انفلوئنزا وائرس سے بچاؤ کی چند اہم احتیاطی تدابیر

موسم سرما میں اکثر افراد فلو، نزلہ اور زکام کا شکار ہوجاتے ہیں، لیکن جنوبی پنجاب کے شہر ملتان کو آج کل فلو کی ایک خطرناک قسم ‘انفلوئنزا’ نے اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے، جس کے باعث اب تک 24 کے قریب افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔
فلو ‘انفلوئنزا’، سانس کا ایک خطرناک انفیکشن ہے، جو آسانی سے دوسروں تک پھیل جاتا ہے۔
یہ وائرس حلق، سانس کی نالیوں اور ممکنہ طور پر پھیپھڑوں سمیت ہمارے پورے نظام تنفس کو متاثر کرتا ہے۔
ڈاکٹروں کے مطابق انفلوئنزا وائرس سے بچاؤ کے لیے چند اہم احتیاطی تدابیر ضرور اختیار کرنی چاہئیں، جو درج ذیل ہیں۔
کھانستے اور چھینکتے ہوئے ہمیشہ منہ کو رومال سے ڈھانپ لیں تاکہ جراثیم نہ پھیلیں اور کھانسنے اور چھینکنے کے فوراً بعد ہاتھ اچھی طرح سے دھولیں تاکہ جراثیم حملہ نہ کرسکیں۔
گھر سے باہر نکلتے ہوئے منہ پر ماسک پہنا جائے تاکہ دھول مٹی حلق یا ناک میں نہ جائے، کیونکہ اکثر گرد و غبار کی وجہ سے بھی انفلوئنزا کی شکایت ہوجاتی ہے۔
انفلوئنزا کے مریض کی عیادت کرتے ہوئے اپنے اور مریض کے درمیان فاصلہ رکھیں کیونکہ نزلے کے جراثیم پھیلتے ہیں۔
رات کے اوقات میں ٹھنڈی اور کھٹی اشیا کھانے سے پرہیز کریں اور موسم سرما میں گرم اشیاء کا استعمال کریں۔
گھر کے ساتھ ساتھ لباس کی صفائی کا بھی خاص خیال رکھا جائے۔
ڈاکٹروں کی جانب سے پانی کو بھی ابال کر پینے کی ہدایت کی جاتی ہے۔

کیٹاگری میں : صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں