آج بھی مقبوضہ کشمیر میں شہداء کے جسد خاکی پاکستانی پرچم میں لپیٹا جاتا ہے سلامتی کونسل مظالم کو رکوانے کے لئے اپنا کردار ادا کرچوہدری محمد یاسین

اسلام آباد ( کشمیر لنک نیوز)آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں قائد حزب اختلاف چوہدری محمد یاسین نے کہا ہے کہ آج بھی مقبوضہ کشمیر میں کشمیری شہداء کے جسد خاکی پاکستانی پرچم میں لپیٹ کر دفن کیے جا رہے ہیں راجوری میں بابا غلام بادشاہ یونیورسٹی کے طلبا نے گزشتہ روز شہید ہونیوالے نوجوانوں کی غائبانہ نماز جنازہ کے بعد ہم کیا چاہتے ہیںآزادی اور پاکستان زندہ باد کے نعرے لگاتے ہوئے سڑکوں پر آگئے یہ کشمیری عوام کی پاکستان کے ساتھ محبت اور کمٹمنٹ کا مظاہرہ ہے، وہ آج یہاں مختلف وفود سے گفتگو کر رہے تھے ۔انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام گزشتہ ستر سالوں سے اپنے خون کے ذریعے آزادی کی شمع کو روشن کئے ہوئے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں کوئی ایسی بستی نہیں جس میں بستی کے گھروں سے زیادہ شہدا کی قبریں موجود نہ ہوں انہوں نے کہا کہ قابض بھارتی افواج نے مقبوضہ کشمیر میں مظالم کا سلسلہ تیز تر کر دیا کریک ڈاؤن کے نام پر پوری مقبوضہ وادی کو محاصرے میں لیا ہوا ہے۔ گاؤں کے گاؤں جلا کر خاکستر کر دیے گئے ہیں اور سینکڑوں نوجوانوں کو گرفتار کر کے ٹارچر سیلوں میں منتقل کر دیا گیا ہے ظلم و ستم کا بازار گرم ہے گزشتہ روز بھی بھارتی فوجیوں نے تین بے گناہ نوجوانوں کو شہید کر دیا گیا ۔انہوں نے اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کے رکن ممالک سے اپیل کی کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے مظالم کو رکوانے کے لئے اپنا کردار ادا کریں اور ستر سالوں سے کشمیر پر موجود قراردادوں پر عملدرآمد کرواتے ہوئے کشمیری عوام کو استصواب رائے کا حق دلوایا جائے ۔انہوں نے کہا کہ ایسا نہ ہو کہ کشمیر تو بچ جائے لیکن کشمیری ختم ہو جائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.