کشمیر کی آزادی، بھارتی عزائم اور پاکستان کی پالیسی!

پاکستان اورکشمیر کی مختلف تنظیموں کی طرف سے مغربی ملکوں میں اسی بات پر زور دیا جاتا ہے کہ بھارت اپنے زیر انتظام کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کر رہا ہے،کشمیریوں کو بڑی تعداد میںہلاک اور زخمی کیا جارہا ہے۔ساتھ ہی یہ بھی کہا جاتا ہے کہ بھارت کشمیر کا مسئلہ پاکستان کے ساتھ مزاکرات سے حل کرے۔دوسری طرف مغربی ملکوں کی طرف سے عمومی طور پر یہی کہا جاتا ہے کہ بھارت اور پاکستان باہمی مزاکرات سے کشمیر کا مسئلہ حل کریں۔یوں دنیا کے سامنے کشمیر کا مسئلہ بھارت اور پاکستان کے باہمی مسئلے کے طور پر ہی نمایاں ہوتا ہے ۔اس مسئلے کے بنیادی فریق یعنی کشمیریوں کے حق آزادی کو نظر انداز کیا جاتا ہے اور کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کا مطالبہ کرنے پر کشمیریوں کو بھارت کی طرف سے بھر پور فوجی ظلم و ہلاکت کا نشانہ بنا ئے جانے کی صورتحال کو پس پشت ڈالا جاتا ہے۔اسی صورتحال میں بھارت فوج کے سربراہ جنرل بپن راوت نے ایک انڈین اخبار کو انٹرویو میں کہا کہ” کشمیریوں کو آزادی ملنا ناممکن ہے اور جو بھی آزادی کا مطالبہ کرے گا آرمی اس کے خلاف جنگ کرے گی”۔ یوں بھارت فوجی سربراہ نے اس انٹرویو کے ذریعے مسئلہ کشمیر کی اصل بات دنیا کے سامنے بیان کی ہے کہ کشمیر کا مسئلہ کشمیریوں کی آزادی کا مسئلہ ہے۔بھارتی جنرل بپن راوت اس انٹرویو میں کہتے ہیں کہ ” نوجوانوں کی جانب سے کی جانے والی سنگ باری سے ہی فورسز اہلکار مشتعل ہوجاتے ہیں جس کی وجہ سے مظاہرین کے خلاف کارروائی کرنا ناگزیر بن جاتا ہے۔نوجوان بدستور ز جنگجوئوں کی صفوں میں شامل ہورہے ہیں۔ہم ہمیشہ علیحدہ رہنے والوں اور آزادی کا مطالبہ کرنے والوں سے جنگ کریں گے”۔ بھارتی جنرل کا کہنا ہے کہ”میں سمجھ نہیں پاتا ہوں کہ عام لوگ کیوں جنگجو مخالف آپریشنوں کے دوران گھروں سے باہر آکر فورسز اہلکاروں کے کام میں رخنہ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں”۔بھارتی جنرل کی متضاد خیالی دیکھیں کہ ایک طرف وہ آزادی کی جدوجہد اور آزادی کا مطالبہ کرنے والوں کے خلاف فوجی کاروائی جاری رکھنے کی بات کرتے ہیں اور دوسری طرف حقیقت کے اعتراف میں یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ ” میں سمجھتا ہوں کہ اس مسئلہ کوفوجی طاقت کے بل پر حل نہیں کیا جاسکتا”۔

میڈیا کے ذریعے بھارت کے سرکاری حلقوں کی طرف سے اس بات پہ تشویش ظاہر کی جا رہی ہے کہ آخر کشمیری نوجوان بھارتی فوج پر پتھرائو کیوں کرتے ہیں؟ بھارتی فوج کے خلاف مسلح جدوجہد کا راستہ کیوں اختیار کرتے ہیں؟اس کا جواب بالکل صاف ہے لیکن حقائق کو اپنی مرضی کے مطابق ظاہر کرنے کی کوشش میںبھارتی حلقوں کی یہ تشویش ایک ڈھکوسلا ہی ثابت ہوتی ہے۔کیا بھارت نہیں جانتا کہ بھارت کے غاصبانہ قبضے کے خلاف کشمیریوں کی جدوجہد آزادی 1988یاگزشتہ چند سالوں سے ہی نہیں بلکہ کشمیر کو جابرانہ اور غیر انسانی طور پر تقسیم کرنے والی سیز فائر لائین کے قیام کے وقت سے جاری ہے۔کشمیریوں کے خلاف فوجی کاروائی سمیت بھارت ہر طرح کے ظلم و جبر کے حربے مسلسل استعمال کرنے کے باوجود کشمیریوں کے عزم آزادی کے سامنے مسلسل ناکام چلا آ رہا ہے۔عشرو ں پہلے بھی نہتے کشمیری لڑکے،نوجوان کشمیر کی آزادی کے لئے مصروف عمل تھے اور آج بھی ان کی جدوجہد اور قربانیاں تیز سے تیز تر ہیں۔بھارت کے سرکاری حلقے حیران ہی نہیں پریشان بھی ہیں کہ بھارت کی ہر طرح کی طاقت کے ظالمانہ استعمال کے باوجود کشمیری نوجوان کیوں بے خوف سے بے خوف ہوتا جا رہا ہے؟ کشمیریوں نوجوان بھارتی فوج کی بھاری تعداد اور مسلسل جنگی کاروائیوں کے باوجو د بھارت سے خوفزدہ کیوں نہیں ہوتے؟

برطانوی نشریاتی ادارے” بی بی سی’ کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ”کشمیر کے سکول کالج کے طالب علموں کے ہاتھوں میں کتابوں کے بجائے پتھر ہیں اور اب لڑکوں کے ساتھ ساتھ لڑکیاں بھی مظاہروں میں شامل ہو رہی ہیں۔ان بچوں کو معلوم ہے کہ وہ سکیورٹی فورسز کی گولیوں کا نشانہ بن سکتے ہیں۔ جیسے ہی کسی گاں کے لوگوں کو یہ خبر ملتی ہے کہ ان کے ہمسایہ گائوں میں مسلح فوجی شدت پسندوں کو مارنے پہنچے ہیں وہ نہتے ہی انہیں بچانے کے لیے دوڑ پڑتے ہیں۔حالیہ دنوں میں سڑکوں پر مظاہرے شورش کی علامت بن چکے ہیں جس میں کشمیری نوجوان پتھر ہاتھوں میں لیکر مسلح فوجیوں سے لڑنے کو تیار ہوتے ہیں یہ جانتے ہوئے بھی کہ ان فوجیوں کا رویہ ظالمانہ ہوگا۔فوجی کارروائیوں کے ضابطوں کی بھی کھلے عام خلاف ورزی ہو رہی ہے۔اس طرح کے لوگوں کی تعداد اب تیزی سے بڑھ رہی ہے اور انکانٹر میں مارے جانے والوں کی تعداد میں بھی دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے۔آخر یہ حالات پیدا ہی کیوں ہوئے۔لوگوں کا غصہ سڑکوں پر آنے کی وجہ سیاسی خواہشات پوری نہ ہونا اور تنازعے ہوتے ہیں۔ اور یہ سب کچھ فوجی کارروائی میں اضافہ، انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں اور پر امن مظاہروں کو روکنے کی کوششوں کی وجہ سے ہو رہا ہے۔مسلسل پر تشدد واقعات کشمیری نوجوان کو بے قابو کر رہے ہیں وہ اکثر مظالم کا شکار ہوتے ہیں جن کے بارے میں قومی سطح پر بات ہی نہیں ہوتی”۔

دوسری طرف پاکستان میںاس بات کے اشارے سامنے آ رہے ہیںکہ فوج کشمیر سے متعلق پالیسی/حکمت عملی کو غیر موثر سمجھتے ہوئے اس میں تبدیلی کا عندیہ رکھتی ہے۔چند دن قبل ہی پاکستان میں سرکاری مالی معاونت سے منافع میں چلنے والی کشمیر کے نام پر قائم چند ” این جی اوز” کے پلیٹ فارم سے یہ بات کہی گئی ہے کہ کشمیر سے متعلق حکمت عملی میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔دیکھا جائے تو پاکستان کی کشمیر پالیسی اور اس سے متعلق حکمت عملی کے غیر موثر اور نقصاندہ ہونے کے بارے میں کشمیری حلقوں کی طرف سے سالہا سال سے تشویش ظاہر کی جاتی رہی ہے لیکن پاکستان کی کشمیر پالیسی میں کشمیریوں کی رائے کو نظر انداز کئے رکھنے کی صورتحال میں کشمیریوں کی تعمیری تنقید پاکستان کے حاکمانہ حلقوں میں کبھی ” شرف اظہار” کی سعادت حاصل نہ کر سکی۔

شمالی اور جنوبی کوریا کے درمیان دوستی کے تعلق کے آغاز سے جنوبی ایشیا میں بھی خصوصا سماجی رابطوں کی ویب سائٹوں پر یہ سوال گردش کرنے لگا کہ ‘اگر دونوں کوریا ایسا کر سکتے ہیں تو انڈیا اور پاکستان کیوں نہیں؟” بی بی سی” نے ”کیا پاکستانی فوج انڈیا کے ساتھ تعلقات کی بحالی چاہتی ہے؟” کے عنوان سے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ ”خطے کی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ کم از کم پاکستان کی جانب سے ایسے اشارے دیے گئے ہیں کہ وہ انڈیا کے ساتھ امن چاہتا ہے۔ایسے اشارے خصوصا پاکستان کی فوج کی جانب سے سامنے آئے ہیں۔ اس سلسلے کا آغاز رواں برس مارچ میں ہوا جب تاریخ میں پہلی مرتبہ اسلام آباد میں انڈین سفارت خانے کے دفاع کے اتاشی کو پاکستان ڈے کی پریڈ پر مدعو کیا گیا۔رواں برس ہی دونوں ممالک کی افواج شنگھائی کواپریشن آرگنائزیشن کے تحت ستمبر میں روس میں منعقد ہونے والی مشترکہ فوجی مشقوں میں بھی حصہ لینے کے لیے تیار ہو گئی ہیں۔تاہم کشمیر میں انڈین فوج کو جارحیت کا سامنا ہے جس کے لیے وہ اکثر پاکستان کو ذمہ دار قرار دیتا ہے، جبکہ گذشتہ کچھ ماہ سے لائن آف کنٹرول پر دونوں افواج کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے اور پاکستان انڈیا پر پہل کرنے کا الزام لگاتا ہے۔مگر ساتھ ہی ساتھ چند ہی روز قبل پاکستان کی جانب سے خیر سگالی کے طور ایک بیمار انڈین قیدی کو رہا کیا گیا اور اس سے قبل ایک انڈین شہری کو واپس بھیج دیا گیا جو غلطی سے سرحد پا کر آیا تھا۔کیا پاکستانی فوج کی جانب سے ایسے دوستانہ اقدامات کو انڈیا کے ساتھ تعلقات کی بحالی کی طرف خواہش کا اشارہ سمجھا جا سکتا ہے؟دفاعی تجزیہ کار بریگیڈیئر ریٹائرڈ سعد محمد کے خیال میں کچھ ایسا ہی ہے۔ بریگیڈیئر ریٹائرڈ سعد محمد نے ”بی بی سی”سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی فوج کی قیادت کا یہ خیال ہے کہ گذشتہ 70 برس سے ایک دوسرے کے ساتھ تصادم اور چار جنگوں کے باوجود کشمیر سمیت سیاچن تک کسی مسئلے کا حل نہیں نکلا ہے۔ اگر آئندہ 300 برس بھی تصادم رہے تو مسائل حل نہیں ہوں گے۔بلکہ دونوں ممالک ترقی نہیں کر پائیں گے۔ ‘اس لیے یہ ایک سوچ ضرور پائی جاتی ہے۔ مگر وہ کہتے ہیں تالی دو ہاتھوں سے بجتی ہے، تو دیکھنا یہ ہے کہ انڈیا یہاں سے ہاتھ پکڑ کر آگے چلتا ہے یا نہیں۔ بد قسمتی سے انڈیا کی حالیہ حکومت انتہائی پاکستان مخالف خیالات رکھتی ہے۔ شنگھائی کواپریشن آرگنائزیشن کے تحت ہونے والی مشقوں میں انڈیا اور پاکستان کی افواج کی شراکت کے حوالے سے پس پردہ جو شرط رکھی گئی ہو گی وہ یہی ہو گی کہ یہ دونوں ممالک اپنی دشمنی ایس سی او میں مت لائیں۔شاید اس بات کا احساس بھی پایا جاتا ہے کہ ‘ہمارا کشمیر کا بیانہ چل نہیں رہا، دنیا بھر میں کوئی اسے خرید نہیں رہا۔ اس میں پاکستان کو نئی سوچ اور فکر لانی چاہیے”۔ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کو کشمیر سے متعلق اپنا موقف قائم رکھتے ہوئے بھارت کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعلقات قائم کرنا چاہئیں۔ساتھ ہی ساتھ ان کے خیال میں پاکستان کی سیاسی قیادت اور فوج کو مل کر اس مقصد کے لیے کام کرنا ہو گا تو ہی کامیابی ہو گی۔ اگر سیاسی قیادت پیچھے رہے یا انہیں اجازت نہ ہو اور صرف فوج ہی یہ کام کرے تو یہ چل نہیں سکے گا”۔

بریگیڈیئر ریٹائرڈ سعد محمد کا درست طور پریہ کہنا ہے کہ پاکستان کی سیاسی قیادت اور فوج کو مل کر اس مقصد( مسئلہ کشمیر) کے لئے کام کرنا چاہئے تو ہی کامیابی ہو گی،اگر سیاسی قیادت پیچھے رہے یا انہیں اجازت نہ ہو اور صرف فوج ہی یہ کام کرے تو یہ چل نہیں سکتا۔ یہ بات تو بہت اچھی ہے لیکن پاکستان میں جاری ” جنگ اقتدار” کی موجودہ صورتحال میں ایسا ہوتا نظر نہیں آ تا کیونکہ سول قیادت کو مستقل طور پر تابعدار بنانے کی کوششیں تیز سے تیز تر ہو رہی ہیں۔ پاکستان بھارت تعلقات اور مسئلہ کشمیر پر نظر رکھنے والے جانتے ہیں کہ سالہا سال پہلے یہ بھارت کی پیشکش تھی کہ پاکستان مسئلہ کشمیر کو نظر انداز کرتے ہوئے بھارت کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعلقات قائم کرے لیکن اب بھارتی حکومت پاکستان سے مسئلہ کشمیر سے لاتعلق ہونے کا مطالبہ رکھتی ہے۔بھارتی حکومت مسئلہ کشمیر کو پاکستان کے ساتھ دو طرفہ معاملہ قرار تو دیتی ہے لیکن اس کی طرف سے پاکستان سے مزاکرات شروع کرنے کے لئے پیشگی شرائط عائید کی جاتی ہیں۔اب جبکہ پاکستان میں سرکاری حلقوں کی طرف سے مسئلہ کشمیر سے متعلق بالخصوص حکمت عملی میں تبدیلی کی بات ہو رہی ہے، کشمیر اور پاکستان کے عوامی حلقوں میں اس بات پہ بھی تشویش پائی جاتی ہے کہ کشمیر سے متعلق غیر موثر حکمت عملی اختیار کرنے والوں سے یہ توقع کیسے کی جا سکتی ہے کہ انہی کی تشکیل کردہ کشمیر سے متعلق نئی حکمت عملی بھی پہلی حکمت عملی کی طرح غیر موثر اور نقصاندہ نہیں رہے گی؟

اپنا تبصرہ بھیجیں