49

پاکستان کا سیاسی نظام

پاکستان کا سیاسی نظام
پاکستان کے جمہوری نظام میں آئین پاکستان کے مطابق ہر 5 سال کے بعد عوام کو حق دیا گیا ہے کہ وہ اپنے ووٹ سے آنے والی حکومت کو منتخب کر سکیں.
اس بات سے قطع نظر کہ مملکت پاکستان کے قیام سے لے کر اب تک کئی بار اس اس سیاسی نظام کی بساط الٹ دی گئی اور اپنی مرضی کے نظام کو لایا گیا پھر بھی جب کبھی اس نظام کو دوبارہ نافذ کیا تو کبھی غیر جماعتی اور کبھی جماعتی بنیادوں پر الیکشن کرائے گئے اور عوام سے مینڈیٹ لے کر حکومتیں بنائ گئیں. کبھی ایک اور کبھی دوسری جماعت یوں لولی لنگڑی جمہوریت اب تک چلتی آ رہی ہے. اب تک کے ہونے والے تمام الیکشن کا اگر تفصیلی جائزہ لینے بیٹھ جائیں تو یقیناً ہزاروں صفحات پر مشتمل ایک کتاب لکھنی پڑھ جائے مگر آج کی تحریر کا مقصد اس نظام کے ایک پہلو کو زیر بحث لانا ہے.
آج تک کے ہونے والے تمام الیکشن میں کبھی ملے جلے اور کبھی 2 تہائی اکثریت حاصل کر کے سیاسی جماعتوں نے اپنی حکومتیں بنائیں مگر سوال تو یہ ہے کہ اتنی بڑی آبادی پر مشتمل اس ملک کے کتنے عوام نے اپنی رائے کا اظہار کیا اور یہاں یہ بھی بات قابل ذکر ہے کہ ہر الیکشن میں ہارنے والی جماعتوں نے دھاندلی کا الزام لگانا بھی اپنا فرض سمجھا شاید اس میں حقیقت بھی ہو مگر تاریخ تو یہ بتاتی ہے کہ اس ملک کی اکثریت نے تو سرے سے اس سیاسی عمل میں حصہ ہی نہیں لیا. اسکی وجہ یا تو اس نظام سے انکی مخالفت ہے یا انہیں اس بات سے کوئی سروکار ہی نہیں کہ کون حکومت میں آتا ہے اور کون جاتا ہے. صرف 2008 اور 2013 کے الیکشن میں حصہ لینے والے ووٹرز کے اعداد و شمار پر نظر دوڑائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ
کے پی کے میں 2008 میں %34 اور 2013 میں %45
فاٹا میں 2008 میں %31 اور 2013 میں %36
فیڈرل کیپیٹل میں 2008 میں %50 اور 2013 میں %62
پنجاب میں 2008 میں %48 اور 2013 میں %60
سندھ میں 2008 میں %44 اور 2013 میں %54
بلوچستان میں 2008 میں %31 اور 2013 میں %43
مجموعی طور پر 2008 میں % 44 اور 2013 میں %55 ووٹرز نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا.
2013 کے الیکشن میں کل رجسٹر ووٹرز کی تعداد 84207524 تھی اور صرف 48217482 ووٹرز نے اپنا ووٹ پول کیا.
ان اعداد و شمار کے مطابق آپ خود ہی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ہم اس نظام کو کامیاب یا ناکام بنانے کے لیے کیا کردار ادا کر رہے ہیں. تقریباً آدھے ووٹر اس عمل میں حصہ ہی نہیں لیتے کیوں یہ ووٹر اس عمل میں حصہ نہیں لیتے اور اسکی وجوہات پر الگ سے بحث کی جاسکتی ہے اور ان اعداد و شمار میں کتنے لوگ ہیں جن کا نام ووٹر لسٹ میں شامل ہی نہیں تھا. مگر یہ پہلو قطعی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ اکثریت اس ملک کی اس سیاسی عمل میں حصہ نہیں لیتی. اکثر اس موضوع پر لکھی جانے والی تحریروں سے اندازہ لگایا جائے تو لکھنے والے اس کو عوام میں شعور و تعلیم کی کمی کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں مگر میری ناقص رائے اسکی نفی کرتی ہے کیونکہ اس ملک کی اکثریت پڑھی لکھی عوام ہی اس سیاسی عمل میں شریک ہونے سے کتراتی ہے.
سیاسی جماعتیں جیسے تیسے کر کے جب اقتدار کے ایوانوں میں پہنچتی ہیں تو انکی جانب سے عوامی مینڈیٹ کے دعوے سن کر حیرت ہوتی ہے کہ جناب آپ تو 18 کروڑ کی آبادی میں سے صرف 4 کروڑ 82 لاکھ کی رائے میں سے بھی جو آپکے حصہ میں جو ووٹ آئے انکی آپ ترجمانی فرما رہے ہیں باقی کی عوام تو آپ سے قطع تعلق ہے.
ضرورت اس امر کی ہے کہ عوام کو پہلے تو اپنا ووٹ رجسٹر کرانا چاہیے اور پھر جب بھی اس سیاسی عمل کا انعقاد ہو تو ووٹ کو اس ملک کی امانت سمجھتے ہوئے اس ملک کی بہتری اور بقا کی خاطر اپنا حق رائے دہی استعمال کرنا چاہیے. تا کہ ملک میں حقیقی جمہوریت کا تسلسل جاری رہے. موجودہ الیکشن کمیشن اور حکومت اس بات کو یقینی بنائے کہ عوام کو اس عمل میں زیادہ سے زیادہ حصہ لینے کی ترغیب دے. بلاشبہ گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ اس عمل میں لوگوں کی دلچسپی میں اضافہ دیکھا گیا ہے مگر جس تیزی سے آبادی میں اضافہ ہو رہا ہے اس کے تناسب سے یہ اعداد و شمار کسی صورت بھی حوصلہ افزا نہیں. عوام الناس سے گزارش ہے کہ وہ اس سیاسی عمل میں لازمی شریک ہوں اور یہ قومی فریضہ انجام دیں
شکریہ
اپکی دعاؤں کا طالب
ملک عبدالصبور
03135222404
03365222404

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں