سرینگر۔۔۔ جموں کشمیر کی موجودہ صورتحال ایک خونین جنگ کا منظر پیش کررہی ہے، سید علی گیلانی بھارت مسئلہ کشمیر کا فوجی حل نافذ کرنا چاہتا ہے

0
97

حریت کانفرنس کے  چیرمین    سید علی گیلانی  نے معرکۂ پلوامہ میں جامِ شہادت نوش کرنے والے مجاہدین کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے کہا کہ جموں کشمیر کی موجودہ صورتحال ایک خونین جنگ کا منظر پیش کررہی ہے، جس میں سب سے زیادہ مصائب ومشکلات کا سامنا جموں کشمیر کے عوام کو کرنا پڑ رہا ہے اور انسانی جانوں کے اس زیاں کے لیے بھارت کی ضد اور ہٹ دھرمی ذمہ دار ہے۔ بھارت مسئلہ کشمیر کا فوجی حل نافذ کرنا چاہتا ہے اسی لیے یہاں ہر چھوٹی بڑی فوجی معرکہ آرائی میں بھارت کی قابض افواج تمام تر نزلہ سول آبادی پر گرارہی ہے۔ ضرورت سے زیادہ فوجی طاقت کو استعمال میں لایا جارہا ہے۔ رہائشی مکانات کو تباہ وبرباد کیا جارہا ہے اور مکینوں کو زدوکوب کرکے بدترین مظالم کا شکار بنایا جارہا ہے۔ حریت چیرمین نے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے حریت کانفرنس کے ٹھوس موقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس مسئلے کے پُرامن تصفیے کے لیے استصواب رائے ایک تسلیم شدہ جمہوری فارمولہ ہے۔ پاکستان اور جموں کشمیر کے عوام کی غالب اکثریت اس فارمولے کو تسلیم کرتی ہے، جبکہ بھارت اُن تمام وعدوں سے مکر رہا ہے جو اس نے اقوامِ متحدہ کے ذمہ دار ادارے کے سامنے کئے ہیں۔ بھارت کی اس وعدہ خلافی کے نتیجے میں مسئلہ کشمیر امنِ عالم کے لیے ایک سنگین خطرہ بنا ہوا ہے۔ بزرگ راہنما نے جنگ کی ہولناک تباہیوںسے نجات پانے کے لیے اقوامِ عالم سے ایک بار پھر مسئلہ کشمیر کے پُرامن تصفیے کی جانب اپنی ذمہ داریوں کا احساس دلاتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر ایک انسانی مسئلہ ہے اور اسے حل کرنے کے لیے جموں کشمیر کے عوام نے آج تک مثالی قربانیاں پیش کی ہیں اور اسی مقصد کے حصول کے لیے پُرامن سیاسی تحریک کو جاری وساری رکھے ہوئے ہیں۔ گیلانی  نے بھارت کی قومی تحقیقاتی ایجنسی (NIA)کی طرف سے حریت راہنماؤں الطاف احمد شاہ، پیر سیف اللہ، راجہ معراج الدین اور نعیم احمد خان کے خلاف مزید 20دنوں کے لیے عدالتی ریمانڈ حاصل کرنے کے علاوہ لبریشن فرنٹ کے سینئر راہنما نور محمد کلوال اور اپنے دو فرزندوں ڈاکٹر نعیم گیلانی اور ڈاکٹر نسیم گیلانی کو NIAکے ہیڈکوارٹر دہلی میں حاضر ہونے اور ان کی تفتیش میں طول دینے کی ظالمانہ کارروائیوں کا مقصد حریت پسند قیادت کو اپنے موقف میں نرمی لانے کے لیے خاطرخواہ دباؤ بڑھایا جانا ہے جس کے حوالے سے NIAکو کچھ حاصل ہونے والا نہیں ہے اور نہ ہی ان حربوں سے جموں کشمیر کے عوام اور حریت پسند قیادت مرعوب ہوسکتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ بھارت ان اوچھے ہتھکنڈوں سے بالاتر ہوکر مسئلہ کشمیر کی متنازعہ حیثیت کو تسلیم کرکے اس کے پائیدار تصفیے کے لیے رضامند ہوجائے تاکہ جنوبی ایشیا کی ڈیڑھ ارب سے زائد انسانی آبادی کو کسی مہیب ایٹمی جنگ کے خطرے سے نجات حاصل دلایا جاسکے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here