یوم حقِ خود ارادیت

یوم حقِ خود ارادیت
تحریر: ساجد ہاشمی
تقسیم ہند کے ٣ جون ١٩٤٧ء کے منصوبے میں ہندوستانی ریاستوں کے بارے میں جو اصول وضع کیے گئے بدقسمتی سے کشمیر کے معاملے میں ان پر کوئی عمل نہیں کیاگیا جس کی وجہ سے یہ مسئلہ کشمیر کے لوگوں کے لیے ابھی تک سوہانِ روح بناہوا ہے ۔ انہوں نے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرتے ہوئے اپنی تقدیر پاکستان کے ساتھ وابستہ کرنے کا اعلان کیا لیکن کشمیر کے مہاراجہ ہری سنگھ نے ان کی آرزئووں کا خون کرتے ہوئے ا س کا الحاق بھارت سے کردیا اور سری نگر سے بھاگ کھڑا ہوا اور بھارت نے اس نام نہاد الحاق کی دستاویز کی بناء پر کشمیر پر چڑھائی کر دی ۔ کشمیریوں نے سخت مزاحمت کی اور جبکہ وہ فتح کے قریب تھے ، بھارت اس معاملے کو سلامتی کونسل میں لے گیا ۔اقوام متحدہ کی مداخلت سے جنگ بندی ہوگئی اور ١٣ اگست ١٩٤٨ء کو ایک قرارداد منظورکی جس کی رو سے اس با ت کا عہد کیا گیا کہ کشمیریوں کو اپنی قسمت کا خود فیصلہ کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ اس کے بعد ٥ جنوری ١٩٤٩ء کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بااتفاق رائے پہلی قرارداد کی تجدید کرتے ہوئے ایک واضع اورجامع قرارداد منظور کی جس میں کشمیریوں کو اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ اپنی مرضی سے کرنے کا موقع دینے کا وعدہ کیاگیا۔ یہ قرارداد دس شقوں اور بہت سی ذیلی دفعات پر مشتمل ہے، اس کی پہلی شق کے مطابق پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازعے کا باعث بننے والے اس مسئلے کاحل جمہوری انداز میں منعقدہ ایک استصواب کے ذریعے کیا جائے گا۔ دوسری شق کے مطابق استصواب کا فیصلہ سلامتی کونسل کے مقرر کردہ ایک کمشن، جس میں ارجینٹائن،کولمبیا، بلجیئم، چیکوسلواکیہ ا ورامریکہ شامل تھے، کی رپورٹ کہ اس مقصد کے لیے حالات سازگار اور انتظامات مکمل ہیں ، پرکیاجائے گا۔ تیسری شق اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی طرف سے ایک استصواب کمشنر کے تقرر کے بارے میں ہے اور چوتھی شق میں بھارت سے اس معاملے مدد کے بارے میں کہا گیا ، پانچویں شق میں مقبوضہ کشمیر میں تعینات سیکوریٹی کونسل اور سیاسی جماعتوں کے تعاون کی بات کی گئی ہے اور چھٹی شق میں پاکستان اور بھارت کی طرف ہجرت کرنے والے کشمیریوں کو اس استصواب کے عمل میں شرکت کے لیے واپس لانے کے لیے دو علیحدہ علیحدہ کمشنوں کے قیام کا اعلان ہے اسی شق کی ذیلی دفعہ میں یہ کہا گیا ہے کہ وہ تمام افراد بشمول سیکوریٹی فورسز جو ١٥ اگست ١٩٤٧ ء کے بعد ریاست میں داخل ہوئے ہیں استصواب کے انعقاد کے وقت کشمیر سے فی الفور نکل جائیں گے۔اس کی باقی شقوں میں بھی پرامن استصواب کے انعقاد کے لیے تمام مسلح دستوں کا انخلاء اور کشمیریوں کی بھرپور شرکت اور دوسرے اقدامات کے بارے میں کہا گیاہے ۔ بھارت نے تمام دنیا کے سامنے ان قراردادوں سے متفق ہونے کا اعلان کیا اور استصواب کے لیے ضروری انتظامات میں مددگار ہونے کا اعلان کیا لیکن اس کے بعد کے اقدامات سے یہ واضع ہو گیا کہ وہ اس بارے میں مخلص نہیں ہے اور اس نے صرف عالمی برادری کو دھوکا دینے لیے یہ سب ڈھونگ چایا ہے اور ابھی تک اس کی نوبت ہی نہیں آنے دی ۔ بھارت نے ان قراردادوں کو پس پشت ڈال کر ١٩٥٦ء میں ایک نام نہاد اسمبلی کا ڈول ڈالا اور اس کے ذریعے ریاست جموں وکشمیر کے الحاق کی توثیق کا ڈرامہ رچایالیکن اقوام متحدہ دنے کسی بھی نام نہاد الحاق کو مسترد کردیا اور قرار دیا کہ کشمیریوں کے استصواب رائے کی قرارداد کی موجودگی میں نہ کوئی ریاست کی نام نہاد اسمبلی اور نہ ہی کوئی سیاسی جماعت ریاست کے مستقبل کے بارے میں کوئی فیصلہ کرنے کی مجاز ہے۔ اس کے علاوہ نہ ہی ریاست کو بھارت کا حصہ قراردیا جاسکتاہے۔ اقوام متحدہ نے اس بارے میں متعدد قراردادیں منظور کی ہیں لیکن ان تمام قراردادوں میں کسی میں بھی بھارت کو کوئی ان پر عمل نہ کرنے کی پاداش میں پابندیوں کی کوئی واضح دھمکی دی گئی ہے اور نہ ہی اسکی فوجوں کے انخلاء اور استصواب کے انتظامات کی کوئی حتمی تاریخ مانگی گئی کہ جن کی بناء پر اس کو مجبور کیا جاسکتا ۔ ان ڈھیلی ڈھالی قراردادوں نے کشمیریوں کے دکھوںکا تو کوئی مداوانہیں کیا بلکہ اس کی آڑ میں بھارت کشمیر پر اپنا قبضہ مستحکم کرنے کے لیے مختلف حربے آزماتا رہا جن میں کشمیر کی آبادی کے تناسب میںمسلمانوں کی تعداد کو کم کرنے کے لیے بھارت سے اپنے سابقہ فوجیوں کو لاکر بسانا اور کشمیری مسلمانوں کے قتل عام اور ان کو گم نام قبروں میں دفن کرنے کے جرائم بھی شامل ہیں۔ اقوام متحدہ گذشتہ ٧٤ سالوں میں اپنی پاس کی ہوئی قراردادوں پر عمل کروانے سے قاصر رہاہے جو اس کے دوہرے معیار اور اس کی ناکامی کا واضح ثبوت ہے۔ اقوام متحدہ آج تک خاص طور پر مسلمانوں کے مسائل حل کرنے میں لیت ولعل سے کام لیتار ہا ہے اوربڑی طاقتوں کی آرزئووں کی تکمیل کے لیے اپنے کاندھے پیش کرتارہا ہے ۔ کشمیری اپنے پیدائشی حق کے حصول کے لیے اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں اور ہر سال جنوری کی ٥ تاریخ کو اقوام متحدہ اور دنیا کی مہذب قوموں کو ان کے وعدے یاد دلانے کے لیے اس دن کو یوم حق ِ خود ارادیت کے طور پر مناتے ہیں کہ شاید اس دفعہ ان کا ضمیر جاگ جائے اور ان کو اس مسئلے کی شدت کا احساس دلاتے ہیں کہ اگر اس کو جلد حل نہ کیا گیا تویہ آتش فشاں نہ صرف پاکستان و بھارت ، جنوبی ایشیا بلکہ پوری دنیا کے امن کو تباہ وبرباد کردے گا۔ اس لیے اقوام ِ متحدہ کو دوہرے معیار کو ترک کرکے ا پنی ذمہ داریوں کو احساس کرنا چاہیے اور اس مسئلے کا ابھی تک حل نہ ہونا اس ادارے کی بقاء اور اس کے وقار پر ایک مستقل سوالیہ نشان رہے گا اور اس کی سبکی کا مستقل باعث بنتارہے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.