2017 میں روپے کی قدر میں 5 فیصد سے زائد کمی

2017 میں روپے کی قدر میں 5 فیصد سے زائد کمی نے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کردیا۔جولائی میں اچانک ایک دن میں روپے کی قدر میں 3 روپے 50 پیسے کی گراوٹ دیکھی گئی، جولائی میں انٹربینک میں ایک امریکی ڈالر 108 روپے 50 پیسے تک جا پہنچا تاہم وزیر خزانہ کے نوٹس لینے پر 2 سے 3 روز میں نیچے آگیا تھا اس کے بعد نومبر تک روپے کی قدر میں استحکام رہا۔
دوسری جانب ادائیگیوں کا توازن بگڑنے سے درآمدات میں مسلسل اضافے اور برآمدات میں کمی دیکھی گئی۔دسمبر میں ایک بار پھر کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کے دباؤ نے اپنا اثر دکھایا، اس بار انٹربینک میں روپے کی قدر میں 5 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی اور ڈالر 5 روپے مہنگا ہوکر بلند ترین سطح 110 روپے 50 پیسے پر جاپہنچا۔درآمدکنندگان کا کہنا ہے کہ اس سے درآمدی اشیا مہنگی ہوں گی اور بوجھ عوام کو ہی اٹھانا پڑے گا۔صنعتکاروں کا کہنا ہے کہ اگر ڈالر مہنگا کرنا ہی ہے تو حکومت ایک مربوط پالیسی مرتب کرےتاکہ روپے کی قدر میں گراوٹ کا اثر کو کم کیا جاسکے ۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈالر 5 روپے مہنگا ہونے سے ساڑھے 300 ارب روپے قرض کا بوجھ بڑھنے کے ساتھ درآمدی سامان بھی مہنگا ہوجائے گا جس سے عوام پر ہی بوجھ آئے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.