27

نبی آخرالزماں کا جشن ولادت اور ہماری ذمہ داریاں

پاکستان سمیت پوری دنیا کے مسلمان 12 ربیع الاول کو نبی آخرالزماں، رحمت دو جہاں اور سرور کونین حضرت محمد ﷺ کا جشن ولادت مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ مناتے ہیں۔

گذشتہ روز جشن ولادت با سعادت کے موقع پر ہر مسلمان نے خوشیاں منائیں اور کیوں نہ منائے کہ آپ ﷺ کی وجہ سے ہی تو اللہ رب العزت نے اس جہاں میں رونقیں رکھیں، لیکن یہ دن ہمیں بہت سے سبق بھی سکھاتا ہے جن پر عمل کرکے مسلمان اپنے حقیقی عاشق رسول ﷺ ہونے کا ثبوت دے سکتے ہیں۔

پاکستان میں 12 ربیع الاول کا باقاعدہ آغاز وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے 31 توپوں کی سلامی سے ہوا، جس کے بعد نبی کریم ﷺ کی شان بیان کرنے کے لیے درود و سلام کی محفلیں منعقد کی گئیں اور سیمینارز میں آپ ﷺ کی سیرت اور کردار پر روشنی ڈالی گئی۔نبی آخر الزماں ﷺ سے محبت و عقیدت کے اظہار کے لیے یہ سب چیزیں بالکل ٹھیک ہیں لیکن کیا یہ دن ہمیں صرف خوشیاں منانے، درود و سلام پڑھنے اور نذر و نیاز کرنے کا درس دیتا ہے یا پھر بطور مسلمان ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم اپنے پیارے نبی کے بتائے ہوئے اصولوں کو اپنا کر اپنی زندگیاں سنواریں۔

اگر ہم اللہ کے حبیب کی خصوصیات لکھنا شروع کریں تو شاید یہ سلسلہ ختم ہونے کا نام ہی نہ لے لیکن محمد عربی ﷺ کی چند چیدہ خصوصیات یہ تھیں۔

آپ ﷺ نے اپنی پوری زندگی میں کبھی جھوٹ بولا اور نا ہی کبھی وعدہ خلافی کی، کبھی کسی کا دل نہیں دُکھایا، کسی سے اونچی آواز میں بات نہیں کی، بچوں کے ساتھ ہمیشہ شفقت سے پیش آئے اور بڑوں کا احترام کیا، اپنے جانی دشمنوں کو بھی صرف اللہ کی رضا کے لیے معاف کیا، مریضوں کی مزاج پُرسی کی، اپنے کام خود کیے اور راستے میں پڑی رکاوٹیں تک ہٹانے میں عار محسوس نہ کی۔

ہم نبی کریم ﷺ سے اپنی بے پناہ محبت کے بلند و بانگ دعوے تو بہت کرتے ہیں لیکن افسوس صد افسوس کہ آپ ﷺ کی جن تعلیمات پر ہمیں عمل کرنا چاہیے انہیں ہم نے پس پشت ڈال دیا ہے، یہی وجہ ہے کہ ہم آج زندگی کے ہر میدان میں پیچھے ہیں۔

شاعر مشرق علامہ اقبال نے اس حوالے سے کیا خوب شعر کہا تھا:

وہ زمانے میں معزز ہوئے مسلماں ہو کر

اور تم خوار ہوئے تارک قرآں ہو کر

اگر ہر مسلمان اپنا محاسبہ کرے تو ہمیں بخوبی اندازہ ہو جائے گا کہ ہم اپنے پیارے نبی ﷺ کی بتائی ہوئی تعلیمات سے کس قدر دور ہیں۔

آج ایک عام مسلمان نہ تو جھوٹ بولنے میں عار محسوس کرتا ہے اور نہ ہی دوسروں کا حق کھانے میں اسے کوئی خوف آتا ہے۔

نبی آخر الزماں ﷺ نے ہمیں ایک امت بنایا تھا لیکن ہم نے خود کو تفرقوں میں بانٹ لیا ہے اور ایک دوسرے پر کفر کے فتوے تو ایسے لگائے جاتے ہیں کہ جیسے یہ کوئی عام سی بات ہو۔

حقیقت تو یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کا مرتبہ اور مقام صرف ایک دن منانے سے کہیں زیادہ اعلیٰ و افضل ہے، یہ نہیں کہ ہم صرف ایک دن اپنی عقیدت کا برملا اظہار کریں اور پھر اگلے روز سب کچھ بھول بھال کر جھوٹ، غیبت، الزام تراشی، لڑائی جھگڑے، دھوکہ دہی اور فریب میں مشغول ہوجائیں۔

اگر ہم واقعی خود کو سچا عاشق رسول ﷺ مانتے ہیں تو ہمیں چاہیے کہ ان کے بتائے گئے اصولوں کو اپنی زندگی کا نصب العین بنالیں اور یقین جانیں اس سے نا صرف ہماری زندگیاں بلکہ پورا معاشرہ ایک حقیقی اسلامی معاشرہ بن کر دنیا پر چھا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں