زمین پر ساڑھے تین ارب سال قبل زندگی کے شواہد دریافت

میامی۔۔۔۔۔امریکی سائنسدانوں نے زمین پر ساڑھے 3 ارب سال قبل زندگی کے شواہد دریافت کر لئے۔امریکی نیشنل اکیڈمی آف سائنسز میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق آسٹریلیا سے دریافت ہونے والی ایک چٹان میں پائے جانے والے ’’فوسلز‘‘ پر 10 سال تک تحقیق کے بعد یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ انسانی بال سے باریک اور خالی آنکھ سے نظر نہ آنے والے 11اقسام کے یہ مائیکروبز جو سلنڈریکل اور سانپ سے مشابہ دونوں حالتوں میں محفوظ ہیں ساڑھے تین ارب سال پرانے ہیں۔ ماہرین کے مطابق قبل ازیں سائنسدانوں کے پاس زمین پر تین ارب 95 کروڑ سال قبل زندگی کے شواہد موجود تھے لیکن ان میں سے بعض کی صورت بظاہر مائیکرو فوسل جیسی تھی یا یہ اس کے کیمیائی شواہد تھے، بیک وقت دونوں نہیں تھے جن کی وجہ سے ان پر یقین کرنا ممکن نہیں تھا لیکن آسٹریلیا سے ملنے والی اس چٹان میں دونوں موجود ہیں۔اس چٹان میں جن بیکٹیریا کے فوسل موجود ہیں ان میں سے بعض اب ناپید ہو چکے ہیں جب کہ بعض میں کچھ تبدیلیاں آچکی ہیں۔یہ چٹان 1982ء میں آسٹریلیا کے مغربی علاقے اپیکس چرٹ سے ملی تھی۔یہ فوسل 10 مائیکرو میٹر چوڑے ہیں یعنی آٹھ فوسلز کی مجموعی موٹائی ایک انسانی بال کے برابر ہے۔ماہرین نے ان فوسلز کو قدیم دور کی ایک ترقی یافتہ مائیکروبیل کمیونٹی قرار دیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.