جلتے چنار ۔۔لہو لہو قرآن

کائنات کی تخلیق اربوں سال پرانی بات ہے کب وجود میں آئی ا س کا علم علام الغیوب کو ہی ہے باقی سب اندازے ہیں اور کائنات میں کرّہ ارض کی تخلیق و تعمیر کے بارہ میں ارشادات قرآنیہ واضح ہیں مگر کب تک قائم رہنا ہے اس کے مقرر وقت کا علم بھی صرف خالق کائنات کو ہے تخلیق آدمیت، تخلیق آدم سے ہوئی اور یوں یہ سلسلہ دراز ہوا۔ آدم جہاں بابائے آدمیت اور جد اعلیٰ ہیں وہیں کرّہ ارض والوں کی رہنمائی کے لئے پہلے نبی/رسول اور پہلے معلم و رہنما بھی ہیں۔ چونکہ مقابلہ تخلیق آدم سے ہی شروع ہوا تو یہ بھولا بھالا انسان اپنے مد مقابل شیطان سے کبھی ہار رہا ہے اور کبھی مار کھا رہا ہے۔ حالانکہ تھوڑی سی محنت سے یہ مقابلہ جیتا جا سکتا ہے ہے۔ انسان کی رہنمائی /ہدایت کے لے پے درپے انبیاء و رسل کا سلسلہ جاری ہوا اور یہ سلسلہ ایک طویل عرصہ تک تواتر کے ساتھ جاری رہا۔ نبوت و رسالت کی ابتدا آدم سے ہوئی اور اس کا تواتر کے ساتھ جاری رہا۔ نبوت و رسالت کی ابتداء آدم سے ہوئی اور اس کا اختتام و انتہاء سرکار دو عالم خاتم الانبیاء حضرت محمد رسول ۖ پر ہوئی ۔ آپ علیہ السلام اللہ کے آخری نبی و رسول ہیں آپ کے بعد جو بھی نبوت کا دعویٰ کرے گا وہ کذّاب دجّال اور دنیا کار رزیل و گھٹیا ترین انسان تو ہو سکتا ہے نبی و رسول نہیں ہو سکتا۔ حق و باطل کی معرکہ آرائی ہابیل و قابیل کے مقابلہ سے شروع ہو گئی تھی اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے اور تاقیامت جاری رہے گا۔ دنیا میں ہمیشہ دو نظریئے اور دو فکریں پروان چڑھی ہیں ایک نظریہ اور فکر وہ ہے جس کو اللہ کی وحدانیت ، حق راستی اور سچائی کہا جاتا ہے اور یہی اسلام ہے جبکہ بالمقابل شرک ، باطل ، جھوٹ اور مکر و فریب ہے اور یہی کفر ہے۔ اسلام اور کفر یعنی حق و باطل کی معرکہ آرائی کی داستان طویل تر ہے اور اس معرکہ آرائی نے قیامت تک جاری رہنا ہے۔ آج بھی کشمیر، فلسطین، افغانستان ، برما و شام میں خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہے ۔ کشمیر میں ستر سال سے سہاگنیں بیوہ ہو رہی ہیں ۔ بچے یتیم ہو رہے ہیں، بڑھاپے کا سہارا چھینا جا رہا ہے ، بوڑھوں کے آنسو بھی خشک ہو گئے۔ جنت نظیر وادی جہنم زار بن چکی ہے آگ و دھواں اور گن و گولی بالمقابل چیونٹی ستر سال سے مقابلہ پر جمی ہوئی ہے۔ استقامت پر کیسی استقامت کہ جس نے پہاڑوں کو بھی استقامت میں مار دے دی ہے۔ کشمیر لہو لہان ہے مودی عالمی ضمیر خاموش ہے ظاہر ہے مردہ خاموش ہی رہتا ہے اور پھر تمام کفار آپس میں بھائی بھائی ہیں مگر تمام کفر کا باپ تو ایک ہی ہے ۔کشمیر کے چنار سلگ رہے ہیں یہ سلگتے چنار منتظر ہیں پھر کسی محمد بن قاسم اور محمود غزنوی کے لیکن شاید وہ مائیں ہی مر چکی ہیں جو محمد بن قاسم اور محمود غزنوی جیسے سپہ سالار جنم دیتی تھیں۔ برما میں ٹوکوں اور کلہاڑوں سے زندہ انسانوں کو کاٹا گیا، شام میں کیمیائی حملے ہوئے ، رمادی میں زیر زمین سرنگیں پناہ گزینوں کے لئے قبر بن گئیں۔ سوشل میڈیا پر منہ اور ناک سے جھاگ اگلتے پھول جیسے بچے عبرت کی تصویر بنے ہوئے امت مسلمہ کی بے ضمیری ، بے حمیتی اور بے غیرتی پر نوحہ کناں تھے۔ عراق و فلسطین تو قصہ پارینہ بن چکے ۔ الامان الحفیظ اور بالمقابل افغانستان قندوز میں قائم درسگاہ جامعہ ہاشمیہ میں بخاری شریف کا آخری درس ہوا۔ سینکڑوں طلباء آج علم کی دستار فضیلت سجائے اپنے شیوخ و اساتذہ کی آخری دعا اور مبارکباد کے منتظر ہیں۔ 200سے زائد قرآن کریم کے حفاظ بھی پگڑیاں سجائے اپنی اسناد گود میں رکھے بیٹھے تھے کہ امریکی فائٹر طیاروں نے اُڑان بھری ٹنوں وزنی بم گرائے ۔ آگ وبارود کا ایک طوفان اُٹھا ، 450سے زائد علماء ، طلباء اور عام مسلمان جام شہادت نوش کر گئے۔ جن میں102صرف قرآن کریم کے حافظ تھے۔ عالمی میڈیا پرپھر بھی کچھ ایک آدھ خبر چلی مگر ہمارے پاکستان کے جعلی اور دجالی میڈیا نے چپ سادھ لی مملکت پاکستان میں بھی عجیب تماشے ہوتے ہیں۔ سپریم کورٹ میں 20لاکھ کے قریب مقدمات فیصلہ کے انتظار میں ہیں اور ہمارے چیف جسٹس صاحب پاکستان گٹکا اور ماوا پر پابندی کے اقدامات میں اُلجھے ہوئے ہیں ۔ ہمارا میڈیا مکمل خاموش موم بتیاں آنٹیاں چوہوں کی طرح اپنے بلوں میں گھس گئیں۔ سیکولر طبقے کی بھی ماں مر گئی۔ کسی کے منہ سے دو حرف تعزیت کے نہ نکل سکے۔ بھارت وامریکہ جمہوریت کے علمبردار اور لبرل ازم کے دعوے دار ہیں جبکہ حقیقت میں مودی اور ٹرمپ دنیاکے ٹاپ کلاس نمبر 1اور نمبر 2دہشت گرد ہیں ۔یہ دنیا میں شیطان کے دوسرا روپ ہیں اور یہ دونوں اپنے لے پالک اسرائیل کے ساتھ پوری دنیا کو تیسری جنگ کی طرف دھکیل رہے ہیں یہ سب مل کر پوری دنیا میں مسلمانوں پر ظلم و ستم کر رہے ہیں آپ مقبوضہ کشمیر میں دیکھیں تو وہاں انڈین فوج اسرائیلی ہتھیار سرعام استعمال کر رہے ہیں۔ افغانستان میں انڈیا وامریکہ کے ساتھ مکمل تعاون کر رہا ہے۔ جبکہ درپردہ اور سامنے بھی اسرائیل ان کا ہر اعتبار سے معاون ہیں۔
شام میں شاخ زیتون پر بارود جم چکا ہے کشمیر کے سلگتے چنار بھسم ہونے کے قریب ہیں اور قندوز میں قرآن لہو لہان ہے۔ پشار میں A.P.Sپر حملہ ہوا یہ حملے کرنے والے اور کروانے والے دنیا کے بزدل ترین لوگ تھے یہ اگر بزدل اور بے غیرت نہ ہوئے تو یہ بچوں پر کبھی بھی ہاتھ نہ اٹھاتے ۔جہاد کے اصولوں میں سے ایک سنہری اصول یہ ہے کہ مجاہد کبھی بھی بوڑھوں ، عورتوں اور بچوں پر ہاتھ نہیں اُٹھا۔ مجاہد تو مردانہ وار میدان جہادمیں مقابلہ کرتے ہوئے لیلائے شہادت کی آغوش میں سو جاتا ہے۔ A.P.Sپر حملہ ہوا اس وقت بھی حملہ آوروں کے سرپرست اور مددگار افغانستان میں بیٹھے ہوئے تھے اور آج قندوز میں بچوں پر حملہ آور بھی افغانستان میں بیٹھے ہیں۔ A.P.Sکا سانحہ پاکستان کی تاریخ کا بدترین سانحہ تھا۔ انتہائی وحشیانہ فعل ، انتہائی المناک وہاں مذمت بھی ہوئی اور عملی اقدامات بھی ہوئے کچھ دہشت گرد شاید کیفر کردار تک بھی پہنچے۔ باقی پھر افغانستان جا کر اپنے بڑوں کی گود میں بیٹھ گئے اور ہم پانامہ پانامہ کے کھیل میں مصروف ہو گئے۔ کشمیر میں چنار جلتے اور سلگتے رہے جبکہ قندوز میں قرآن لہولہان ہوا۔ آپ سوشل میڈیا پر دیکھیں تمام حفاظ بچے اپنے آخری سبق کے لئے اپنے اپنے قرآن اپنی گود میں لے کر بیٹھے ہوئے تھے وہ تمام نسخہ جات اپنے حامل اور اپنے حافظ کے ساتھہی لہولہان ہو گئے یہ بعینہ شہادت حضرت عثمان غنی کا منظر تھا۔ قیامت والے دن یہ اپنے حاملین کو اپنے ہمراہ جنت میں لے جائیں گے ۔ لیکن ہم وہ لوگ جو امت مسلمہ کہلاتے ہیں ہمیں اپنے کردار کا تعین کرنا ہو گا کہ ہم کس سمت سفر کر رہے ہیں ہم بے غیرتی، بے حمیتی، بے ضمیری اور بزدلی کے کس سٹیج پر پہنچ چکے ہیں۔ ہماری اجتماعی و انفرادی خاموشی کا آخر کیا مطلب ہے؟ دنیا تیسری عالمگیر جنگ کی طرف بڑھ رہی ہے۔ پاکستان کو غیر مستحکم کیا جا رہا ہے تمام عالمی غنڈے امریکہ و اسرائیل، ایران ، بھارت اور ان کے حواری اکھٹے ہو چکے ہیں امت کا خون بہہ رہا ہے۔ چنار سلگ رہے ہیں اور قرآن لہولہان پکار رہا ہے کہ ہے کوئی جو پھر سے محمود غزنوی کی یاد تازہ کرے ، ہے کوئی جو صلاح الدین ایوبی کا کردار ادا کرے؟؟؟ ہے کوئی جو محمد بن قاسم بن جائے۔۔۔؟؟؟
تحریر : قاضی محمد حفیظ عابد

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.