کشمیری نژاد …علامہ محمد اقبال

تحریروتحقیق:پروفیسرراجا رحمت علی خاں

علامہ محمد اقبال ٩نومبر ١٨٧٧ء کو سیالکوٹ میں پیداہوئے آپ ے والد کا نام شیخ نور محمد تھا۔ آپ کشمیری برہمن تھے اور آپ کی ذات سپرو تھی ۔آپ کو اپنے آبائی وطن کشمیر سے بہت محبت تھی جس کا اظہار انہوں نے بار ہا کیا۔ اقبال اور کشمیر کے حوالے سے کئی کتابیں مقالات اور مضامین لکھے جا چکے ہیں ”اقبال اور کشمیر” کے نام سے جگن ناتھ آزاد ، ڈاکٹر صابرآفاقی اور سلیم خان گمی نے کتابیں تحریر کی ہیںجن کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ پروفیسر عبدالکریم نے ایم فل کی سطح پر ایک مقالے میں لیا۔ ٢٢٤ صفحات پر مشتمل یہ مقالہ انہوں نے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے شعبہ اقبالیات میں پیش کیا یہ تحقیقی کام انہوں نے ممتاز محقق ڈاکٹر عطش درانی کی نگرانی میں مکمل کیا۔ڈاکٹر ظفرحسین ظفر اپنے کشمیر کے سفرنامے ”وادی گل پوش میں ” کشمیر یونیورسٹی کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ ”یونیورسٹی کی بندش، آتش وآہن ،بارود کے دھوئیں اور جلتے ہوئے کھیتو ں اور باغات کے باوجود ان بیس سالوں (١٩٩٠سے ٢٠١٠)میں اقبال انسٹی ٹیوٹ نے اقبال کا نوربصیرت عام کرنے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی اقبال انسٹی ٹیوٹ میں ایم فل اور پی ایچ ڈی کا کام ١٩٧٩ میں شروع ہوا۔ اب تک ستر سے زائد ایم فل ۔پی ایچ ڈی کے مکالات لکھے جاچکے ہیں۔ کشمیریوں کی علامہ محمد اقبال سے محبت کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتاہے کہ دنیا کی سب سے پہلی”اقبال چیئر ” کشمیر یونیورسٹی (سرینگر ) میں ١٩٧٧ء میں قائم ہوئی ۔پہلی عالمی اقبال کانگرس (لاہور١٩٧٧ئ) کے موقع پر جناب جگن ناتھ آزاد نے صدر پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم سے بے تکلفانہ پوچھا! کیا پاکستان میں اقبال چیئر قائم ہے؟ جنرل صاحب کو علم نہ تھاانہوں نے قریب کھڑے ہوئے وائس چانسلرپنجاب یونیورسٹی ڈاکٹر خیرات محمد ابن رسا کی طرف دیکھا جواب ملا ”نہیں ” آزاد صاحب نے قدرے فاتحانہ انداز میں کہا ” کشمیر یونیورسٹی پنجاب یونیورسٹی سے آگے نکل گئی ” ۔ اس گفتگو کا نتیجہ تھا کہ جنرل صاحب نے کانگرس کے موقع پر پنجاب یونیورسٹی میں اقبال چیئر قائم کرنے کی ہدایات جاری کردیں۔ اور بعدازاں اس پر پروفیسر محمدمنورمرحوم کا تقرر ہوا۔ ١٩٨٠ء میں آزاد کشمیر میں پہلی یونیورسٹی آزادجموں وکشمیر کے نا م سے قائم ہوئی ۔ تیس سال سے زائد عرصہ گزرجانے کے باوجود نہ ہی اس یونیورسٹی میں اقبال چیئر قائم ہوئی اور نہ ہی شعبہ اردو قائم ہوسکا۔حالانکہ اردو آزادکشمیر اور مقبوضہ کشمیر کی سرکاری زبان ہے۔اور مملکت خداداد پاکستان کی قومی زبان ہے۔علامہ محمد اقبال کی شاعری کوسمجھنے کے لئے فارسی اور اردو جاننا ضروری ہے۔مقام افسوس ہے کہ آزادکشمیر کی اس بڑی دانشگاہ میں اردو کی تدریس کا کوئی بندوبست نہیںہے۔آزادریاست جموں وکشمیر میں اقبال شناسی کی روایت تقریباً ختم ہورہی ہے۔
علامہ اقبال کی شاہکار شاعری ”پیام مشرق ” اور’جاوید نامہ” میں کشمیر اوراس وادی کے مجبور اور لاچار لوگوں کا تذکرہ آپ نے بڑ ے دکھ اور سوز سے کیا ہے۔ ١٩٠٤ ء تک کی شاعری میں اقبال کے ہاں ایک قطعے کی حد تک ہے جس کا ایک شعر یہ ہے ۔
ورثے میں ہم کو آئی آدم کی جائداد
جو ہے وطن ہمارا وہ جنت نظیر ہے
اہل کشمیر اور کشمیر سے محبت رکھنے کے باوجود آپ کشمیر ١٩٢١ء تک نہ دیکھ سکے ١٩١٧ء میں منشی محمد دین فوق کی کتاب ”رہنمائے کشمیر ” کا مطالعہ کرنے بعد کشمیر دیکھنے کا شوق پیدا ہوا اس طرح علامہ محمد اقبال جون ١٩٢١ ء میں پہلی مرتبہ کشمیر آئے اور سری نگر میں کافی دن گزارے ۔ اقبال نشاط باغ اور شالامار باغ بھی گئے ۔جولائی ١٩٢١ ء کے پہلے عشرے میں اقبال لاہور واپس آگئے ۔ کشمیر کے اس سفر کے دوران آپ نے اس وادی کے مجبور و بے بس لوگوں کو بہت قریب سے دیکھا اور ان کے درد کو محسوس کیاان کے مصائب و آلام کو اپنی کتاب ”پیام مشرق ” میں ” کشمیر” ”غنی کاشمیری” اور ”ساقی نامہ ” جیسی شاہکار نظمیں لکھ کر بیان کیا آپ نے نظم” ساقی نامہ ” نشاط باغ میں بیٹھ کر لکھی ساقی نے خدا سے دعا کی کہ اے خدا کشمیریوں کے دلوں کو گرما دے تاکہ اس خاکستر سے چنگاریاں پیدا ہوں اور مردہ جسموں میں سوز کی لہر دوڑ جائے نظم ”کشمیر” میں اقبال نے کشمیر کے سر سبز و شاداب پہاڑوں ، مرغزاروں اور گل پوش وادیوں کا ذکر کیا ہے اور اپنے آپ سے مخاطب ہو کر کہا ہے کہ پہلے ان نعمتوں کو دیکھ اور پھر اپنے آپ پر نظر ڈال کہ تو اس لائق ہے۔ دوسری نظم میں ملا طاہر غنی کے حوالے سے ایک واقعہ بیان کیا ہے کہ جب وہ گھر سے باہر جاتے تو دروازہ کھول دیتے اور جب گھر میں ہوتے تو دروازہ بند کردیتے اس حوالے سے جب لوگوں نے دریافت کیا تو بولے کہ گھر کی سب سے قیمتی چیز میں ہوں اس لیے جب گھر میں ہوتا ہوں تو دروازہ بند کردیتا ہوں۔ کشمیر کے فارسی ادب کی اقبال کے دل میں بڑی قدر و منزلت تھی۔ ملا طاہر غنی کاشمیری کی شخصیت سے بڑے متاثر تھے اور ان کے بعض اشعار پر تضمینیں بھی لکھیں۔ حضرت سید علی ہمدانی کی عظمت بزرگی اور غیر معمولی شخصیت سے اس قدر متاثر تھے کہ اپنی کتاب ” جاوید نامہ” میں ان کا ذکر پر خلوص الفاظ میں کیا جاوید نامہ کی شاعری کا جائزہ لیتے ہوئے محمد شفیع بلوچ رقم طراز ہیں کہ ”علامہ کا کشمیر سے ایک قلبی تعلق تھا اور اس لیے وہاں کی دو عظیم شخصیات ،امیر کبیر سید علی ہمدانی اور معروف کشمیری شاعر ملا طاہر غنی کو جنت الفردوس میں دکھایا ہے۔ امیر کبیر سید علی ہمدانی نجیب الطرفین سید تھے۔ شیخ علی دوستی سے بیعت، حافظ قرآن، مشرق و مغرب کے سیاح ١٧٠ کتب کے مصنف ، شاہ ہمدان کی دینی و علمی عظمت و فضیلت کا علامہ اقبال اعتراف کرتے ہیں۔
سید السادت ، سالار عجم
دست او معمار تقدیر امم
تا غزالی درس اللہ ہو گرفت
ذکر و فکر از دودمان او گرفت
زندہ رود،(اقبال) شاہ ہمدان سے ان کی تصنیف ” خواطریہ” کے حوالے سے جس کا موضوع و ساوس شیطانی اور اقسام قلوب ہے، مختلف سوالات کرتا ہے اور دریافت کرتا ہے کہ خدا نے شیطان کو کیوں پیدا کیا ؟ شاہ ہمدان کہتے ہیں :خدا نے ابلیس کو اس لیے پیدا کیا ہے کہ انسان اس کا مقابلہ کر کے اپنی خودی کا کو مستحکم کر سکے’۔علامہ اقبال کشمیر کی محکومی و مظلومی کا تذکرہ یوں کرتے ہیں: کشمیری ایک ذہین ،ہوشیار اور حسین قوم ہے۔ دینا میں اس کا ہنر معجزے سے کم نہیں ۔ اس کا پیالہ اپنے ہی لہو سے بھرا ہوا ہے۔ میری بانسری کے گریہ کاموضوع یہی قوم ہے۔ یہ جب اپنی خودی سے بے نصیب اور محروم ہوا تو وہ اپنے ہی وطن میں اجنبی ہو کر رہ گیا۔ یہ مت سمجھو کہ یہ قوم ہمیشہ سے اسی طرح تھی۔ کسی زمانے میں یہ صف شکن ، جانباز اور بہادر قوم تھی،۔ اہل کشیمر کی عبرت ناک پستی کے سلسلہ میں شاہ ہمدان نے ایک قیمتی نکتے کی وضاحت کی ہے’ جو قوم مرنے سے ڈرنے لگتی ہے، وہ مر جاتی ہے اور جو قوم موت کو محبوب رکھتی ہے ، وہ زندہ ہو جاتی ہے’۔ زندہ رود شاہ ہمدان سے سوال کرتا ہے کہ تخت و تاج کی اصلیت کیا ہے؟ شاہ ہمدان فرماتے ہیں بادشاہت کی اصل یا رضائے اقوام ہے یا جنگ و جدل۔’ اس کے بعد غنی کشمیری کی زبان سے علامہ نے اپنا محبوب فلسفہ حیات یوں بیان کیا ہے موج کا ساحل کے اندر رہنا سراسر خطا ہے اور ساحل سے موافقت مرگ دوام ۔ موج اس وقت ہی طوفان بن کر پہاڑ کاٹ سکتی ہے، جب وہ ساحل سے باہر نکل جائے’۔ غنی زندہ رود سے ایک نوائے مستانہ کی فرمایش کرتا ہے۔ جواب میں زندہ رود ”زبور عجم ”کی ایک غزل سناتا ہے، جس کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ عقل تیرے لیے چراغ راہ گزر ہے اور عشق ایاغ ہے ، اس سے تو عناصر کو مسخر کر سکتا ہے۔ زندہ رود کہتے ہیں کہ میری غزل سن کر حوروں بلکہ تمام ساکنان بہشت کے دل میں کشمیریوں کے لیے جذبہ ہمدردی بیدار ہو گیا۔’جاوید نامہ” ہی میں کشمیریوں کی فروخت پر آپ کے یہ شاہکاراشعار بھی ہیں۔
بادصبا ! اگر بہ جنیوا گزرکنی
حرفے زمابہ مجلس اقوام بازگوئے
دہقاں و کشت و جوئے و خیاباں فروختند
قومے فروختند و چہ ارزاں فروختند
١٩٣١ ء کی تحریک حریت کے دنوں میں اقبال کشمیر کے حالات کا مطالعہ کرتے رہے آپ کشمیری مسلمانوں کے سب سے بڑے حامی تھے کشمیریوں کی بے بسی اور بے چارگی سے پنجاب کے مسلمان بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے ۔کشمیر کمیٹی نے ایک دستوری اور پر امن تحریک چلائی اور آئینی ذرائع سے حقوق حاصل کرنے کی کوشش کی علامہ محمد اقبال اس کمیٹی کے سرگرم رکن رہے اور اس کمیٹی کی آپ نے صدارت بھی کی ۔کشمیر کمیٹی کی کوششوں کی وجہ سے ہی ”گلانسی کمیشن ” مقرر ہوا جس نے مکمل تحقیقات کے بعد کشمیر میں مکمل مذہبی آزادی کی سفارش کی ۔ جب آپ آل انڈیا مسلم کانفرنس کے صدر تھے تو آپ نے مسئلہ کشمیر کو اس پلیٹ فارم پر بھی پیش کیا اس دور کے چند اخباری بیانات ایک کتاب ”حرف اقبال ” میں محفوظ ہیں ۔ یہ کتاب عبدالطیف شیروانی نے مرتب کی۔ کشمیر کے حوالے اسے اقبال کے چند اشعار زبان زد عام ہیں ۔
توڑ اس دست جفا کیش کو یارب جس نے
روح آزادی کشمیر کو پامال کیا
جس خاک کے ضمیر میںہے آتش چنار
ممکن نہیں کہ سرد ہو وہ خاک ارجمند
آہ ! یہ قوم نجیب و چرب دست و تر دماغ
ہے کہاں روز مکافات اے خدائے دیر گیر

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.