چور سے چیف اکاونٹنٹ تک

بہت وقت پہلے کی بات ہے، ایک دینی مدرسے میں طلبہ تعلیم و تعلم میں مشغول تھے۔ سالوں کی محنت کے بعد کچھ طلبہ حصول علم کے بعد جب گھروں کو جانے لگے تو استاد محترم نے نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: لوگوں کے محتاج مت بننا کیونکہ جو دنیا داروں کے در پہ جاتا اس میں کوئی خیر نہیں رہتی، تم میں سے ہر ایک اپنے والد کا پیشہ اختیار کرے اور اس میں تقویٰ کا خیال رکھنا۔ علماءکرام کی یہ چھوٹی سی جماعت اپنے اپنے شہروں کی طرف روانہ ہوگئی۔ ان طلبہ میں ایک طالبعلم ایسا بھی تھا جس کی پڑھائی میں توجہ کم تھی لیکن اساتذہ کا بہت فرمانبردار تھا۔ سو یہ لڑکا بھی گھر پہنچا، کچھ دنوں بعد اس نے اپنی والدہ سے پوچھا میرے والد کا پیشہ کیا تھا؟ ماں بیٹے کے اچانک سوال پر چونک پڑیں اور ٹال مٹول کرنے لگیں لیکن بیٹے کا اصرار پر والدہ نے انتہائی افسردہ لہجے میں کہا ”تم بار بار پوچھ رہے ہو تو سنو! ”تمہارا والد چور تھا“۔ لڑکا کسی طرح کا ردعمل دیے بغیر اپنی والدہ سے مخاطب ہوا۔ ہمارے استاد محترم نے فرمایا تھا، اپنے والد کا پیشہ اختیار کرنا اور اس میں تقویٰ کا خیال رکھنا“۔ والدہ نے کہا ”تیرا ناس ہو، چوری اور تقویٰ شعاری“ لڑکے نے چوری کے متعلق معلومات اکھٹی کرنا شروع کردی۔ چوری کیسے اور کس طرح کی جاتی ہے؟ چوری اور اس کے متعلقہ اوزار جمع کرنے کے بعد ایک دن بعد نماز عشاءچوری کرنے کا ارادہ کیا اور پھر لوگوں کے سوجانے کا انتظار کرنے لگا۔ جب سب لوگ گہری نیند سوگئے اور ہر طرف سناٹا چھا گیا تو اس نے پڑوسی کے گھر چوری کرنے کا پروگرام بنایا۔ جب پڑوسی کے گھر داخل ہوا تو اسے خیال آیا پڑوسی کو تکلیف دینا گناہ کا کام ہے اور تقویٰ کے خلاف بھی۔ جب اگلے گھر میں داخل ہوا تو وہ یتیموں کا گھر تھا۔ اسے اللہ کا فرمان یاد آگیا کہ یتیموں کا مال کھانے سے اللہ نے منع کیا ہے۔
اس طرح ایک گھر سے دوسرے میں داخل ہوتا اور کوئی نہ کوئی بات سوچ کر اسے تقویٰ کے خلاف کہہ کر آگے نکل جاتا۔ بالآخر تاجر کے گھر کے پاس پہنچا اور اپنے آپ سے مخاطب ہوا۔ ہاں! یہ گہر ٹھیک ہے، جہاں چوری کی جاسکتی ہے۔ یہ سوچتے ہوئے اس نے تھیلے سے چابیاں نکالیں اور ایک چابی لگا کر اندر داخل ہوگیا۔ گھر چونکہ بہت بڑا تھا وہ اس نے کچھ سوچا اور ایک کمرے میں داخل ہوگیا۔ وہاں بہت مال تھا، تجوری بھی موجود تھی۔ اس نے لالٹین روشن کی اور میز پر رکہ دی۔ اس سے پہلے کہ وہ چوری کرتا اسے خیال آیا، کیوں نہ دیکھا جائے تاجر نے زکوٰة ادا کی ہے کہ نہیں؟ اس سوچ کے آتے ہی وہ رجسٹروں کو چیک کرنے لگا اور پھر حساب و کتاب لگا کر زکوٰة کا مال الگ کرنے لگا۔
حساب میں اس قدر مشغول ہوا کہ وقت کا پتہ ہی نہیں چلا اور نماز فجر کا وقت ہوگیا۔ اس نے دل ہی دل میں کہا تقویٰ کا تقاضا یہ ہے کہ پہلے نماز پڑھی جائے۔ ہر چیز وہیں چھوڑ کر صحن میں آیا اور وضو کرکے اقامت کہنے لگا۔ اتنے میں گھر کا مالک جاگ اٹھا، تجوری کھلی ہوئی ہے، لالٹین روشن ہے اور صحن کے درمیان میں کھڑا ایک شخص اقامت کہہ رہا ہے۔ تاجر کی بیوی جاگ اٹھی اور کہنے لگی کیا ماجرا ہے؟ تاجر نے کہا مجھے کیا معلوم۔ تاجر کے پاو ¿ں تلے سے تو جیسے زمین ہی سرک گئی ہو۔ تاجر نے اس سے پوچھا ”تم کون ہو اور یہاں کیا کر رہے ہو؟ نوجوان نے بے نیازی سے کہا پہلے نماز پھر بات کریں گے۔ مالک مکان کے لیے تو انکار کا کوئی تصور تھا ہی نہیںکیونکہ خوف کے مارے اس کی بری حالت ہوگئی تھی۔ جیسے ہی تاجر وضو کرکے آیا تو نوجوان مخاطب ہوا۔ چلیے آپ نماز پڑھائیں۔ تاجر نے انکار کیا تو نوجوان نے کہا آپ صاحب منزل ہیں آپ کا حق زیادہ ہے۔ تاجر نے کس حال میں نماز پڑھائی اللہ بہتر جانتا ہے۔ جیسے ہی نماز سے فارغ ہوئے۔ تاجر نے کہا اب بتاﺅ تم کون ہو؟ نوجوان نے کہا میں چور ہوں۔ 6سال ہوگئے تم نے زکوٰة کیوں ادا نہیں کی؟ زکوٰة کا مال علیحدہ کردیا ہے تاکہ تم غریبوں اور مسکینوں میں تقسیم کرسکو۔
تاجر بوکھلا گیا۔ تعجب اور حیرت سے کہنے لگا کیا تم پاگل ہو؟ نوجوان نے کہا نہیں! بالکل تندرست صحت مند اور توانا ہوں۔ تاجرنے کہا تو پھر تم چوری کیوں کررہے ہو؟ اس کے جواب میں نوجوان نے پوری داستان سنادی۔ جب تاجر نے لڑکے کا بھولا پن، معصوم سی شکل و صورت اور حساب میں مہارت دیکھی تو اپنی بیوی کے پاس گیا اور کہنے لگا۔ تم اپنی بیٹی کے رشتے کے لیے پریشان تھی اللہ نے نیک سیرت و صورت رشتہ تمہارے گھربھیج دیا ہے۔ باہمی رضامندی کے بعد وہ نوجوان کے پاس آیا اور کہنے لگا۔ دیکھو بھئی! چوری کرنا بری بات ہے۔ اگر تمہیں مال چاہیے تو اس کا ایک طریقہ ہے۔ نوجوان نے کہا وہ کیا؟ تاجر نے کہا میں اپنی اکلوتی بیٹی کی شادی تم سے کردیتا ہوں اور اپنا چیف اکاو ¿نٹنٹ بنادیتا ہوں۔ تم اپنی والدہ سے مشورہ کرلو۔ اس کی والدہ نے بھی اس رشتے کی قدر افزائی کی اور پھر اگلے دن گواہان کی موجودگی میں دونوں کی شادی کردی گئی۔
قارئین کرام: جب انسان کے ارادے نیک ہوں تو اللہ تعالی بھی مہربانیوں کے دروازے کھول دیتا ہے۔ مشکلات کے درمیان سے آسانیوں کے راستے نکلتے چلے جاتے ہیں۔ جب عزم پختہ، کامل جستجو اور مسلسل محنت ہو تو ناممکنات بھی ممکنات میں بدل جاتی ہیں۔ تو ہمیں بھی ہر حال میں اللہ سے ڈرتے رہنا چاہیے۔
تحریر: اے اے کشمیری

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.