9 سالہ کشمیری بچے نے الفاظ کی تعداد گننے والا انوکھا پین بنا لیا

خوف اور دہشت کے سائے بھی تخلیقی صلاحیتیں دبا نہیں سکتے، اس بات کا ثبوت مقبوضہ کشمیر کے ایک 9 سالہ بچے نے الفاظ کی تعداد گننے کی صلاحیت رکھنے والا انوکھا پین ایجاد کرکے دیا ہے۔مقبوضہ کشمیر کے شمالی ضلع بانڈی پورہ کی تحصیل وادی گریز سے تعلق رکھنے والے تیسری جماعت کے طالب علم مظفر احمد خان کا تخلیق کردہ منفرد پین صفحات پر لکھے جانے والے الفاظ گننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔9 سالہ مظفر کے مطابق یہ پین دوران لکھائی الفاظ گنتا رہتا ہے جن کی تعداد اس پر نصب چھوٹی سی ایل سی ڈی اسکرین پر نمایاں ہوجاتی ہے جبکہ اس تعداد کو میسج کے ذریعے موبائل فون پر بھی حاصل کیا جاسکتا ہے۔مظفر کا کہنا ہے کہ گذشتہ امتحان میں اسے مقررہ تعداد سے کم الفاظ لکھنے پر کم نمبر ملے تھے جس کے بعد اس نے یہ پین بنانے کی ٹھان لی۔مظفر کے بنائے گئے اس پین کو فیسٹیول آف انوویشن اینڈ انٹرپرینورشپ میں نمائش کے لیے پیش کیا جائے گا، جہاں بھارت کے صدر رام ناتھ کووند بچے کو انعام سے نوازیں گے۔مظفر کے مطابق ان کا یہ پین طلبہ کو امتحانات کے دوران اُس وقت مدد فراہم کرے گا جب انہیں مقررہ الفاظ پر مشتمل کوئی مضمون وغیرہ لکھنا ہوگا۔اس پین کا رواں برس مئی میں مارکیٹ میں آنے کا امکان ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں