ڈی این اے کیا ہوتا ہے؟

رواں ماہ کے آغاز میں صوبہ پنجاب کے ضلع قصور سے 7 سالہ زینب کے اغوائاور زیادتی کے بعد قتل کے واقعے نے جہاں پورے ملک کو لرزا کر رکھ دیا، وہیں تحقیقاتی ادارے بھی حرکت میں آئے اور انہوں نے تفتیش کے مختلف طریقوں کو استعمال کرتے ہوئے قاتل کی تلاش شروع کی۔تحقیقاتی اداروں نے زینب کے قتل کی کڑیاں قصور میں اس سے قبل زیادتی کے بعد قتل کی گئی بچیوں کے کیسز سے ملانا شروع کیں اور ان کی تحقیق کا دارومدار ڈی این اے ٹیسٹ پر ٹھہرا۔پولیس کا کہنا ہے کہ معصوم زینب کے قتل میں ملوث ملزم عمران کو ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے تصدیق کے بعد گرفتار کیا گیا۔ہم سب ہی گذشتہ کافی دنوں سے (بلکہ ا±س سے قبل بھی) ڈی این اے ٹیسٹ کے بارے میں سن اور پڑھ چکے ہیں، لیکن یہ ڈی این اے ٹیسٹ دراصل ہوتا کیا ہے؟ آئیے نظر ڈالتے ہیں:ڈی این اےاس طبی اصطلاح کو ہم آسان الفاظ میں کچھ یوں بیان کرسکتے ہیں کہ انسانی جسم لاتعداد خلیات یعنی سیلز کا مجموعہ ہوتا ہے، اسی طرح ہمارے جسم کا ہر ایک سیل ایک مالیکیول پر مشتمل ہوتا ہے، جسے ڈی این اے کہا جاتا ہے۔ڈی این اے یعنی ’ڈی آکسی رائبو نیوکلک ایسڈ‘ کسی بھی انسان کا وہ مخصوص جینیاتی کوڈ ہے، جس کے ذریعے اس کے بارے میں معلومات حاصل کی جاسکتی ہیں اور یہ معلومات اس کی ظاہری شکل و صورت، زندگی، تاریخ اور شناخت پر مشتمل ہوتی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں