345

روپےکی قدرمیں کمی کاوہ فائدہ جوشائد ہی آپ کومعلوم ہو

اسٹیٹ بینک کے ڈیٹا کو دیکھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ مالی سال 2015ء میں پاکستانی کرنسی 3.1 فیصد، 2016ء میں 2.8 فیصد اور 2017ء میں 0.01 فیصد کمی کا شکار ہوئی، مگر موجودہ ماہ کے آغاز پر اچانک پاکستانی کرنسی کی قدر میں کمی کی گئی اور یہ 105.50 سے گر کر 110.50 روپے تک گرگئی۔

اس طرح روپے کی قدر میں ہونے والی کمی تقریباً ساڑھے پانچ فیصد رہی ہے اور خدشہ ہے کہ کرنسی کو بتدریج گراوٹ کی جائے گی۔پاکستان کو بیرونی وسائل میں مشکلات گرتی ہوئی برآمدات اور بڑھتی ہوئی درآمدات کی وجہ سے تجارتی خسارے کا سامنا ہے تو دوسری طرف بیرونی قرضوں کی ادائیگی بھی مشکل ہوتی جارہی ہے۔ ایسے میں کرنسی کی قدر کو کم کرنے سے صورتحال کو بہتر اور مستحکم کیا جاسکتا ہے۔روپے کی قدر میں کمی سے پاکستان میں تیار ہونے والی مصنوعات سستی ہوجائیں گی، جبکہ بیرونِ ملک سے پاکستان لائی جانے والی اشیاء کے مہنگا ہونے کا امکان ہے۔ اس عمل سے ایسی مقامی صنعتیں جوکہ سستی درآمدات کی وجہ سے مقابلے کی سکت کھوچکی تھیں اُن میں بھی بہتری ہوگی اور ان کی پیداوار میں اضافے کا امکان ہے۔قدر میں اس کمیکا سب سے زیادہ فائدہ سمندر پار پاکستانیوں کو ہوگا۔ روپے کی سرکاری قدر میں کمی سے اب سمندر پار پاکستانیوں کو 7 فیصد تک اضافی پاکستانی کرنسی مل سکے گی اور اس سے بھی ترسیلات میں اضافے کا رجحان پیدا ہوسکتا ہے۔پاکستان میں روپے کی قدر میں کمی کو بھی زبیر طفیل مثبت کہتے ہیں، کیونکہ اِس سے نہ صرف برآمدات میں اضافہ ہوگا بلکہ درآمدات میں کمی ہوگی۔ پاکستانی کی برآمدات مسلسل کئی سال سے گراوٹ کا شکار تھیں اور زبیر طفیل کا کہنا ہے کہ مالی سال کے پہلے 5 ماہ میں برآمدات میں 11 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے، جبکہ درآمدات بھی خطرناک سطح پر موجود ہیں اور یہ 60 ارب ڈالر سے تجاوز کرچکی ہیں۔افراطِ زر یا قیمتوں میں اضافے کے شرح۔۔۔پاکستان میں عمومی طور پر افراطِ زر درمیانے درجے میں رہتا ہے، مگر گزشتہ چند سال کے دوران ایندھن اور کموڈیٹیز کی عالمی مارکیٹ کریشن کرجانے اور قیمتوں میں تیزی سے گراوٹ نے معیشت میں قیمتوں میں اضافے کی شرح یا افراطِ زر کو کم ترین سطح پر مستحکم رکھا ہوا ہے۔سال 2017ء بھی افراطِ زر میں کمی کا سال ثابت ہوا۔ جنوری 2017ء میں عام افراطِ زر 3.7 فیصد، اشیاء خور و نوش کی قیمتوں میں اضافہ 2.6 فیصد اور نان فوڈ نان انفلیشن 4.4 فیصد رہا۔ اسی طرح سال بھر انفلیشن رینج باونڈ رہا اور نومبر میں عمومی افراطِ زر 4 فیصد، فوڈ انفلیشن 2.4 فیصد اور نان فوڈ انفلیشن 5 فیصد سے زائد رہا ہے۔ماہرین کا خیال ہے کہ دسمبر میں روپے کی قدر میں کمی کے اثرات انفلیشن یا افراطِ زر پر بھی پڑیں گے جس سے افراطِ زر میں اضافے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔ روپے کی قدر میں کمی سے سب سے زیادہ متاثر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت ہوتی ہیں اور اس میں 7 فیصد تک اضافے کی توقع ہے۔پاکستان کی معیشت کا جائزہ لیا جائے تو 2017ء مجموعی طور پر ایک بہترین سال ثابت ہوا۔ جس میں ملکی معیشت میں توانائی کے بحران کو کم کرنے میں خاطر خواہ کامیابی ملی مگر ملکی معیشت بیرونی کھاتوں کے خسارے کی وجہ سے زرِمبادلہ ذخائر میں کمی، روپے کی ناقدری کا شکار رہی ہے۔اس تمام تر صورتحال میں ملکی معیشت کو بہتر بنانے کے لئے مزید اصلاحات کی ضرورت ہے، جبکہ 2018ء میں سی پیک اور عمومی انفرااسٹرکچر میں اضافے سے ملکی معیشت میں مزید بہتری کے امکانات موجود ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں