فواد عالم کو نظر انداز کرنا ناقابل فہم ہے، وسیم اکرم

لاہور: سابق کپتان وسیم اکرم نے دورہ آئرلینڈ اور انگلینڈ کیلئے ایک اسپنر کی موجودگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کم از کم 2 اسپنرز کو شامل کرنا چاہیے تھا جبکہ فواد عالم جیسے کرکٹر کو ڈومیسٹک کرکٹ میں غیر معمولی کارکردگی کے باوجود ٹیم میں شامل نہ کرنا نا قابل فہم ہے۔ سابق کپتان نے کہا کہ چیف سلیکٹر انضمام الحق اور ہیڈ کوچ مکی آرتھر اب نوجوان کرکٹرز کو موقع دے کر مستقبل کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ اگر ڈومیسٹک کرکٹ میں اچھی بیٹنگ کرنے والے کو موقع نہیں ملے گا تو اس کا فائدہ کیا ہے؟ فواد عالم کو پھر موقع نہیں دیا گیا ۔ انہوں نے کہا دنیا جانتی ہے کہ ہماری بیٹنگ لائن کمزور ہے لیکن اس کے باوجود اچھے اور تجربہ کار بیٹسمین کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے ، دورہ آئر لینڈ و انگلینڈ ہمارے بیٹسمینوں کا کڑا امتحان ہوگا ۔ لیگ اسپنر یاسر شاہ کے ان فٹ ہونے سے ٹیم کو نقصان ہو گا۔ چیف سلیکٹر انضمام الحق نے اسکواڈ میں صرف ایک اسپنر شاداب خان کو شامل کیا ہے ۔ وسیم اکرم نے کہا کہ شاداب خان کو یاسر شاہ کی غیرموجودگی میں تمام بوجھ اٹھانا ہوگا۔ وہاب ریاض کی کارکردگی میں تسلسل کی کمی ہے۔ ٹیم کو مصباح الحق اور یونس خان کی کمی محسوس ہوگی ۔ انگلینڈ کی کنڈیشنزبولرز کے لئے مددگار ہوتی ہیں لیکن آئرلینڈ کی کنڈیشنز میں گیند زیادہ سوئنگ بھی ہوتی ہے لہٰذا فاسٹ بولرز کا کردار دونوں سیریز میں بہت اہمیت کا حامل ہو گا ۔ دریں اثناء فکسنگ الزام کے بارے فواد عالم نے کہا کہ جو کچھ بھی ہوں کرکٹ کی وجہ سے ہوں، کھیل کی عزت کرتا ہوں،اسے بدنام کرنے کا تصور بھی نہیں کرسکتا ۔ نظر انداز کئے جانے کا عادی ہوگیا، ٹیم کی کامیابی کیلئے دعاگو ہوں، سلیکٹرز کے فیصلے پر زیادہ حیرت نہیں ہوئی ، فواد عالم نے کہا کہ اگر منتخب کر لیا جاتا تو یقیناً حیران ہوتا ۔ فرسٹ کلاس کرکٹ میں رنز کے انبار لگانے اور کیمپ کے دوران فٹنس میں خود کو بہترین کرکٹر ثابت کرنے کے باوجود منتخب نہیں ہوسکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں