ایک ننھی مشین جو امراض قلب کے علاج میں معاون ثابت ہوگی

سائنس دانوں نے ایک ایسی ننھی مشین تیار کی ہے جو دل کے مریضوں کے لیے انتہائی مفید ثابت ہوگی یہ مشین دورے کے بعد دل کو مزید نقصان پہنچنے اور والو کو بند ہونے سے بچائے گی۔

دل کے امراض دنیا بھر میں انسانی اموات کے اہم اسباب میں شمار ہوتے ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق 2015ء میں ایک کروڑ 77 لاکھ افراد دل کی بیماریوں کے باعث موت کا شکار ہوگئے۔ یوں اُس برس ہونے والی مجموعی ہلاکتوں میں امراض قلب کا حصہ 31 فی صد تھا۔ امریکا میں ہر سال پندرہ لاکھ افراد کو دل کا دورہ پڑتا ہے۔دورہ پڑنے کے بعد اس کے ضمنی اثرات کے نتیجے میں مختلف امراض دل میں مبتلا ہوکرسالانہ آٹھ لاکھ امریکی زندگی کی جنگ ہار جاتے ہیں۔ دل کے دورے کے بعد اس عضو کے مختلف امراض پر قابو پانے کے لیے امریکی ماہرین نے ایک آلہ تیار کیا ہے۔ یہ آلہ جو ایک ننھی مشین کی شکل میں ہے دل کے دورے کے بعد امراض قلب کے پھیلاؤ میں رکاوٹ بن جاتا ہے اور ہارٹ فیل ہونے سے بچاتا ہے۔محققین نے اس ڈیوائس کو Therepi کا نام دیا ہے۔ انھیں امید ہے کہ یہ ننھی مشین دورے کے بعد دل کو مزید نقصان پہنچنے اور والو کو بند ہونے سے بچائے گی۔ اس ڈیوائس کے ایک سرے کو دل کی ناکارہ بافتوں سے منسلک کردیا جاتا ہے۔ اور دوسرا سرا مریض کی جلد کے نیچے موجود پورٹ سے جوڑ دیا جاتا ہے جس کے ذریعے نرس یا مریض خود بھی دوا کی مطلوبہ مقدار جسم میں داخل کرسکتا ہے۔یہ ڈیوائس جو امراض قلب کی وجہ سے ہونے والی ہلاکتوں کی روک تھام کے ضمن میں انقلابی ثابت ہوسکتی ہے، میساچوسیٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی ( ایم آئی ٹی)، ہارورڈ یونی ورسٹی، رائل کالج آف سرجنز آئرلینڈ، ٹرینٹی کالج ڈبلن، ایڈوانسڈ میٹیریلز اینڈ بایوانجنیئرنگ ریسرچ سینٹر، اور آئرلینڈ کی نیشنل یونی ورسٹی سے وابستہ سائنس دانوں اور انجنیئروں کی مشترکہ ٹیم کی کاوشوں کا نتیجہ ہے۔تحقیقی ٹیم کے رکن اور ایم آئی ٹی کے میکینیکل انجنیئرنگ ڈیپارٹمنٹ کے اسسٹنٹ پروفیسر ایلن روچے کہتے ہیں کہ دل کے دورے کے بعد اس ڈیوائس کے ذریعے دل کو مزید نقصان پہنچنے اور بالآخر ناکارہ ہوجانے سے بچایا جاسکتا ہے۔ دل کو ادویہ پہنچانے کے روایتی طریقے عام طور پر بہت زیادہ مؤثر ثابت نہیں ہوتے۔ ایک طریقہ ناکارہ بافتوں کو مرحلہ وار ادویہ پہنچانا ہے مگر اس طریقہ کار کے تحت ادویہ کی معمولی مقدار ہی مطلوبہ مقام تک پہنچ پاتی ہے۔ Therepi کے ذریعے اس مشکل کو دور کیا جاسکتا ہے۔تحقیقی ٹیم کے رکن اور ٹرینٹی کالج میں ڈاکٹریٹ کے طالب علم ولیم وائٹ کے مطابق فارماکولوجیکل کے نقطۂ نظر سے یہ ایک بڑی مشکل ہے کہ آپ دوا تو جسم میں داخل کریں مگر وہ مطلوبہ مقام یعنی ناکارہ بافتوں تک مطلوبہ مقدار میں نہ پہنچ پائے یا وہاں اتنی دیر تک نہ ٹھہر سکے کہ اس کا اثر ظاہر ہو۔Therepi کا ایک حصہ جیلاٹن پر مشتمل پولیمر سے بنایا گیا ہے اور مستقبل میں انسانی جسم کے اندر ادویہ کی ترسیل و منتقلی میں انقلابی ثابت ہوسکتا ہے۔ اس کی شکل نیم کروی ہے۔ اس کا پیندا چپٹا ہے جو ناکارہ نسیجوں پر آسانی سے ٹکا رہ سکتا ہے۔ پیندا نیم نفوذ پذیر جھلی سے بنایا گیا ہے جس میں سے دوا نکل نکل کر بافتوں تک پہنچتی رہتی ہے۔Therepi میں سب سے زیادہ اہمیت پیندے نما حصے ہی کو حاصل ہے۔ محققین چاہتے تھے کہ یہ حصہ ایک اسفنج کے طور پر عمل کرے تاکہ اس میں سے دوا مطلوبہ مقام پر متقل ہونے کے بعد وہاں نتیجہ خیز عرصے تک موجود رہے۔ یہ ایک مشکل کام تھا کیوں کہ دل ہر لمحہ پھیلتا اور کڑتا رہتا ہے، تاہم ٹیم نے کام یابی سے یہ مشکل مرحلہ سر کرلیا۔اس ڈیوائس کے آزمائشی تجربات چوہوں پر کیے گئے۔ ماہرین نے دیکھا کہ چوہوں میں دل کے دورے کے بعد اس ڈیوائس کے استعمال سے اس عضو کی کارکردگی نمایاں طور پر بہتر ہوگئی۔ چار ہفتوں پر محیط آزمائشی تجربات کے دوران محققین نے چوہوں کے دلوں تک متعدد بار ادویہ پہنچائی اور پریشر والیوم کیتھیٹراور ایکو کارڈیوگرام کے ذریعے دل کی کارکردگی کا جائزہ لیتے رہے۔ انھوں نے دیکھا کہ جن چوہوں پر اس آلے کا استعمال کیا گیا تھا ان کے دل کے افعال بحال ہونا شروع ہوگئے تھے۔سائنس داں کہتے ہیں کہ امراض قلب کے علاج معالجے کے علاوہ بھی اس ڈیوائس کا استعمال کیا جاسکے گا۔ مستقبل میں دل کے علاوہ جسم کے دوسرے حصوں تک ادویہ پہنچانے کے لیے بھی اس ڈیوائس کا استعمال ممکن ہوجائے گا۔ اس طرح مختلف امراض سے لڑنے میں یہ ڈیوائس ڈاکٹروں کے لیے اہم ہتھیار ثابت ہوگی۔

کیٹاگری میں : صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.