خود کلامی ذہانت اور یادداشت کو بڑھانے میں مددگار‎

خود کلامی ذہانت اور یاداشت کو بڑھانے میں مددگار ثابت ہوتی ہے . یہ ایک فائدہ مند عادت ہے جو دماغ کی کام کرنے کی صلاحیت میں اضافہ کرتی ہے . خود کلامی کرنے والے افراد کو اکثر غائب دماغ یا کسی ذہنی پیچیدگی کا شکار سمجھا جاتا ہے تاہم ہمیشہ ایسا نہیں ہوتا . نفسیات سے متعلق شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق خود کلامی ذہانت کی نشانی ہے . یہ تحقیق ایسے کئی مفکرین اور سائنسدانوں کی نشاندہی کرتی ہے جو خود کلامی کیا کرتے تھے . معروف سائنسدان البرٹ آئن اسٹائن نئی تحقیق و دریافت کرتے وقت اکثر جملوں کو باآواز بلند دہرایا کرتے تھے .
آپ خود بھی سے آزما کر دیکھ سکتے ہیں اگر آپ دن بھر کے کاموں کو ایک بار باآواز بلند دوہرا لیں تو آپ کے دماغ میں ان کاموں کی ایک لسٹ بن جاتی ہے پھر آپ کچھ بھولے بغیر اپنے تمام امور آسانی سے نمٹا لیتے ہیں اسی طرح کسی مارکیٹ یا اسٹور میں موجود وہ اشیاء جنہیں دیکھ کر آپ خاموشی سے گزر جاتے ہیں ذہن سے محو ہو جاتی ہیں جب کہ وہ اشیاء جن کے نام آپ باآواز بلند پکار لیتے ہیں آپ کی یاداشت کا حصہ بن جاتی ہیں . اسی طرح پڑھتے وقت بلند آواز سے پڑھنا ان الفاظ کو آپ کے حافظے میں محفوظ کر دیتا ہے . خود کو خود ہی سمجھا نے والا انداز بھی بے حد فائدہ مند ثابت ہوتا ہے . تنہائی میں خود کلامی کرنا یا آئینے کے سامنے کھڑے ہوکر خود سے بات کرنا ذہن کی سوچنے اور سمجھنے کی استعداد کو بڑھا دیتا ہے اور اپنے مقاصد کے حصول میں معاون ثابت ہوتا ہے .

کیٹاگری میں : صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.