی تفتیش کے لیے تھانہ سیکریٹریٹ میں تفتیشی افسر کے سامنے اپنا بیان ریکارڈ کروا کر عدالت میں پیش ہوئے ہیں۔عمران خان کے خلاف انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت چار مقدمات درج ہیں جن میں پارلیمنٹ ہاؤس اور پی ٹی وی پر حملوں کے علاوہ ایس ایس پی اسلام آباد پولیس کو تشدد کا نشانہ بنانے کے علاوہ پولیس کی تحویل سے ملزمان کو چھڑانے کے مقدمات بھی درج ہیں۔انسداد دہشت گردی کی عدالت نے جب ملزم عمران خان کی عبوری ضمانت میں چار روز کی توسیع کی تو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین کمرہ عدالت میں تو کچھ نہ کر سکے البتہ واپس جاتے ہوئے اُنھوں نے اس کا غصہ اپنے وکیل بابر اعوان پر نکال دیا۔عدالت میں پیشی کے موقعے پر عمران خان اپنے وکیل کے ساتھ اس وقت تک کھڑے رہے جب تک بابر اعوان نے اپنے دلائل مکمل نہیں کر لیے۔
ملزم عمران خان نے متعلقہ عدالت میں ایک درخواست دائر کی ہے جس میں انسداد دہشت گردی کی عدالت کے دائرۂ اختیار کو چیلنج کیا گیا ہے۔ اس درخواست میں کہا گیا ہے کہ اپنے حق کے لیے احتجاج کرنا دہشت گردی کے زمرے میں نہیں آتا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں