فرعونیت غرق کر دیتی ہے

اور تم نے کیااپنا وہ کام(قتل) جو تم نے کیا اور تم نا شکرے تھے۔ موسی نے فرمایا ، میں نے کیاوہ کام (قتل) ْجب مجھے راستے کی خبر نہ تھی۔،، (سورہ الشعرائ)
فرعونیت غرق کر دیتی ہے
رومانہ گوندل
حضرت موسیٰ جب مصر چھوڑ کر گئے تھے تب آپ سے فرعونیوں ]قبطیوں[ کا ایک آدمی قتل ہو گیا تھااگر چہ وہ قتل آپ کے ارادہ اور نیت میں نہیں تھا لیکن ہو گیا اور اس کی وجہ سے فرعونی آپ کے قتل کے منصوبے بنانے لگے۔جس کی خبر آپ تک پہنچ گئی اس لیے آپ نے مصر چھوڑ دیا اور مدین چلے گئے اور پھر کئی سال وہاں گزارے ۔ وہی پہ آپ کی شادی ہوئی ۔ پھر جب آپ اپنی اہلیہ کے ساتھ مدین سے واپس آ رہے تھے تو راستے میں وادیِ طوی پہ آپ کو نبوت دی گئی اور حکم ملا کہ فرعون تک حق کا پیغام پہنچائے، اس نے بہت سر کشی مچا رکھی ہے ، شایدکہ وہ نصیحت قبول کر لے۔ لیکن جب حضرت موسی اور حضرت ہارون حق کا پیغام لے کے فرعون کے دربار میں گئے تو اس نے اپنے تکبر میں حق بات سننے اور سمجھنے کی بجائے کہا کہ آپ وہی ہیں ناں جو ایک قتل کر کے بھاگ گئے تھے۔ بے شک حضرت موسیٰ نے وہ قتل کسی منصبوبے اور ارادے سے نہیں کیا تھا پھر بھی آپ نے کوئی وضاحت، صفائی، دلیل یا اس پہ کسی قسم کا پردہ ڈالنے کی کوشش نہیں کی۔ بلکہ جواب میں صرف اتنا فرمایا کہ ہاں میں نے ایسا کیا تھا جب مجھے راستے کی خبر نہیں تھی۔
اللہ تعالی نے قرآن میں سب سے ذیادہ ذکر حضرت موسی کا کیا ہے۔ بار بار بہت پیار سے فرماتے ہیں ” اور یاد کرو مو سی کو ”، کیونکہ ان کے کردار کو اللہ تعالی نے قیامت تک آنے والے لوگوں کے لیے مثال بنا یا ہے ۔ نبیۖ کو بھی تبلیغ میں پیش آنے والی مشکلات اور مخالفت پہ ، حضرت موسی کے حالات بیان کر کے تسلی دی گئی۔ کیونکہ حضرت موسی ایک بہت ہی سخت دور میں آئے تھے اور ان کو فرعون جیسے انسان کے سامنے حق بیان کرنے بھیجا گیا، جو شاید اس دنیا کا سب سے ذیادہ متکبر انسان تھا۔ سورہ الشعراء کی ا س آیت میں بھی حضرت موسی اور فرعون کے درمیان ہونے والی بات چیت کا ذکر ہے اور یہاں بھی ان کے کردار کو ایک مثال بنایا گیا ہے۔
اس دور میں ایک فرعون تھا جس کے پاس بادشاہت اور حکومت تھی جس کے غرور میں آ کے اس نے سر کشی کی اور خدائی کا دعوی کیا تھا ۔ لیکن آج کے دور میں ہر شخص ہی اپنے دائرے میں اک فرعون بن گیا ، ایسے میں جب کوئی انسان اپنے پچھلے غلط کاموں کو چھوڑ کے درست راستے کی طرف چلنا چاہتا ہے یا دوسروں کو کسی برے کام سے روکتا اور نصیحت کرتا ہے تو لوگوں کا رویہ وہی ہوتا ہے جو فرعون کا تھا ۔ لوگ اس کے ماضی کی خطائوں اور غلطیوں کو یاد کراتے ہیں ۔جس
تو ایسے میں ایک نبی کا کردار مثال ہے کہ شرمندہ ہو کر درست راستہ چھوڑنے یا حق کہنے سے اس خوف سے رکنے کی ضرورت نہیں کہ لوگ ہمارے پچھلے گناہوں کا طعنہ دیں گئے، نہ کسی صفائی یا ڈپریشن کی ضرورت ہے۔بلکہ حضرت موسیٰ کا راستہ بہترین ہے۔ بس مان جائیں کہ غلطی ہو گئی تھی جب ہم درست راستہ نہیں جانتے تھے۔ کیونکہ زندگی بدلنے کا بہترین طریقہ یہی ہے کہ انسان اپنی بھول، خطا وئوں اور غلطیوں کو مان لے۔ جب تک انسان غلطیوں کو تسلیم نہیں کرتا وہ کہیں نہ کہیں ان کو درست مان رہا ہوتا ہے اور جس غلطی کے غلطی ہونے پہ شک ہو اس کے دوبارہ ہونے کے امکان ضرور ہوتے ہیں۔ اگر دوہرائے نہ بھی تو بھی غلطیوں پہ پردہ ڈال کے، انہیں چھپا کے ایک انسان صرف زندگی گزار سکتا ہے، بہادر نہیں بن سکتا کیونکہ ان کے کھل جانے کا خوف اس کو اندر سے کھوکھلا کر تا رہتا ہے۔

جن عیبوں اور غلطیوں پہ اللہ پردہ ڈال دے ان کا ڈھونڈرہ نہ پیٹیں لیکن جو ظاہر ہو جا ئیں ان پہ جھوٹ کے پردے ڈال کر دوہراتے بھی نہ رہیں۔ جو خطا ہو گئی اس کو قبول کر لیں اور پھر اس سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے توبہ کر لیں یہی راستہ خوبصورت ہے ۔اور اگر ہمارے سامنے کوئی برائی کا راستہ چھوڑنا چاہتا ہے تو اس کی پچھلی غلطیوں کا ذکر کر کے شرمندہ کرنے کی کوشش نہ کریں ، یہ راستہ فرعون کا ہے اور فرعونیت آخر کار غرق کر دیتی ہے۔ اس لیے حضرت موسی کے راستے پہ چلیں اور جو اس راستے پہ چلنا چاہتا ہے اس کی حوصلہ افزائی کریں، اس کے مددگار بن جائیں ۔
رومانہ گوندل

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.