پاکستان مسلم لیگ (ق) کے عبدالقدوس بزنجو نئے وزیراعلیٰ بلوچستان منتخب ہوگئے

وزیراعلیٰ کا انتخاب شو آف ہینڈ کے زریعے عمل میں لایا گیا
نئے قائد ایوان کے لیے مجموطی طور پر 54 ووٹ ڈالے گئے، عبدالقدوس بزنجو نے 41 اور سید لیاقت علی نے 13 ووٹ حاصل کیے
عبدالرحیم زیارتوال وزارت اعلیٰ کے دوسرے امیدوار سید لیاقت علی کے حق میں دستبردار ہوگئے تھے
عبدالقدوس بزنجو 2013 سے 2015 تک صوبائی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر رہے جو بعد میں مستعفی ہو گئے تھے
اجلاس میں زینب اور ایئرمارشل(ر)اصغر خان سمیت کوئٹہ دھماکے کے شہدا کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی
وزیراعلیٰ کے انتخاب کے باعث اسمبلی آنے والے تمام راستے صبح 8 بجے سے بند رہیں،عبدالرزاق چیمہ
اہم اجلاس کے لیے اسمبلی کی سیکیورٹی پر پولیس کے 900 اہلکار تعینات اور فرنٹیئر کور کے اہلکار بھی سیکیورٹی پر مامور تھے
اسمبلی میں بغیر شناختی کوائف کے کسی کو بھی داخل ہونے کی اجازت نہیں تھی،ڈی آئی جی کوئٹہ.
بلوچستان اسمبلی نے مسلم لیگ (ق)کے عبدالقدوس بزنجو کو صوبے کا نیا وزیراعلیٰ منتخب کرلیا۔بلوچستان اسمبلی کی اسپیکر راحیلہ درانی کی سربراہی میں اسمبلی کا اجلاس شروع ہو ا اور ساڑھے چار سال میں تیسرے قائد ایوان کے انتخاب کے لیے ارکان کی اکثریت اجلاس میں موجود تھے ۔اجلاس کے آغاز میں قصور میں قتل ہونے والی کمسن زینب اور ایئرمارشل(ر)اصغر خان سمیت کوئٹہ دھماکے کے شہدا کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی۔اس کے بعد اسپیکر نے اراکین کو قائد ایوان کے انتخاب کا طریقہ کار بتایا۔اسمبلی میں عبدالقدوس بزنجو کے حمایتی ارکان کے لیے اے لابی اور لیاقت علی کے حمایتی اراکن کے لیے بی لابی بنائی گئی ہے، اپوزیشن اتحاد کے حمایت یافتہ عبدالقدوس بزنجو کو 41 ووٹ ملے۔ 65 رکنی ایوان میں وزیراعلی منتخب ہونے کے لیے 33 ووٹ درکار ہوتے ہیں۔اسپیکر اسمبلی راحیلہ درانی نے میر عبدالقدوس بزنجو کے انتخاب کا باضابطہ اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ اسمبلی میں نئے قائد ایوان کے لیے مجموطی طور پر 54 ووٹ ڈالے گئے جس میں سے عبدالقدوس بزنجو نے 41 اور سید لیاقت علی نے 13 ووٹ حاصل کیے۔میر عبدالقدوس بزنجو کو اپوزیشن اتحاد کی حمایت حاصل تھی جس میں جمعیت علمائے اسلام ، بلوچستان نیشنل پارٹی ،عوامی نیشنل پارٹی اور بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی)شامل ہیں۔وزیراعلیٰ بلوچستان کے انتخاب کے لیے گذشتہ روز کاغذات نامزدگی جمع کرائے گئے جس میں مسلم لیگ(ق)کی جانب سے عبدالقدوس بزنجو جبکہ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کی جانب سےآغا لیاقت اور عبدالرحیم زیارتوال نے کاغذات جمع کرائے۔اسمبلی اجلاس سے کچھ دیر قبل ہی پشتونخوا میپ کے عبدالرحیم زیارتوال وزارت اعلیٰ کے دوسرے امیدوار سید لیاقت علی کے حق میں دستبردار ہوگئے جس کی تحریری درخواست انہوں نے سیکریٹری اسمبلی کو جمع کرائی۔ عبدالقدوس بزنجو یکم جنوی 1974 کو بلوچستان کے ضلع آواران کے گاوں شنڈی جھو میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے پہلی بار 2002 میں پرویز مشرف دور میں صوبائی حلقے پی بی 41سے کامیابی حاصل کی۔ 2013 کے عام انتخابات میں عبدالقدوس بزنجو نے مسلم لیگ( ق)کے ٹکٹ پر انتخاب لڑا اور پاکستان کی انتخابی تاریخ میں سب سے کم یعنی 544 ووٹ لے کر صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ اس حلقے میں ڈالے گئے ووٹوں کا تناسب ایک اعشاریہ ایک 8 فی صد رہا۔ عبدالقدوس بزنجو 2013 سے 2015 تک صوبائی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر رہے جو بعد میں مستعفی ہو گئے۔ دوسری جانب ڈی آئی جی کوئٹہ عبدالرزاق چیمہ نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ کے انتخاب کے باعث اسمبلی آنے والے تمام راستے صبح 8 بجے سے بند رہیں۔عبدالرزاق چیمہ نے مزید کہا کہ اہم اجلاس کے لیے اسمبلی کی سیکیورٹی پر پولیس کے 900 اہلکار تعینات تھے جبکہ فرنٹیئر کور کے اہلکار بھی سیکیورٹی پر مامور تھے ۔ڈی آئی جی کوئٹہ نے بتایا کہ اسمبلی میں بغیر شناختی کوائف کے کسی کو بھی داخل ہونے کی اجازت نہیں تھی۔خیال رہے کہ نواب ثنا اللہ زہری نے اپنی ہی جماعت کے ناراض اراکین کی جانب سے تحریک عدم اعتماد پیش کیے جانے سے قبل ہی 9 جنوری کو وزارت اعلی کے منصب سے استعفی ٰدے دیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں