شہباز شریف سیاست میں نواز شریف کو باپ کا درجہ دیتے ہیں : جاوید ہاشمی کا انکشاف

0
52

سینئرسیاستدان مخدوم جاویدہاشمی نے این اے 120میں بیگم کلثوم نوازکی بھرپورحمایت کا اعلان کرتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ ضمنی الیکشن میں حلقہ کے عوام کا فیصلہ ایک اور چار کے فرق سے ہوگا،کلثوم نوازکو کوئی نہیں روک سکتا وہ بھاری اکثریت سے کامیاب ہوں گی

شہبازشریف اورنوازشریف میں ہزاراختلافات ہوں لیکن شہبازشریف نوازشریف کو سیاست میں باپ کا درجہ دیتے ہیں، چودھری نثار اور نوازشریف کے درمیان اختلافات معمولی ہیں،چوہدری نثار نوازشریف سے جدانہیں رہ سکتے۔بھارت کی پاکستان کو تنہا کرنے کی کوششیں ناکام ہوگئیں۔ورلڈ الیون کا آناپاکستان کی جیت ہے۔جنوبی پنجاب جلد صوبہ بنے گا اور ملتان اس کا دارالخلافہ ہوگا،پچھلے چالیس برسوں میں ملتان کی تعمیروترقی کیلئے میں نے 350تعلیمی وصحت کے اداروں سمیت ملتان انٹرنیشنل ائیرپورٹ ،فلائی اوورز،روڈز اور سیوریج کے منصوبے مکمل کرائے جو خطے کا کوئی سیاستدان نہیں کرسکا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ملتان پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ سینئرسیاستدان مخدوم جاوید ہاشمی نے کہا کہ این اے 120میں میری ہمدردیاں اور حمایت بیگم کلثوم نوازکیلئے ہے ،کلثوم نوازمیری بہن ہیں،جمہوریت اور مشکل وقت میں پارٹی کیلئے انہوں نے بہت قربانیاں دیں،این اے 120سے میں نے بھی دوبار الیکشن میں حصہ لیااس حلقے کے لوگوں نے ہمیشہ مسلم لیگ کوووٹ دیا ۔جاوید ہاشمی نے کہا کہ نوازشریف اور شہباز شریف کو41سال سے جانتا ہوں ۔ان دونوں بھائیوں میں لاکھ اختلافات ہوسکتے ہیں لیکن وہ کبھی علیحدگی کا سوچ نہیں سکتے۔شہباز شریف ہمیشہ اپنے بڑے بھائی میاں نواز شریف کو سیاست میں باپ کا درجہ دیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کے اندر اختلاف رائے ہوتا ہے۔چوہدری نثار کو میں جانتا ہوں وہ مسلم لیگی ہیں اور رہیں گے۔ خواجہ آصف اور چوہدری نثار کے مابین اختلافات کے سوال پر جاوید ہاشمی نے کہا کہ ان دونوں کے اختلافات بہت پرانے ہیں جب میں پارلیمانی لیڈر تھا تب بھی چودھری نثار اور خواجہ آصف کے درمیان گاڑھی چھنتی تھی ،اب کیا صورتحال ہے میں نہیں جانتا۔انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ چھان بین کرنے والا ادارہ نہیں بن سکتا۔نیب میں بہت سے لوگوں کی تذلیل کی جاتی ہے کیونکہ میں خود اس مرحلے سے گزرا ہوں۔سول قیادت اور عسکری قیادت کی بات کرنے والوں سے کہتا ہوں کہ ملک کی قیادت کو پارلیمینٹ منتخب کرتی ہے اور میں نے جنرل کیانی سے بھی کہا تھا کہ پارلیمینٹ ملک کی ماں ہے،ہم آپ کے ساتھ ہیں لیکن اپنی ماں کوکمزورنہ ہونے دیں۔انہوں نے کہا کہ مجھے عوام نے گیارہ مرتبہ منتخب کیا۔دو بڑی سیاسی جماعتوں مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف کا صدر رہا،مجھے عمران خان نے پارلیمانی بورڈ کا چیئرمین بنایا بنایا،شاہ محمود اور جہانگیر ترین بھی کمیٹی کے ممبر تھے۔انہوں نےکہا کہ میں نے پارلیمنٹ کو بچانے کیلئے تحریک انصاف چھوڑی۔مجھے تحریک انصاف میں فاروڈبلاک بناکر وزیراعظم کا پروٹوکول دینے کی آفر کی گئی لیکن میں نے انکار کردیا کیونکہ میری سیاست جمہوریت کو بچانے کیلئے ہے نہ کہ سیاسی جماعتوں کو ختم کرنے کیلئے۔ ملک میں سیاسی جماعتیں پہلے ہی کم ہیں۔جاوید ہاشمی نے کہا کہ میں متوسط طبقے کا آدمی ہوں تعلیم اور صحت کے شعبوں میں ترقی میری اولین ترجیح ہے۔انہوں نے کہا کہ شہباز شریف 1122 کو پسند نہیں کرتے تھے لیکن میں نے شدید مخالفت کرکے انہیں 1122 کے منصوبے کو آگے بڑھانے کیلئے تیار کیا۔انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب جلد صوبہ بنے گا اور ملتان دارالخلافہ ہوگا اوراس مقصدکیلئے جدوجہد شروع کردی ہے۔ورلڈ الیون کے متعلق سوال کے جواب میں جاوید ہاشمی نے کہا کہ ہندوستان کی پاکستان کو تنہا کرنے کی کوششیں ناکام ہوگئیں۔ورلڈ الیون کا آنا پاکستان کی جیت ہے۔ ملتان کے لوگوں کی خواہش ہے کہ یہاں کا کرکٹ سٹیڈیم بھی بحال ہو اورمیں اس کیلئے جس حد تک ہوسکے گا اپنی کوشش کروں گا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here