جے آئی ٹی کی تحقیقاتی رپورٹ میں شریف خاندان کے رہن سہن اور ذرائع آمدن کے درمیان عدم توازن کی نشاندہی

0
131

جے آئی ٹی نے اپنی 256 صفحات پر مبنی رپورٹ میں شریف خاندان کے رہن سہن اور ذرائع آمدن کے درمیان عدم توازن کی نشاندہی کی ہے۔ اور وزیرا عظم نواز شریف، ان کے بیٹوں حسن نواز اور حسین نواز  کے خلاف نیب میں ریفرنس دائر کرنے کی سفارش کردی۔سپریم کورٹ میں پیر کو جمع کرائی گئی اور بعد میں پلک کردی  گئی رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم  نواز شریف، ان کے صاحبزادے  حسن اور حسین  نوارکے مالی معاملات کا معاملہ نیب کے سیکشن 9 کے تحت آتا ہے۔ پاناما معاملے پر جے آئی ٹی کی 60روزہ تفتیش کی رپورٹ 10جلدوں پر مشتمل ہے، جو پیر کو سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی،اور یہ رپورٹ بعد میں سپریم کے حکم پر پبلک کردی گئی،جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ میں مزید کہا ہے کہ نواز شریف، حسن اور حسین نواز جے آئی ٹی کے سامنے رقوم کی ترسیلات کی وجوہات نہیں بتا سکے، بڑی رقوم کی قرض اور تحفے کی شکل میں بے قاعدگی سے ترسیل کی گئی، ترسیلات لندن کی ہل میٹل کمپنی، یو اے ای کی کیپٹل ایف زیڈ ای کمپنیوں کے ذریعے کی گئیں، برطانیہ میں شریف خاندان کے کاروبار سے کئی آف شور کمپنیز بھی لنک ہیں اور وزیر اعظم اور ان کے بچوں کی ظاہر آمدن اور اثاثوں میں واضح تضاد ہے۔ رپورٹ میں جے آئی ٹی نے شریف خاندان کی منی ٹریل پر عدم اطمینان کا اظہار بھی کیا ہے اور کہا ہے کہ مریم نواز کی نیسکول اور نیلسن کمپنیوں کی ملکیت ثابت ہو گئی ہے، شریف خاندان کی بڑی رقوم اور تحائف میں بہت بے ضابطگیاں ہیں، وزیر اعظم اور ان کے بچوں کی ظاہر آمدن اور اثاثوں میں واضح تضاد ہے۔پانامہ کیس کی تحقیقات میں مصروف جے آئی ٹی کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اسی اور نوے کی دہائی میں آف شور کمپنیاں بنانے کے وقت نواز شریف کے پاس سرکاری عہدہ بھی تھا، یو اے ای کی کمپنی ایف زیڈ ای سے بھی غیرقانونی ترسیلات کی گئیں، یہ کمپنیاں بینکوں اور دوسرے اداروں سے قرض لے کر بنائی گئیں، کمپنیوں کے قیام کے وقت معمولی رقم مالکان نے اپنی طرف سے دی، اکثر کمپنیاں مکمل طور پر فنکشنل نہیں ہیں یا خسارے میں جا رہی ہیں، ان کمپنیوں میں محمد بخش ٹیکسٹائل ملز، حدیبیہ پیپر ملز، حدیبیہ انجینئرنگ کمپنی، حمزہ بورڈ ملز، مہران رمضان ٹیکسٹائل ملز شامل ہیں۔ خراب کارکردگی اور نقصان میں جانے کے باعث چند سالوں کے علاوہ ان کمپنیوں کے منافع کو ظاہر نہیں کیا گیا۔ جے آئی ٹی کی رپورٹ کے مطابق، مریم نواز نیلسن اور نیسکول کی بینفشری مالک ہیں، شریف خاندان کے کاروبار سے کئی آف شور کمپنیاں منسلک ہیں، الانا سروسز لمیٹڈ، کومبر گروپ اور ہلٹن کے ذریعے پیسہ گردش کرتا رہا، سعودی کمپنی ہل میٹل، برطانوی کمپنی فلیگ شپ سے غیرقانونی ترسیلات کی گئیں۔جے آئی ٹی رپورٹ میں شریف خاندان کی 3 مزید آف شورکمپنیز کا انکشاف بھی ہوا ہے جو کہ الانا سروسز، لینکن ایس اے اور ہلٹن انٹرنیشنل سروسز ہیں۔ اس سے قبل نیلسن، نیسکول اور کومبر گروپ نامی کمپنیز منظرعام پر آئی تھیں۔ آف شور کمپنیز برطانیہ میں شریف خاندان کے کاروبار سے منسلک ہیں۔ آف شور کمپنیز برطانیہ میں موجود کمپنیوں کو رقم فراہمی کیلئے استعمال ہوتی ہیں، ان کمپنیز کے پیسے سے برطانیہ میں مہنگی ترین جائیدادیں خریدی گیئں، پیسہ برطانیہ، سعودی عرب، یو اے ای اور پاکستان کی کمپنیوں کو بھی ملتا ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ نواز شریف اور حسین نواز یہ فنڈز بطور تحفہ اور قرض وصول کرتے رہے، تحفے اور قرض کی وجوہات سے جے آئی ٹی کو مطمئن نہیں کیا جا سکا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نیب آرڈیننس 1999 کے سیکشن 9 اے وی کے تحت یہ کرپشن اور بدعنوانی کے زمرے میں آتا ہے، لہذا جے آئی ٹی مجبور ہے کہ معاملے کو نیب آرڈیننس کے تحت ریفر کردے۔گلف اسٹیل مل سے متعلق رپورٹ کے ایک حصے میں متحدہ عرب امارات کی وزارت انصاف کے سرکاری جواب کو شامل کیا گیا ہے، جس کے مطابق بادی النظر میں کیس کے اہم مدعا علیہ اور وزیر اعظم نواز شریف کے کزن طارق شفیع کے بیانات کو مسترد کیا گیا ہے۔طارق شفیع نے دعوی کیا تھا کہ العہلی اسٹیل ( گلف اسٹیل مل)کے 25 فیصد شیئرز اپریل 1980 میں ایک کروڑ 20 درہم میں فروخت کیے گئے، لیکن یو اے ای کے سرکاری جواب کے مطابق ایسا کبھی نہیں ہوا اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی ریکارڈ موجود ہے۔یہ بیان ذرائع آمدن سے متعلق شریف خاندان کے دفاع کا اہم حصہ تھا۔متحدہ عرب امارات کے سرکاری جواب میں مزید کہا گیا کہ انہیں 2001 سے 2002 کے درمیان اسکریپ مشینری کی دبئی کی العہلی اسٹیل ملز سے جدہ منتقلی کا کوئی کسٹم ریکارڈ نہیں ملا، بلکہ2001 سے 2002 کے عرصے میں بظاہر دبئی سے جدہ کوئی اسکریپ مشینری منتقل نہیں کی گئی۔متحدہ عرب امارات کی وزارت انصاف کے سرکاری جواب میں یہ انکشاف بھی کیا گیا کہ یو اے ای کی مرکزی بینک کے ذریعے طارق شفیع کی طرف سے فہد بن جاسم بن جبار بن الثانی کو ایک کرور 20 لاکھ درہم منتقل کرنے کا بھی کوئی ریکارڈ موجود نہیں،جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ میں مزید کہا ہے کہ طارق شفیع بی سی سی آئی کے 9 ملین درہم کے ڈیفالٹر تھے، یو اے ای حکومت نے طارق شفیع کے تمام ریکارڈ کو جھٹلایا، ال آحالی سٹیل کی فروخت کا معاہدہ جعلی ہے، 1980 میں ال آحالی سٹیل کے 25 فیصد شیئرز کی فروخت کا ریکارڈ موجود نہیں ہے، ڈیکلریشن آف ٹرسٹ سے متعلق خود ساختہ رپورٹس جمع کرائی گئیں۔جے آئی ٹی کی رپورٹ سپریم کورٹ کے حکم پر پبلک کر دی گئی ہے۔ تاہم رپورٹ کا والیم 10 جو کہ دیگر ممالک سے متعلق ہے، اسے جے آئی ٹی کی درخواست کے مطابق، پبلک نہیں کیا گیا۔  میڈیا رپورٹ کے بعدوزیر اعظم کو جے آئی ٹی کی رپورٹ پیش کر دی گئی ہے۔ اٹارنی جنرل اور دیگر ماہرین قانون نے جے آئی ٹی کی رپورٹ پر وزیر اعظم کو بریفنگ دی۔ جے آئی ٹی کی رپورٹ حکومت اور پی ٹی آئی کو فراہم کر دی گئی ہے،علاوہ ازیں حکمراں جماعت مسلم لیگ(ن)نے پاناما کیس کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم(جے آئی ٹی) کی رپورٹ کو ردی قرار دے کر مسترد کردیا۔اسلام آباد میں مسلم لیگ(ن) کے دیگر رہنماوں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر منصوبہ بندی و ترقیات احسن اقبال نے کہا کہ رپورٹ اور اس کے مندرجات نہ ہمارے لیے نئے ہیں نہ کسی اور کے لیے، جے آئی ٹی کی رپورٹ عمران نامہ ہے، رپورٹ میں وہی الزامات لگائے گئے جو عمران خان ایک سال سے لگا رہے ہیں اور یہ ایک مخالف جماعت کے مقف کا مجموعہ ہے۔انہوں نے کہا کہ  رپورٹ میں ٹھوس دلائل اور مستند مواد شامل نہیں، سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی کو صرف 13 سوالات کا مینڈیٹ دیا تھا، لیکن اس کی رپورٹ مخالفین کے الزامات کی ترجمانی کرتی ہے اور ہمارے تحفظات کو درست قرار دیتی ہے۔احسن اقبال نے جے آئی ٹی کی رپورٹ کو دھرنا نمبر 3 قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ اس کے پیچھے سیاسی ایجنڈا ہے جس کے جھوٹ کو ہم سپریم کورٹ کے سامنے بے نقاب کریں گے، جبکہ رپورٹ میں جن چیزوں کا سہارا لیا گیا ان کا کوئی جواز نہیں۔بیرسٹر ظفراللہ کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی رپورٹ دراصل پی ٹی آئی رپورٹ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی کے 4 ارکان کو قانونی معاملات کا کوئی تجربہ نہیں تھا، انہیں قانونی سفارشات مرتب کرنے کا بھی کوئی تجربہ نہیں تھا، جبکہ اس کے ارکان پیش ہونے والوں کو دھمکاتے تھے۔انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی رپورٹ کا خلاصہ طوطا مینا کی کہانی ہے اور ہم اپنے آئینی اعتراضات پیر کو سپریم کورٹ کے سامنے رکھیں گے۔وزیر دفاع اور پانی و بجلی خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ہم سمجھتے تھے جے آئی ٹی میں پڑھے لکھے لوگ شامل ہوں گے اور اس کی رپورٹ خام خیالی کے بجائے ٹھوس دلائل پر مشتمل ہوگی، لیکن رپورٹ میں کوئی بھی بات مصدقہ نہیں، رپورٹ میں رحمن ملک کی باتوں پر بہت زیادہ انحصار کیا گیا ہے اور سورس رپورٹ کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہوتی۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کے صاحبزادے نے قانونی طریقے سے رقم بھیجی، حسین نواز کی سعودی عرب میں کمپنی سے یہاں پیسہ بھیجا گیا جو بینکنگ چینل کے ذریعے نواز شریف کے اکانٹ میں آیا۔ان کا کہنا تھا کہ یہ قانونی نہیں سیاسی جنگ ہے، ہمیں سپریم کورٹ پر پورا اعتماد ہے، سپریم کورٹ میں قانونی جنگ بھی خوب لڑیں گے اور امید ہے عدلیہ میں قانون کے مطابق برتا کیا جائے گا۔وزیر پیٹرولیم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ غیر متوقع نہیں، رپورٹ میں بہت سی باتیں ناقابل یقین اور مضحکہ خیز ہیں اور رپورٹ سے مشرف دور کے بے بنیاد الزامات کی یاد تازہ ہوگئی۔ان کا کہنا تھا کہ حسن نواز اور حسین نواز پاکستان میں نہیں رہتے، وہ اوور سیز پاکستانی ہیں اور اگر انہوں نے رقم اپنے والد کو بھیجی تو قانون کے تحت بھیجی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here