آتشِ فراق

کالم : بزمِ درویش
تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی
بلھے شاہ کی بے قراری کو چین مل چکا تھا بلھے شاہ کو مرشد کے قدموں میں جگہ مل چکی تھی بلھے شاہ مفلس سے تونگر بن چکے تھے بلھے شاہ کے گلے میں مرشد کی غلامی کی زنجیر پڑ ھ چکی تھی اب بلھے شاہ کو عبا دت ریاضت سخت مجا ہدوں کی پل صراط سے گزرنا تھا اِس لیے اب مرشد سے دوری ضروری تھی با طن میں دبی ہو ئی آتش عشق کی چنگا ریوں نے اب اپنا اظہار کر نا تھا اب شطاریہ سلسلے کے تحت بلھے شاہ کو سخت مجا ہدوں سے گزرنا تھا اس کام کے لیے بلھے شاہ کے لیے جھنگ کا علاقہ طے ہوا رخصت ہو تے وقت مرشد نے اپنے جانباز مرید سے کہا اپنے نفس کو خوب مغلوب کرو اُس کی نفی کر کے کبھی شدید بھو ک پیا س دے کر کبھی تیز گرمی شدید ٹھنڈکی مو سمی سختیوں میں غرق کر کے کیونکہ نفس پر غلبہ پا نا ہی مجا ہدات اور ریا ضت کا ثمرہ ہے میرے فرزند ہم بے شک عالم اسباب میں زندہ ہیں مگر حق تعالی ہی سب الاسباب ہے اور سبب کبھی بھی رب نہیں ہو سکتا تو کل ہمیشہ اللہ سبحان تعالیٰ پر کرنا پھر اُس کی رضا ہے جیسا بھی سبب بنا دے جا ئو میر ی دعا ہے اللہ تعالی اِس مشکل گھا ٹی سے گزرنے کی تمہیں ہمت دے مر شد کا آ پ کو دور بھیجنا اِس میں بھی حکمت پو شیدہ تھی انسان جب رشتہ داروں سے دور رہتا ہے تو تنہا ئی برسات بن کر آنکھوں سے بر ستی ہے پھر ہجر گداز آنسو با طن میں دبی ہو ئی آتش عشق کو بھڑکا ئیں گے پھر با طن میںنو راور مشاہدہ بیدار ہو گا بلھے شاہ تلاش حق اورمعرفت الٰہی کی تکمیل کے لیے جھنگ میں دریا ئے چناب کے کنا رے جھو نپڑی بنا کر خیمہ زن ہو گئے آپ فطرت سنا ٹا اوردریا کا شور آپ فطرت کے مہمان بن چکے تھے اوپر خدا نیچے خدا کی زمین اور اُس کے اسباب آپ کی گزراوقات جنگلی پھلوں پر تھی پھلوں کے ختم ہو نے پر درختوں کے پتے پیٹ کی آگ بجھا نے کے لیے کھا تے تیز آندھیوں نے بار بار آپ کی شکستہ جھونپڑی کو تنکا تنکا کر کے اڑا دیا لیکن آپ پھر تنکا تنکا جو ڑ کر آستانہ بنا لیتے مو سمی شدت اور سخت مجاہدوں نے آپ کے چہرے اور جسم کی لالی چھین لی آپ کا رنگ سیا ہ پڑ گیا اور پھر مرشد اور گھر والوں کی جدا ئی’ جب جدائی کی آگ جسم و روح کو جھلسانے لگتی تو مضطرب ہو کر مرشد کریم کی طرف منہ کر کے عرض کرتے شہنشاہ اگر اجازت ہو تو قدم بوسی کے لیے حاضر ہو جائوں لیکن اُسی رات ہی مرشد عنایت قادری صاحب خوا ب میں آکر حو صلہ دیتے کہ مشکل کے بعد ہی آسانی آ تی ہے فراق کے بعد ہی وصال آتا ہے ‘ آتش ِ فراق میں جتنا جلو گے اتنا ہی کندن بنو گے ۔ تانبے کی کثافتیں دور ہو تی ہیں تو ہی تانبا سونا بنتا ہے تم پارس بن رہے ہو جس سے لو ہا بھی مس کر ے گا تو سونا بن جا ئے گا بلھے شاہ جاگ کر سرشار ہو ئے کہ مرشد میرے حال سے با خبر ہیں جب بلھے شاہ کو گھر سے گئے ہو ئے کئی سال گزر گئے تو والدہ شدید اداس ہو کر آپ کے با پ سے مخا طب ہو ئیں کہ صدیا ں گزر گئیں بلھے شاہ کی کو ئی خبر نہیں مجھے ایک بار بلھے شاہ کے پا س لے چلو میری جلتی آنکھوں کو قرار مل جا ئے گا ماں کے اصرار کر نے پر باپ سید سخی محمد پانڈو کے سے لا ہور کی طر ف روانہ ہوئے حضرت عنایت قادری نے اِس شرط کے ساتھ اجازت دی کہ بیٹے کا دیدار ہی کر نا ہے اُس کے جذب و سکر ارتکا ز میں خلل ڈالنے کی کو شش نہ کر نا وہ انتشار اضطراب بے قراری سے یکسوئی کی طرف بڑھ رہا ہے وہ بڑی تبدیلی سے گزر رہا ہے اُس کو اپنی ذات کی تکمیل کر نے دینا اور پھر طویل سفر کے بعد جب سرخ و سفید رنگ سیا ہی میں بد ل چکا تھا اور جسم ہڈیوں کا ڈھانچہ بن چکا تھا بیٹے کا رنگ روپ فنا ہو چکا تھا با پ بیٹے کی آنکھوں سے آنسوئوں کا سیلاب جا ری تھا اسی دوران قریبی گائوں سے کسان لو گ آگئے اور بو لے آپ کی دعائوں سے ہما ری فصلیں خوب اچھی ہو ئی ہیں بیٹے کی روحا نیت اور فیض دیکھ کر با پ بہت خو ش ہوا اور بیٹے سے کہا جان پدر اپنی کامیابیوں پر مغرور نہ ہو جا نا یا د کرو جب تم ایک خوش رنگ گلاب کی طرح تھے لیکن تم میں خو شبو نہیں تھی مر شد کی آبیا ری اور اللہ کے کر م سے اب تم مہکنے لگے ہو بے شما ر پھو ل ایسے ہو تے ہیں جن میں خو شبو نہیں ہوتی پھر رات گزار کر بے شما ر دعائوں کے ساتھ ماںبا پ واپس چلے گئے پھر بلھے شاہ دریا کا کنا رہ رات کا سنا ٹا اور فطرت ذکر اور مجا ہدات کی بدولت آتش عشق کی چنگا ریاں با طن سے پھوٹتی رہیں مر شد کی جدا ئی جب جان لیوا ہو گئی سانسیں رکنا شرو ع ہو گئیں تو مرشد کریم کو مخاطب کر نے لگے شاہا اِس غلام کو اپنی دید سے کتنی دیر محروم رکھیں گے کہیں جدا ئی کی آگ میری آنکھوں کا نورنہ چھین لے ‘میری بینا ئی نہ رہی تو آپ کا دیدار کیسے ہو گا رات کو پھرمر شد کریم خواب میں آئے اور مشفقانہ لہجے میں بو لے سید زادے اگر تمہا ری ظاہری آنکھیں بجھ بھی گئیں تو خالق کائنات تمہا ری با طن کی آنکھیں روشن کر دے گا پھر تمہا رے باطن میں کائنات کے لاکھوں منا ظر روشن ہو جائیںگے صبر کرو اللہ تعالی صبر کر نے والوں کے ساتھ ہے بلھے شاہ آتش فراق میں سلگتے رہتے اکثر جب جان لبو ں پر آتی فراق کی آگ ہڈیوں تک اترنے لگتی تو مرشد خواب میں آکر حو صلہ دیتے مرشد کے دیدار کے بعد بلھے شاہ حو صلے میںآجاتے آپ کا جذب وسکر اورجنون عروج پر تھا کہ یہاں کا بڑا زمیندار حافظ بر خودار آپ کے عقیدت مند ہو گئے ایک دن حا فظ بر خو دار اپنے عیا ش منچلے نو جوان بیٹے کو ہدایت کے لیے آپ کے پاس لایااُس کا بیٹا اوباش بگڑا ہوا نوجوان تھا جو کسی کو خا طر میں نہیں لا تا تھا بیٹے کا نام سلطان احمد تھا مر شد نے خوا ب میںآکر حکم دیا کہ سلطان احمد کا ہا تھ پکڑ لو جب سلطان احمد آپ کے پاس آیاتو تحقیر آمیز نظروں سے آپ کو دیکھنے لگا ۔ بلھے شاہ نے کہا سلطان احمد تمہا رے قدموں میں ہم نے اپنی زنجیر ڈال دی ہے اب تم کہیں نہیں جا سکتے اب تم ہما رے سلطان ہو سلطان بو لا میں جا رہا ہوں مجھے روک کر دکھا ئیں لیکن جب اُس نے چلنا چاہا تو لگا پتھر کا مجسمہ بن چکا ہے جب با ربار چلنے کی کو شش کی تو دھڑام سے زمین پر گر پڑا درویش کا رنگ جلال کام کر چکا تھا سلطان احمد پر دہشت طا ری تھی اپنے دوستوں سے کہا آپ سب جا ئو اب میری منزل یہی ہے بلھے شاہ اٹھے سلطان احمد کو اٹھا کر گلے سے لگا یا سلطان احمد کی حالت غیر ہو گئی ہچکیاں لے کر رونے لگا بار بار گستاخیوںکی معافی مانگ رہا تھا پھر سلطان احمد اِسی کو چے کا غلام بن کر رہ گیا بلھے شاہ اپنی تکمیل پا چکاتھا کثافت کی جگہ اب نو ر ہی نو ر بچا تھا اب بلھے شاہ کی نظر تلوار بن چکی تھی انہی دنوں ایک اور شخص پر تیر نظر لگ گئی فیصل آباد کے قریب سے ایک نوجوان حافظ جما ل آپ کے پاس آیا اور غلامی کی درخواست کی بلھے شاہ پہلے تو انکا ر کر تے رہے پھر مر شد کے حکم پر اُسے بھی بیعت کر لیا اب یہ دونوں مرید بلھے شاہ کی خدمت کر تے اور اپنے با طن کے اندھیروں کو اجالوں میں تبدیل کر تے حافظ جمال تو کچھ عر صے بعد چلے گئے لیکن سلطان احمد نے زندگی کا آخری سانس بھی بلھے شاہ کے قدموں میں لیا بلھے شاہ کی زندگی میںہی سلطان احمد عرف مستانہ کا انتقال ہو گیا اُس کے انتقا ل کے بعد بلھے شاہ مستا نہ کے بیٹے سے بہت محبت کر تے پھر فراق کا وقت ختم ہوا اور بلھے شاہ مرشد کے حکم پر لا ہور واپس آگئے پھر اہل دنیا نے وہ منظر بھی دیکھا کہ جب بلھے شاہ دیوانہ وار اپنے مرشد کے حضور حا ضر ہوئے خو شی سے دیوانے ہو گئے اتنا روئے کہ ہو ش نہ رہا مر شد کے قدموں سے لپٹ گئے بار بار ایک ہی بات شاہا مجھے اپنے قدموں سے دور کیوں کیایہاں لو گ آپ کے قریب کا لطف اٹھا رہے تھے اور میں دوری کی آگ میں جھلستا رہا فرزند یہاں قریب رہنے والے دوری پر ہیں اورتم دور رہ کر بھی میرے دل کے قریب ہو حضرت عنایت قادری نے بلھے شاہ کو گلے سے لگا یا اور کہا سید زادے آتش فراق میںتمہیں جلا نے کا مقصد تمہیں اکسیر بنا نا پا رس بنا نا تیر نظر عطا کر نا نور و نور کر نا تھا بلھے شاہ بار بار ایک ہی بات کہتے شہنشاہ اِس غلام کو جتنا مر ضی جلا دیں خاک کر دیں ریزہ ریزہ کر دیں میری خا ک کے ذرات کی جنت آپ کے پا ئوں مبا رک ہیں مجھے اِس شان سے محروم نہ کر یں اِس غلام کو اپنے قدموں میں ہی جگہ دیں بلھے شاہ کی حالت دیکھ کر حضرت عنا یت قادری کے چہرے پر جلال کی آنچ روشن ہو ئی اور پر جلا ل آواز میں بو لے فرزند اللہ کے کرم سے تم دونوں جہاں میں میرے ساتھ ہو گے بلھے شا ہ کی جھلستی روح کو قرار آگیا ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں