بزنس اور سیاست

جن احباب نے بزنس کی دنیا میں اعلی تعلیم حاصل کررکھی ہے۔ انکے سامنے بزنس پر بات کرنے سے تو ہم کتراتے رہتے ہیں۔ اسی طرح جن احباب نے سیاسیات میں اعلی تعلیم حاصل کررکھی ہے ہم ان سے سیاست پر بات کرنے میں دلچسپی تو رکھتے ہیں لیکن بہت محطاط انداز میں۔ہم ان موضوعات کو احتیاط سے اور ہلکے پھلے انداز میں چھیڑنے کی جسارت کررہے ہیں۔ ایک عام فہم اور سادہ ترین بزنس تھیوری کا ایک رخ ملاحظ کیجیے۔
ایک عام فہم بزنس مائینڈ سیٹ کے مطابق تقریباً ہر شخص چھوٹا موٹا بزنس مین ہوتا ہے۔جسطرح ہر شخص بہت ساری خصوصیات یا ٹیلنٹس کا مالک ہوتا ہے۔ کوئی کم کوئی زیادہ۔ یعنی ہرشخص کچھ بیچ رہا ہوتا ہے یا کچھ خرید رہا ہوتا ہے۔ اگر آپ اس بات سے اگری نہیں کرتے تو آپ بزنس مین نہیں ہیں۔ چلیے مان لیتے ہیں کہ آپ نہ تو کچھ خرید رہے ہیں اور نہ کچھ بیچ رہے ہیں۔ پھر بھی اگر بزنس مین سے ملتے ہیں تو بزنس مین آپکی کھڑے کھڑے قیمت لگا رہا ہوتا ہے۔ موصوف آپ سے پوچھے بغیر آپکی قیمت کا تعین کرچکا ہوتا ہے۔ بعض اوقات پوچھ بھی لیتا ہے کہ آپ نے کیا خریدنا ہے۔ اور کیا بیچنا ہے؟ رسمی جملے مختلف ہوسکتے ہیں۔ بزنس مین جلدی میں ہوتا ہے۔ دو اور دو چار مانتا ہے۔اور آپکو جلد نئے گاہک کے لیے جگہ خالی کرنی پڑتی ہے۔ بزنس تھیوری کے اس مذکورہ باب کے مطابق اگر آپ بزنس نہیں کررہے تو کچھ بھی نہیں کررہے اور آپ خدانخواستہ اپنا وقت ضائع کررہے ہوتے ہیں۔
بزنس تھیوری کے ایک اور باب کے مطابق انسان کے پاس جو بھی کچھ ہے اسے خریدا جاسکتا ہے۔ بس قیمت کی اونچ نیچ ہوسکتی ہے۔ خریدنے کا بھی طریقہ ہے۔ اور ٹائمنگ بھی خاصی اہم ہے۔ وہ الگ بات ہے آپ اور میں یہ یقین ہی نہیں رکھتے کہ ہر شخص بزنس مین ہے۔ بلکہ دنیا میں اکثریت ایسے لوگوں کی ہے جن کے خیال میں سب کچھ بکاو نہیں ہوتا۔کچھ چیزیں کچھ اقدار ایسی بھی ہیں جو بیچنے کے لیے ہوتی ہی نہیں۔کیا آپ ایسا ہی سمجھتے ہیں؟
ٓٓآپ ایک سکالر صفت انسان سے ملیں۔ ایک مفکر صفت انسان سے ملیں وہ بزنس تھیوری پر یقین ہی نہیں رکھتا۔ اس کے خیال میں چونکہ دنیا کی ہر چیز فانی ہے اس لیے یہ بیچنے اور خریدنے کی ساری سرگرمی وقت کا ضیاں ہوسکتی ہے۔ ہر چیز اپنے دام کے عوض بک کر جگہ بدلتی ہے۔ خود اسے فروخت کرنے اور خریدنے والے کی سانسوں پر ٹائم واچ ٹک ٹک کررہی ہے۔ مفکر یا سکالر موصوف ایسی چیزوں یا اقدار کی جستجو میں رہتے ہیں جو ان کے خیال میں دیر پا ہوں یا باقی رہ جانے والی ہوں۔
آپ ایک مفکر یا سکالر سے ملیں وہ بھی آپ کو گہری نظر سے ٹٹولے گا۔ آپکے دماغ کے اندر جھانکنے کی کوشش کرے گا۔ وہ آپکے دماغ کے اندر موجود خیالات اور نظریات کو پڑھنے کی کوشش کرے گا۔ اپنے خیالات اور نظریات سے موازنہ کرے گا۔ آپ کو اپنے خیالات بتاے گا اور آپ سے آپ کے نظریات جانے گا۔ اس کمیونی کیشن کے دوران گزرنے والے وقت کا اسے احساس تک نہ ہوگا۔ اس کے خیال میں یہ بھی اس کے وقت کا صیح استعمال ہے۔
آپ کے خیال میں کس کو حکمران ہونا چاہیے؟ سکالر کو یا بزنس مین کو؟ ویسا ہمارے سارے سیاستدان بزنس مین ہیں یا چند ایک بزنس مین سیاستدان ہیں؟ اگر سیاستدان ہارس ٹریڈنگ کریں۔ اپنے گروپ بدلیں۔ اپنے وعدوں سے پھر جائیں تو مائنڈ نہیں کرنا چاہیے۔ چونکہ یہ محض بزنس ہوتا ہوگا۔
آئیے کچھ مثالوں سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ نواز شریف صاحب پر کرپشن کے سنگین الزامات ہیں۔اگر موصوف یورپ کے سیاستدان ہوں تو گھر سے نکلنا مشکل ہوجاے۔ یہاں تو حساس سوسائٹی ہے ۔ ہمارے ہاں تیسری دنیا میں کرپشن کو لوگ ناپسند ضرور کرتے ہیں لیکن کچھ عرصے بعد بھول جاتے ہیں۔ کرپشن جتتی مرضی کرلو۔ سیاست سے ناک اوٹ ہونے کا چانس نہیں ۔ نواز شریف صاحب پر یہ الزام بھی ہے کہ ملک پر جتنا قرضہ پہلے تھا۔ اتنا ہی اور قرضہ بڑھا دیا۔ بزنس سرگرمی ماند نہیں پڑنے دی۔ انکی اپنی دانست میں تعمیر و ترقی کے لیے ایسا کرنا شاید نا گزیر تھا ۔ جب تعمیر و ترقی زور و شور سے ہورہی ہو تو عوام کو کمیشن کے لین دین اور کمیشن کے حجم سے سروکار نہیں رکھنا چاہیے۔ اس سے زیادہ او ر کیا کرتے کہ اپنی عوام کو اس لعنت سے دور رکھا دور سمندر پار اس کو پردے میں رکھنے کی کوشش کی۔ ہم عوام سے موصوف کی محبت اور خلوص پر کیسے سوال ا ٹھائیں۔ انکے خیال میں دولت ایک فتنہ ہے۔ جسے اپنے عوام سے کوسوں دور چھپا کہ رکھنا ہی بہتر تھا۔ اور غیر ترقیاتی اخراجات پراجیکٹس میں تو لگے رہتے ہیں۔ یاد رہے کہ یہ ان کا موقف ہوگا راقم کا نہیں ۔ موصوف ہیں تو بزنس مین۔ اور یہ زرداری صاحب بزنس مین ہیں یا سکالر ، یا مڈل مین؟
صدرد ابامہ سکالر تھے۔ صدر ٹرمپ بزنس مین ہیں۔ امریکی عوام چیخ رہی ہے کہ صدر موصوف نے سارا ہی کچھ مارکیٹ میں رکھ دیا ہے۔ اور سودے بازی جاری ہے۔ تو کیا بزنس مین ملک کو کمپنی سمجھ کر چلاتا ہے؟ اسی بات سے ڈرتے ہیں اہل علم لوگ۔ ملک اور کمپنی میں زمین آسمان کا فرق نہیں ہوتا کیا؟
اللہ ہمارا حامی اور ناصر ہو۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.