2050ءتک سمندر وں میں مچھلیوں سے زیادہ پلاسٹک ہوگا

لندن …. سائنسدانوں نے کہا ہے کہ 2050ءتک سمندر میں مچھلیوں سے زیادہ پلاسٹک موجود ہونگے۔ انہوں نے کہاکہ پلاسٹک کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے بھی سمندر میں موجود ہیںان پر فوری طور پر پابندی لگانا ہوگی۔ انہوں نے خاص طور پر گلیٹر پر زور دیا کہ یہ فیشن ایبل چیز تو سمندر ی حیات کیلئے انتہائی خوفناک ہے کیونکہ یہ ختم ہونے میں بہت وقت لیتے ہیں او راس سے ماحولیاتی انتشار پھیل سکتا ہے کیونکہ سمندری حیات انہیں نگلنے میں دیر نہیں لگاتی۔ سائنسدانوں نے بتایا کہ گلیٹر تو اکثر اوقات متعدد ملکوں میں پینے کے پانی میں بھی پائی جاتی ہے۔اس وقت سمندروں میں 8ملین ٹن پلاسٹک موجود ہے۔ جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ یہ سب پلاسٹک فی منٹ ایک ٹرک کے سامان کے برابر ہے۔ اگر پلاسٹک کا سمندروں میں اسی طرح بنا روک ٹوک بہانا اور پھینکنا ہوتا رہا تو 2050ءتک صورتحال قابو سے باہر ہوجائیگی اور ساحلی آبادی تتر بتر ہوجائیگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں