62

ایم کیو ایم اور پاک سر زمین پارٹی کا اتحاد،’اسٹیبلشمنٹ کے غلبے میں چلنے والی جمہوریت کا ماڈل‘

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان اور پاک سرزمین پارٹی کے رہنماؤں نے ‘چھ ماہ کی مشاورت اور گذشتہ رات کے اجلاس کے بعد صوبہ سندھ میں ووٹ بینک کو تقسیم ہونے سے بچانے، عدم تشدد اور عدم تصادم کی پالیسی کو ہر حال میں کامیاب بنانے کے لیے سیاسی اتحاد کا اعلان کیا ہے۔
یہ اتحاد بھی بظاہر ‘گذشتہ رات کی طویل مشاورت’ کے بعد جلد بازی ہی میں قائم کیا گیا کیونکہ بتایا گیا ہے کہ اس اتحاد کے نام اور منشور کا فیصلہ بعد میں مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔ یہ باکل ویسے ہی جیسے مصطفیٰ کمال نے اپنی جماعت بنانے کا اعلان تو کر دیا لیکن اس کا نام اور نشان کے بارے میں اعلان بعد میں کرنے کا کہا
ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے سندھ کی دیگر جماعتوں کو بھی اس اتحاد میں شمولیت کی دعوت دی۔ تاہم انھوں نے ساتھ ہی یہ شعر پڑھ کر اس پیشکش کے بارے میں کہا کہ یہ محدود مدت کے لیے ہے:
مرا یہ دل تمہاری ہی محبت کے لیے ہے
مگر یہ پیش کش محدود مدت لیے ہے
اس اتحاد کے بارے میں میں تجزیہ کار توصیف احمد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریت کا جو ماڈل بنا ہے اس کو یہ کہا جا سکتا ہے کہ عسکری اسٹیبلشمنٹ کی بالادستی ہے۔
‘ایم کیو ایم پاکستان اور پی ایس پی کے سیاسی اتحاد میں عسکری بالادستی ہے اور یہ عسکری اسٹیبلشمنٹ ہی بنیادی فیصلے کر رہی ہے۔ یہ نیا ماڈل عسکری اسٹیبلشمنٹ کے غلبے میں چلنے والی جمہوریت کا ماڈل ہے۔’
ان کا کہنا تھا کہ ان دونوں جماعتوں کا اتحاد سندھ میں ہونے والے آئندہ انتخابات کے لیے ایک اہم موڑ ہے۔
‘ایم کیو ایم الطاف کے ساتھ لوگ تھے اور آئندہ انتخابات میں اس جماعت کا حصہ نہ لینے کے امکانات نہیں تھے۔ اس لیے جب ایک اتحاد سامنے آئے گا تو ممکن ہے کہ یہ اتحاد ووٹ بینک کو سلامت رکھ سکے گا۔’
فاروق ستار کی جانب سے دیگر جماعتوں کو اس اتحاد میں شامل ہونے کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ ہو سکتا ہے یہ مہاجر سیاست کا ایک نیا دور ہو۔
‘امکانات ہیں کہ سابق صدر پرویز مشرف کی جماعت آل پاکستان مسلم لیگ، ایم کیو ایم حقیقی اس اتحاد میں شامل ہوں جائیں اور شاید مہاجر سیاست کا ایک نیا دور آئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

ایم کیو ایم اور پاک سر زمین پارٹی کا اتحاد،’اسٹیبلشمنٹ کے غلبے میں چلنے والی جمہوریت کا ماڈل‘” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں