وزیراعلی پنجاب نے اورنج لائن میٹرو ٹرین کی آزمائشی سروس کا افتتاح کردیا

لاہور وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف نے اورنج لائن میٹرو ٹرین کی آزمائشی سروس کا افتتاح کردیا۔ جس کے بعد ٹرین آزمائشی طور پر چلنا شروع ہوگئی ،لاہور میں اورنج لائن میٹرو ٹرین کی آزمائشی سروس کی افتتاحی تقریب میں چین کے قونصل جنرل، وزرا اور اراکین اسمبلی بھی موجود تھے۔وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف نے اسلام پارک کے اسٹیشن سے میٹرو ٹرین کا فیتہ کاٹ کر افتتاح کیا اور اسی اسٹیشن سے ٹرین پر سوار ہوئے۔شہباز شریف نے آزمائشی سروس کے آغاز پر خوشی کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی رکاوٹیں کھڑی نہ کرتی تو لاکھوں شہری ٹرین پر سفر کررہے ہوتے۔انہوں نے کہا کہ یہ عام آدمی کا منصوبہ ہے لیکن پی ٹی آئی کی وجہ سے اس منصوبے میں بے پناہ تاخیر ہوئی، شہباز شریف نے کہا کہ اورنج لائن منصوبہ پی ٹی آئی کی وجہ سے 22 ماہ تاخیر کا شکار ہوا، چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو کیا پتہ کہ اورنج لائن ٹرین کیا ہے، وہ خود ہیلی کاپٹر اور پجیرو گاڑی میں سفر کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جنگلا بس کے نعرے لگانے والے دیکھ لیں، اورنج لائن ٹرین چل پڑی ہے، لیکن آج ان کی ٹرین چھوٹ گئی ہے، قوم پی ٹی آئی سے اورنج لائن میٹرو ٹرین منصوبے میں تاخیر کا بدلہ لے گی جبکہ اگلے الیکشن میں عوام نے پی ٹی آئی کے جہاز کو ڈبونا ہے۔شہباز شریف کا منصوبے کی اہمیت و افادیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہنا تھا کہ اورنج لائن ٹرین منصوبے سے روزانہ لاکھوں لوگوں کو عالمی معیار کی سفری سہولت میسر ہوگی اور عوام کو ٹوٹی ہوئی بسوں اور دھوئیں مارتے رکشوں سے نجات مل جائے گی۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے ن لیگ سے دشمنی میں عوام سے بھی دشمنی کی ، لاہور پیرس بن گیا ہے، احمد چیمہ نے دن رات کام کیا ہے ، وہ نیب کے پاس ہیں ، ان کے لئے تالیاں بجائیں۔ان کا کہنا تھا کہ تاجروں سے نقصان پر ہاتھ جوڑ کر معافی مانگتا ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ میں عمران خان کی طرح عوام سے جھوٹ نہیں بولوں گا، ساڑھے تین ماہ میں عوام اورنج ٹرین میں سفر کریں گے۔شہباز شریف نے کہا کہ ہیلی کاپٹر اور جہازوں میں سفر کرنے والوں کو عوام کی مشکلات کا نہیں پتا، نیازی صاحب آپ نے اس قوم کے 22 ماہ ضائع کیے، عمران خان میرا قصور یہ ہے کہ میں نے اورنج لائن بنائی تو عوام کے لیے بنائی۔وزیراعلی پنجاب نے کہا کہ عمران خان نے کہا تھا کہ جنگلہ بس کبھی نہیں بناوں گا، خیبر پختونخوا میں نہ اسکول بنے نہ اسپتال بنا اور اب جنگلہ بس بنارہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ عوام کو اب 2018 کے الیکشن میں پی ٹی آئی کے جہاز کو ڈبونا ہے، نیازی لاکھ برا چاہے تو کیا ہوتا ہے ، وہی ہوتا ہے جو منظور خدا ہوتا ہے۔شہباز شریف نے کہا کہ میں نے مختلف منصوبوں میں عوام کے اربوں روپے بچائے ، میں نے اربوں روپے بچائے ہیں تو اس کی تعریف تو کردو، اورنج ٹرین لے گئی بازی، تکلیف میں ہے نیازی۔ ۔شہباز شریف نے سابق صدر آصف علی زرداری پر بھی تنقید کی اور کہا کہ زرداری بھی اب مداری بن کر آرہا ہے، بنی گالہ اور بلاول ہاوس ہم نوالہ و ہم پیالہ ہیں، کام انھوں نے اپنے صوبوں میں نہیں کیا اور کہتے ہیں شہبازشریف خطرناک ہیں ،عمران خان تمہیں اب پتہ لگا ہے کہ میں کتنا خطرناک ہوں ، آگے آگے چلو میں بتاوں گا کہ میں کتنا خطرناک ہوں۔وزیراعلی پنجاب نے مزید کہاکہ نوازشریف کی قیادت میں ہزاروں میگاواٹ بجلی کے منصوبے لگے، میں جان لڑا دوں گا، پاکستان کو قائد اور اقبال کا پاکستان بنا کر دم لوں گا،وزیراعلی پنجاب نے ٹرین کا پہلا آزمائشی سفر انجن میں بیٹھ کرکیا، شہباز شریف ڈیرہ گجراں سے لکشمی چوک تک اورنج لائن ٹرین میں آئے، لاہورکے شہریوں کو آج 11کلو میٹر کے آزمائشی سفرکی سہولت مفت حاصل ہے،اورنج ٹرین کے آزمائشی سفر کے لیے مختلف اسٹیشنز کو سجا گیا ہے اور ٹریک کے اطرف رنگا رنگ پودے رکھے گئے ہیں جو دلکش منظر پیش کررہے ہیں۔ اورنج ٹرین منصوبے کی اسٹیئرنگ کمیٹی کے چیئرمین خواجہ احمد حسان نے بتایا کہ اس سے قبل 26 فروری کو ٹرین آزمائشی طور پر چلائی گئی تھی تاہم اس وقت سفر بہت محدود تھا تاہم بدھ کو ہونے والے آزمائشی ٹرائل میں ٹرین 11 کلو میٹر سفر طے کرے گی۔ٹرین کے کرائے سے متعلق خواجہ احمد حسان نے بتایا کہ اس حوالے سے ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔اورنج ٹرین منصوبے کی اسٹیئرنگ کمیٹی کے چیئرمین کا مزید کہنا ہے کہ منصوبے کا 90 فیصد کام مکمل ہوچکا ہے اور ہائیکورٹ کے سامنے انڈر گرانڈ اسٹیشن کی تعمیر تیزی سے جاری ہے،واضح رہے کہ پاکستان کے دوسرے بڑے شہر اور پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور کی آبادی اس وقت ایک کروڑ 10 لاکھ سے زائد ہے جس میں سالانہ 8 فیصد کی شرح سے اضافہ ہو رہا ہے، آبادی کے اضافے کے ساتھ ناکافی سفری سہولیات کے پیش نظر لاہور کے شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔اسی سلسلے میں عوام کی سفری ضرورتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے لاہور، راولپنڈی-اسلام آباد اور ملتان میں میٹرو بس سسٹم کے کامیاب آغاز کے بعد لاہور میں میٹرو ٹرین نظام کا آغاز کیا جارہا ہے، جو پاکستان کا سب سے بڑا اور اپنی نوعیت کا پہلا ماس ٹرانزٹ منصوبہ ہے۔ایک اندازے کے مطابق اورنج لائن میٹرو ٹرین سے ابتدا میں روزانہ ڈھائی لاکھ افراد استفادہ حاصل کریں گے بعد ازاں یہ تعداد بڑھ کر 5 لاکھ یومیہ تک بڑھ جانے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔لاہور اورنج لائن میٹرو ٹرین منصوبے کے لیے چین کی حکومت نے چائینا ایگزم بینک کے ذریعے آسان شرائط پر ایک ارب 62 کروڑ ڈالر کا قرض مہیا کیا، لاہور اورنج لائن میٹرو ٹرین منصوبے پر تعمیراتی کام کا آغاز 25 اکتوبر 2015 کو ہوا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں