دنیا کا سب سے بڑا ایمفیبین طیارہ 2022ء میں پرواز شروع کریگا

بیجنگ…. ایک چینی فرم نے غیر ملکی ڈیزائنر کی مدد سے ایک انتہائی جدید قسم کا ایمفیبین طیارہ تیار کرنا شروع کردیا ہے۔ جو 2022ء سے پرواز کرنے لگے گا۔ واضح ہو کہ یہ طیارہ جیسا کہ نام سے ظاہر ہے خشکی اور پانی دونوں پر چل سکتا ہے۔ باخبر ذرائع کا کہناہے کہ یہ اپنی قسم کا سب سے بڑا طیارہ ہوگا جس کے بازوئوں کی لمبائی 127فٹ ہوگی۔ اطلاعات کے مطابق AG600 نامی طیارے پر چین نے اس وقت کام شروع کرایا ہے جب وہ جنوبی چین کی سمندری حدود پر اٹھنے والے کئی تنازعات میں گھر گیا ہے اور اب وہ اس طرح شہری ہوابازی کے شعبے میں اپنی طاقت اور کارکردگی کا بھرپور مظاہرہ کرنا چاہتا ہے۔ اس طیارے کی پہلی آزمائشی پرواز ہوچکی ہے جبکہ مزید تجرباتی پروازیں اس سال کے آخر تک مکمل کرلی جائیں گی۔ یہ طیارہ خریدنے کیلئے ابھی سے کئی پارٹیاں تیار ہیں جن میں 17سرکاری ادارے شامل ہیں۔ طیارے کے چیف ڈیزائنر ہوانگ لنگ چائی کا کہناہے کہ وہ سول ایوی ایشن اتھارٹی سے اس طیارے کی اڑان کا اجازت نامہ 2021ء تک حاصل کرنے کی توقع رکھتے ہیں۔ سرکاری خبررساں ایجنسی ژینہوا کے مطابق اس طیارے کے استعمال سے متنازعہ سمندری حدود پر اس کی بالاد ستی مسلم ہوجائیگی۔ پہلی آزمائشی پرواز اس نے بڑی کامیابی سے مکمل کی اور اس تجربے کے دوران اس نے پانی سے بھی اڑان بھری۔ طیارے کو مکمل کرنے میں 8سال کا عرصہ لگا او راس میں 50مسافروں کے بیٹھنے کی گنجائش ہوگی۔ عام سفر کے علاوہ امدادی کاموں میں بھی اس طیارے کو استعمال کیا جاسکے گا۔ ایک مرتبہ فیولنگ کے بعد یہ 4500کلو میٹر تک پرواز کرسکتا ہے۔ اگر سمندر میں لہریں اٹھ رہی ہوں تو بھی اس پر کوئی اثر نہیں پڑیگا۔ جب تک کہ لہروں کی اونچائی 6فٹ سے زیادہ نہ ہو۔

اپنا تبصرہ بھیجیں