کشمیر کا انقلاب اپنے ہی بچے نگل رہا ہے

ماوزے تنگ نے کہا تھا کہ انقلاب اپنے ہی بچوں کو کھا جاتا ہے ۔اگر انقلاب سے ان کا مطلب پرتشدد جدوجہد تھا تو تاریخ نے اسے قدم قدم پر درست ثابت کیا ہے ۔ افغانستان اور سری لنکا کی تامل جدوجہد اس کی زندہ مثالیں ہیں اور اب کشمیر اس کی تازہ مثال پیش کررہا ہے ۔ یہاںتین دہائیوں سے جاری مسلح جدوجہد اس موڑ پر پہنچ چکی ہے کہ شہری آبادی نہتے ہاتھوں کے ساتھ اس کا حصہ بن چکی ہے ۔ ہر طرف خون کی ندیاں بہہ رہی ہیں۔ مٹھی بھر عسکریت پسند دنیا کی چوتھی بڑی فوج کے مقابلے پر کھڑے ہیں اورنہتے عوام ان کے شانہ بشانہ قربانیوں کی ایک تاریخ رقم کررہے ہیں ۔قوم کے بچے دیوانہ وار مرنے مارنے پر تلے ہوئے ہیں ۔ ہر روز جنازے اٹھ رہے ہیں ۔ ہر ماتم ایک اور ماتم کا موجب بن رہا ہے ۔ ہر جنازے کے پیچھے ایک اور جنازہ ہوتا ہے ۔ہر ماتمی اوراحتجاجی ہڑتال کی اپیل کا اختتام دوسری ہڑتال کی اپیل کے ساتھ ہوتا ہے ۔خونریزیاں نہ عسکریت پسندوں کے عزائم توڑ رہی ہیں نہ عوام کے حوصلوں کو شکست دے رہی ہیں اور نہ ہی فوج ، امن وقانون کی مشنری یا حکومت ہند اپنے عزائم تبدیل کررہے ہیں ۔
اس تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ نہ دنیا میں کہیں اس خونریزی کا کوئی سنجیدہ نوٹس لیا جارہا ہے اورنہ ہی پیر پنچال اور ہمالہ کے اس پار انسانی حقوق کی علمبردار عالمی طاقتیں ، عالمی انسانی حقوق کے ادارے ، علاقائی اتحاد اور اقوام متحدہ کو یہ کوئی بڑا انسانی مسئلہ نظر آرہا ہے ۔ایسا کیوں ہے ؟۔ اس سوال کا کوئی جواب کسی کے پاس نہیں ۔ اس سے بڑھ کر حیرت انگیز معاملہ یہ ہے کہ کشمیر میں اس کی کسی کو کوئی پرواہ نہیں کہ ایسا کیوں ہورہا ہے ۔کوئی نوٹس لے یا نہ لے کشمیر کا ابال تھمنے کا کوئی نام بھی نہیں لے رہا ہے ۔کسی نتیجے یا کسی حصولیابی کی توقع کے بغیر زندگیاں داو پر لگ رہی ہیں ۔ کسی حکمت عملی ، کسی تنظیم اور تدبیر کی بھی فکر نہیں کی جارہی ہے ۔ پتھر باز سکول کی گاڑی کو بھی نشانہ بناتے ہیں اور سیاحوں کی بسوں کو بھی ۔
نامعلوم مسلح افراد بھی گھروں کے اندر گھس کر لوگوں کو موت کے گھاٹ اتاردیتے ہیں ۔ کسی کا سر کاٹا جاتا ہے اور کسی کو سرراہ موت کی نیند سلایا جاتا ہے ۔ ۔ہر ایک واقعہ ایک سوالیہ نشان بنا ہواہے ۔بچے کیوں فوجی گاڑیوں کے سامنے پتھر لیکر اپنی موت کو دعوت دیتے ہیں ؟ کیوں عسکریت پسندوں اور فورسز کی معرکہ آرائی میں جانوں کی پرواہ کئے بغیردو بندوقوں کے درمیان کھڑے ہوجاتے ہیں ۔ کیوں اعلی تعلیم یافتہ نوجوان بندوق اٹھانے پر راضی بہ رضا ہوتے ہیں ۔کیوں کشمیر یونیورسٹی کا اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر رفیع بندوق اٹھاکر اپنے کیریر اور اپنی جان دونوں کا خاتمہ کردیتا ہے ۔یہ سارے سوالات سمجھ سے باہر ہیں اور ایسی ہی صورتحال ماوزے تنگ کے اس قول کی صداقت پر مہر تصدیق ثبت کرتی ہے کہ انقلاب اپنے ہی بچوں کو کھا جاتا ہے ۔
بھارت کے خلاف نفرت کا عنصر اس صورتحال کا بنیادی سبب ہے لیکن اسے جنونی حدتک پہنچانے میں ان عناصر کا کردار رہا ہے جنہوں نے اسے مذہبی فرائض کا حصہ بنایا ۔ تحریک کو اس کا فائدہ یہ ہواکہ کسی تنظیمی کوشش کے بغیر بغاوت ہمہ گیر ہوگئی اور اس کا نقصان یہ ہوا کہ عالمی حمایت کی ساری امیدیں ختم ہوگئیں ۔عالمی سطح پر ہر ایک پرتشدد تحریک دہشت گردی سے تعبیر کی جانے لگی ہے اس لئے اس فائدہ اسی کو مل رہا ہے جس کے خلاف تحریک جاری ہے ۔ بھارت کشمیر کی صورتحال سے پریشا ں بھی ہے اور بے قرار بھی لیکن اسے یہ اطمینان بھی حاصل ہے کہ اس پر کوئی عالمی دباو نہیں ۔ وہ کشمیر کی موجودہ صورتحال کو برداشت کرسکتا ہے لیکن عالمی دباو اس کے لئے ناقابل برداشت ہوتا اس لئے وہ اپنے سخت موقف اورجارحانہ حکمت عملی میں کوئی تبدیلی یا نرمی کرنے کیلئے تیار نہیں ۔
جدوجہد کو جہاد میں تبدیل کرنے کے بعد مسئلہ کشمیر کی سیاسی حیثیت سب سے زیادہ متاثر ہوئی ۔اقوام متحدہ میں یہ مسئلہ ایک سیاسی مسئلے کی حیثیت سے پیش ہواتھا اور سیاسی مسئلے کی حیثیت سے ہی اس کا سیاسی حل حق خود ارادیت قرار دیا گیا ۔ہر قرارداد گواہ ہے کہ اسے دو ملکوں کے درمیان تنازعہ نہیں بلکہ ریاست کے باشندوں کے حق خود ارادیت کامسئلہ تسلیم کرتے ہوئے اس کا حل تجویز کیا گیا اور تب تک قراردادوں پر مباحث ہوتے رہے جب تک کہ اس مسئلے کی یہ حیثیت قائم رہی ۔ جب یہ مسئلہ دوملکوں کا تنازعہ بن گیا قراردادوں کی طرف کوئی توجہ نہیں دی گئی اور ان پر کوئی بحث نہیں ہوئی ۔ عسکری تحریک شروع ہونے کے بعد تیزی کے ساتھ دنیا کے حالات بدل گئے اور دہشت گردی کا ایک نیا مسئلہ دنیا کے سامنے آگیا جسے ہر ایک پرتشدد تحریک کے ساتھ منسوب کیا گیا ۔ اس کے بعد صر ف ان مواقع پر جب بھارت اور پاکستان کے درمیان تناو کی صورتحال پیدا ہوئی نیوکلیر فلیش پوائنٹ کے نظرئیے سے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے مسئلہ کشمیر پر بات کی اوردونوں ملکوں کو یہ مسئلہ باہمی بات چیت کے ذریعے حل کرنے کا مشورہ دیا۔
اس تناظر میں کشمیر کی موجودہ صورتحال کو دیکھا جائے تو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اس مسئلے میں اب عالمی مداخلت کی گنجائش تقریبا ختم ہوچکی ہے ۔ اب یہی ایک آپشن باقی بچا ہے کہ بھارت کس قدر حالات کے دباو میں آتا ہے ۔ اب یہ براہ راست پاکستان اور بھارت کی کشمکش ہے ۔ دونوں میں سے کون کشمیر کی زمین پر دوسرے کو شکست دے سکتا ہے یہی فیصلہ کن ثابت ہوسکتا ہے ۔لیکن اس میں کشمیر کو بے پناہ درد ، بے پناہ نقصان اورتصور سے زیادہ خون دینا پڑے گا ۔فیصلہ کسی کے بھی حق میں ہوسکتا ہے ۔چنانچہ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ یہ انقلاب اپنے ہی بچوں پر بہت بھاری پڑے گا چاہے انجام یا اختتام کچھ بھی ہو ۔
epaper column page

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.