شہری قربانی کے جانور خریدتے وقت اطمینان کر لیں اس کے جسم پر چیچڑ تو موجود نہیں:پروفیسر غیاث النبی طیب

0
63

کانگو بخا ر سے بچاؤ کا واحد راستہ احتیاط ہے، دنیا میں اس مرض کے علاج کیلئے کوئی ویکسئین سامنے نہیں آئی
مویشیوں کی رہائشی جگہوں پر کیڑے مار ادویات کا سپرے ضروری ، بچوں کو جانوروں سے دور رکھیں،طبی ماہرین
علاج کرنے والے طبی عملے اور مریض کے تیمار دار کو مکمل احتیاط برتنی چاہیے ، جنرل ہسپتال میں کلینیکل سمپوزیم سے ڈاکٹروں کے لیکچر

کانگو وائرس سے بچاؤ اور شعور بیدار کرنے سے متعلق لاہور جنرل ہسپتال میں منعقدہ آگاہی کلینیکل سمپوزیم سے خطاب کرتے ہوئے پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹیٹیوٹ کے پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر غیاث النبی طیب نے کہا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے کہ کانگو بخار ایک موذی مرض ہے جس سے بچاؤ کیلئے صرف اور صرف احتیاط ہی بہترین علاج ہے ،دنیا بھر میں اس مرض سے بچاؤ کیلئے تا حال کوئی ویکسین سامنے نہیں آئی ۔انہوں نے کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ شہری عید الضحیٰ کے موقع پر جانور خریدتے وقت یہ اطمینان کر لیں کہ ان کے جسم پر چیچڑ تو موجود نہیں اور یہ جانور پوری طرح صحت مند ہیں۔اسی طرح گلی ،محلو ں اور دیگر مقامات سے جانوروں کی خریداری سے بھی اجتناب کرنا چاہیے۔ پنجاب انسٹی ٹیوٹ اف نیورو سائنسز میں منعقد ہونے والے کانگو وائرس سمینار سے پروفیسر عمران حسن خان ، پروفیسر خالد وحید ،  ڈاکٹرصدف منیر اور ڈاکٹر سید رضی حیدر زیدی نے کانگو وائرس کی وجوہات ، اس سے پیدا ہونے والی پیچیدگیوں اور اس وائرس سے محفوظ رہنے کیلئے احتیاطی تدابیر اور طریقہ علاج کے بارے میں تفصیلاً آگاہی دی جبکہ سمپوزیم میں طبی ماہرین ،میڈیکل کے طلبا و طالبات ،ذرائع ابلاغ کے نمائندوں،نرسنگ سٹاف ، طالبات اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔طبی ماہرین نے کہا کہ اس مرض کی نشاندہی کے بعد مریضوں کا علاج معالجے کرنے والے طبی عملے اور تیمار داروں کو مکمل احتیاط کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان تمام لوگوں کو ہلکے رنگ کے لباس اور گاؤن پہننے چاہئیں، ہاتھوں میں دستانیں اور منہ پر ماسک پہننا چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ چیچڑوں کو تلف کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جا نی چاہیے اور مویشیوں کی رہائشی جگہوں پر مناسب وقفوں کے ساتھ سپرے ہونا چاہیے نیز بچوں کو جانوروں سے کھیلنے اور گھمانے کیلئے لے جانے میں بھی احتیاط برتنی چاہیے ۔طبی ماہرین نے کہا کہ عید الضحیٰ کی آمد آمد ہے لہذا اشد ضرورت ہے کہ گردوپیش کے ماحول کو صاف رکھنے کے ساتھ جانوروں کی خریداری اور قربانی تک کے معاملات میں بہت زیادہ احتیاط سے کام لیا جائے جبکہ کانگو وائرس کی بابت اپنے اردگرد کے لوگوںکو بھی آگاہی دیں تاکہ اس وائرس کے بارے میں عوام میں پایا جانے والا خوف کم ہو اور وہ احتیاطی تدابیر پر زیادہ توجہ مرکو ز کر سکیں۔ سمینار سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر غیاث النبی طیب نے بتایا کہ کانگو فیور ایک وبائی مرض ہے وائرس کا سائنسی نام کریمین ہیمر یجک کانگو فیور ہے جس کی 4اقسام ہوتی ہیں اگر کسی کو کانگو وائرس لگ جائے تو اس سے انفیکشن کے بعد جسم سے خون نکلنا شروع ہو جاتا ہے ،خون بہنے کے سبب ہی مریض کی موت واقعہ ہوجاتی ہے ، انہوں نے بتایا کہ کانگو وائرس جانور وں کی کھال سے خون چوسنے والے “ٹکس “کے ذریعے پھیلتا ہے جسے عرف عام میں چیچڑ کہا جاتا ہے اور یہ چیچڑ بھیڑبکریوں ،بکرے ،گائے ، بھینسوں اور اونٹ کی جلد پر پائے جاتے ہیں جیسے ہی کوئی شخص چرواہا ،قصاب یا عام لوگ اس جانور سے رابطے میں آتے ہیں یہ ٹکس انسانوں میں منتقل ہو جاتا ہے اور یوں کانگو وائرس جانور سے انسانوں اور ایک انسان سے دوسرے جانور میں منتقل ہو تا ہے انہوں نے بتایا کہ متاثرہ شخص تیز بخار،آنکھوں میں سوجن ،وائٹ سیلز کی کمی اور پھیپھڑے ،جگر اورگردے ناکارہ ہو جاتے ہیں اگر بر وقت علاج کیا جائے تو دس دن بعد مریض صحت یاب ہونا شروع ہو جاتا ہے لیکن اگر مرض شدت اختیار کر جائے تو انسان موت کے منہ میں چلا جاتا ہے ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here