91

ر یاست جمو ں و کشمیر کا نسلی اور لسانی جائزہ ۔۔۔ایک نظر میں

ر یاست جمو ں و کشمیر کا نسلی اور لسانی جائزہ ۔۔۔ایک نظر میں
عامر جہانگیر
ریاست جموں و کشمیر 16مارچ 1846کو گلاب سنگھ اور انگریز سرکار کے درمیان ہونے والے معائدہامرتسرکے نتیجہ میں معرض وجود میں آئی ۔بعد میں مہاراجہ رنبیر سنگھ کے ابتدائی دور میں گلگت بلتستان کو بھی طاقت کے بل بوتے پر ریاست جموں کشمیرکا حصہ بنایاگیا۔ ریاست جموں و کشمیر براعظم ایشیاء کے تین ایٹمی ممالک چائنہ،پاکستان اور ہندوستان کے درمیان واقع ہے۔ ریاست کے طو ل و عرض میں موجود مختلف قبائل گروہ،چھوٹی چھوٹی قومیتوں کے مالک لوگ آباد ہیں ۔جو مختلف زبانون کا استعمال کرتے ہیں ۔یہ تمام گروہ، قبیلے یا قومیں ایک عظیم قوم کشمیری قوم کا حسین گلدستہ ہیں۔ریاست جموں و کشمیر میں آباد قبائل میں جاٹ،گجر،ڈوگرہ،چب راجپوت، بمبہ و کھکھ قبائل ، سدوزئی، ملدیال، عباسی،ہانجی، کشمیری، بلتی،لداخی، سید اور درد وغیرہ شامل ہیں۔ تمام قبائل اپنے اپنے علاقوں میں ضروریات زندگی کو پورا کرنے اور رابطہ کاری کے لیے مختلف زبانوں کا استعمال کر تے ہیں۔ جن میں ہندکو،پہاڑی، گوجری،شینا،لداخی،کنڈل،شاہی،بلتی،ڈوگری، بروشسکی،پونچھی،پورنگی،اورخور(چترالی)وغیرہ شامل ہیں۔
ریاست جموں و کشمیر میں گردنواح سے محتلف قبائل، گروہ آکر آباد ہوتے رے اور اپنے اپنے رسم و رواج اور کلچرو ثقافت کا بدستور فروغ کرتے رہے اور بالآخر یہ ایک قوم بن گئے۔ مختلف قبائل پر مشتمل یہ قوم کشمیری قوم کہلاتی ہے۔ان میں سے چند ایک قبائل کا تذکرہ یوں کیا جا سکتا ہے۔
جٹ یا جاٹ قبیلہ کے لوگوں کے بارے میں مختلف روائیتیں ہیں ۔کہا جاتا ہے کہ جاٹ آریہ نسل سے تھے اور سری کرشن جی سے تعلق رکھتے ہیں ۔ اور اس کے بیٹے کا نام جڈ ھان تھا اس کی نسل کے باعث ان کو جٹ کہا جاتا ہے ۔ جو پنجاب سندھ، راجستھان، جموں و کشمیر اوراترپردیش کے مغربی علاقوں میں آباد ہیں۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ انڈو آرین نسل سے ہیں کیونکہ ان کا قدیمی وطن شمالی ہندوستان تھا۔ ایک روایت میں دریائے گنگا کے سنج کے علاقے کو اپنا پیدائشی مرکز ماننے کی وجہ سے ان کو چندربنسی،یاتیہ ربنسی اور یادوربنسی بھی کہا جاتا ہے۔بعض مورخین کا خیال یہ ہے کہ جاٹوں کے مورث اعلیٰ کا نام “یاتیہ” تھا اور جاٹ یاتیہ سے بگڑ کر بناہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جاٹوں کے بزرگ سرپرجٹا رکھتے تھے۔ اس لیے جاٹ یا جٹ کہلاتے ہیں۔ تاریخ جٹاں میں جاٹوں کے مختلف گروہوں کا ذکر کرتے ہوئے لکھا گیاہے کہ ان کی کل تعداد 717 وادی کشمیر ، آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے مختلف ممالک بالخصوص پاکستان، ہندوستان اور نیپال، میں بڑی تعداد میں موجود ہیں ۔
تمدن ہند کے مصنف نے جاٹوں کے شجرہ کے متعلق لکھا ہے کہ یہ لوگوں آریاتوں کی آمد سے قبل موجودہ مغربی پاکستان میں موجود تھے اور حسن سلوک کی وجہ سے جاٹوں کی رضامندی سے آریہ حکمران ہے۔ گجر برادری کے ساتھ ساتھ جٹ بھی مسلمان ، سکھ اور ہندئو مذاہب کے پیرو کار ہیں ۔ سید علی عباس جلال پوری کی تحقیق کے مطابق پنجاب کی قدیمی قوموں کثانوں، ھنوں، ماختریوں اور ایرانیوں کے میل جول سے پروان چڑھنے والی قوم جاٹ تھیں۔
گوجر قبائل ریاست جموں و کشمیر میں آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑا قبیلہ ہے ۔گجروں کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ گوجر قبائل دراصل سوویت یونین کے خاتمہ کے بعد جب جارجیاء ایک آزاد ریاست بنی تونامسا عدحالات کے باعث کچھ لوگوں نے جارجیا سے ہجرت کرتے ہوئے عراق، ایران، اور افعانستان سے ہوتے ہوئے برصغیر میں وارد ہوئے اور گجرات اور راجپوتانہ کے پہاڑی علاقوں میں آ کر آباد ہوئے۔ اسی صدی عیسوی میں خشک سالی کی وجہ سے قحط پڑتے ہی یہ لوگ پنجاب سے ہوتے ہوئے جموں و کشمیر میں داخل ہوئے اور یہاں کے شوالک کے پہاڑی سلسلوں میں آباد ہوگئے۔ اور بعد میں ریاست بھر میں پھیل گئے۔
راج ترنگنی میںپنڈت کلہن نے گجر راجہ کی لڑائی کا تذکرہ کرتے ہوئے یہ دعوی کیا ہے۔ کہ تیسری صدی عیسوی میں ان کے کچھ قبائل جموں و کشمیر میں آباد ہوئے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جارجیا کا پرانا نام گورجیا تھا۔ گورجیا کے باسیون نے جب ہجرت کی تو جہاں جہاں سے گزرتے گئے وہاں کچھ قبائل آباد کرتے ہوئے اپنے نام کی بستیاں آباد کیں اور یادگار چھورتے ہوئے آگے نکلتے رہے۔ ان مشہور شہروں میں گجرآباد، گجربانڈی ،گجر کہوتہ، گجرکوہالہ، گوجرانوالہ، گجرات،گجر گڑھی، گجرخان اور گوجرہ کے علاوہ بہت سے شہر اور بھی شامل ہیں۔ یہ لوگ جہاں بھی گئے اپنی ثقافت، رسم و رواج اور زبان کے آثار چھوڑتے گئے۔ گجر قبیلہ کے بنیادی طور پر تین بڑے قبائل ہیں ۔ جن میں زمیدارگجر، بکروال گجر، بن ہارا گجر، بکروال گجر قبیلہ بکریاں پالتا ہے اور بن ہارا گجر بھینسوں کو پالتا ہے۔ گجرقبیلہ کی جو خاص بات ہے کہ ان تمام گوتوں یاذاتوں کا رسم و رواج ، ثقافت اور زبان سب ایک جیسی ہے۔ گوجری زبان ان کارابطہ کاری کا ذریعہ ہے۔
ڈوگرہ خاندان کی اکثریت ہندو مذہب کی پیروکار تھی ۔ سولہویں صدی کے بعد کچھ مسلمان ہوئے۔ صوبہ جموں کے کوہستانی سلسلہ شوالک کی گھاٹیوں میں موجود دو جھیلوں سرا ور مانسر کے درمیانی علاقوں میں آباد قوم ہے۔یہ خاندان ڈوگری زبان بولتا ہیں ۔ ڈوگرہ زیادہ تر راجپوت ہیں اور راجپوتانہ سے ہجرت کر کے جموں کی پہاڑیوں میں آبسے۔
چب قبیلہ چندربنسی کہلاتا ہے ۔ ان کا جداعلیٰ/ مورث اعلیٰ کانگڑہ کے نرائن چندر کا بیٹا چب چندر تھا۔ نرائن چندر 13ویں صدی کو کشمیر میںداخل ہوا تھا ۔بھمبر میں سکونت کے بعد تھکیال کے راجہ سرپت کی بیٹی سے شادی کی۔راجہ کا کوئی بیٹا نہ تھا جسکی وجہ سے راجہ کی وفات کے بعد نرائن چند ریاست کا حکمران بن کیا۔ چھیال یعنی چبوں کی سرزمین مناور، توی سے جہلم تک بھیلا ہوا علاقہ ہے۔ عقیدہ کے لحاظ سے چب راجپوت اکثریت مسلمان اور کچھ ہندو مذہب سے تعلق رکھتے ہیں۔
تاریخ ڈوگرہ دیش میں اس بات کا ذکر ملتا ہے کہ چب نرائن چند رکی آٹھویں پشت سے تعلق رکھنے والے دھرم چند کو قدرتی طور پرایسی شفا بخش قوت حاصل تھی کہ اس کے چھو جانے سے بیماری ختم ہوجاتی ۔اس بات کی بعد میں تاریخ چھیال میںٹھاکرکچھورا سنگھ نے بھی تصدیق کی ہے کہ دھرم چند کی اولاد میں اس طرح کی خاصیت پائی جاتی تھی ۔ دہلی کے حکمران ابراہیم لودھی کے مہلک پھوڑے والی بیمارکا اعلاج بھی اسی نے کیا۔ ابراہیم لودھی نے اس کو انعام و اکرام کے ساتھ ساتھ افغان سردار کی بیٹی سے نکاح کروایا۔ دھرم چند نے اسلام قبول کرتے ہوئے شاداب خان کا نام اختیار کیا،شاداب خان کے افغانی بیگم سے دو بیٹے تھے۔ پہلی بیوی نے دھرم چند (شاداب خان ) کو واپس بلوایا۔ اس نے شکار کے بہانے واپسی کا راستہ اختیار کیا اور ایک افغان سردار ہیبت خان قندھاری ے اس کا پیچھا کیا اور گجرات اور بھمبر کے نزدیک آپہنچا۔ زبردست معرکہ کے بعد دونوں مر گئے۔ دھرم چند کا سر تن سے جدا ہو گیااور اس کو آدھی ڈھک میں دفنادیا گیا۔ دھرم چند(شاداب خان) کی نسل سے دس راجائوں نے بھمبر پر حکومت کی اور آخری راجہ بھمبر راجہ سلطان کے ہاں گلابو( گلاب سنگھ)نے کچھ عرصہ ملازمت بی کی اور بعد میںراجہ سلطان کو رنجیت سنگھ کے حکم گرفتار کرتے ہوئے اس کی آنکھیں نکال کر پابند سلاسل کروایا۔ راجہ بھمبر 80سال کی عمر میں قید خانے میں ہی جان بحق ہو گیا۔ رنجیت سنگھ کو راجہ سلطان سے اس لیے ناراضگی تھی۔ کہ اس نے 1813میں جب سکھوں نے کشمیر کی طرف پیش قدمی کی تو اس راجہ نے مزاحمت کی تھی ۔ چب راجپوت دیگر علاقوں کی نسبت آزاد کشمیر کے علاقہ بھمبر میں کثرت سے پائے جائے ہیں ۔
(جاری ہے)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں