22

سیاست میں اسٹیبلشمنٹ کا کوئی رول نہیں ہونا چاہیے، بلاول بھٹو

لاہور: پیپلزپارٹی کے چیرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہےکہ کراچی کے ڈرامے کے پیچھے کون تھا اس کا نہیں پتا لیکن سیاست میں اسٹیبلشمنٹ کا کوئی رول نہیں ہونا چاہیے۔

لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ خان صاحب کوجلدی کس بات کی ہے؟ عمران خان ڈر رہےہیں کہ اگر الیکشن وقت پر ہوئے تو وہ ہار جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ناکام لیگ بالکل ناکام ہی رہی ہے، 2018 کے الیکشن میں پیپلزپارٹی کو موقع ملے گا لیکن اسمبلی اپنی مدت پوری کرے اورانتخابات وقت پرہونے چاہئیں۔

چیرمین پیپلزپارٹی کا کہنا تھاکہ (ن) لیگ سے نظریاتی مسئلہ ہے، جہاں ان کے ذاتی مسائل ہیں وہ جمہوریت میں شامل کرنا چاہتے ہیں، پیپلزپارٹی کا نظریہ سب کے سامنے ہے، جمہوریت نے چلنا ہے، (ن) لیگ اور پی ٹی آئی سمیت تمام جماعتوں کا حق ہے وہ الیکشن لڑیں۔

مردم شماری پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ مردم شماری پر ہمارے تحفظات دور کیے جائیں، وزیراعلیٰ سندھ نے مردم شماری کےحوالےسے خط بھی لکھے پر جواب نہیں آیا، سندھ اور پنجاب کی خانہ شماری میں فرق ہے، مردم شماری میں 60 لاکھ لوگوں کو شمار نہیں کیاگیا، خانہ شماری کا عمل بھی متنازع تھا۔

بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ سیاست میں اسٹیبلشمنٹ کا کوئی رول نہیں ہونا چاہیے، جو کراچی میں ہوا اس کی وضاحت ہونی چاہیے، ایم کیوایم اور پی ایس پی نے جو کیا انہیں جواب دینا ہے، انہوں نے ایک دوسرے پر سنجیدہ الزامات لگائے۔

چیرمین پی پی کا کہنا تھا کہ کراچی کے ڈرامے کے پیچھے کون تھا اس کے بارے میں نہیں جانتا لیکن کچھ لوگ پیپلزپارٹی کو روکنا چاہتے ہیں، لوگ ہماری اکثریت کو مانتے ہیں، ہم آئندہ الیکشن میں جیتیں گے اور کراچی کی بھی نمائندگی کریں گے۔

سابق صدر پرویز مشرف سے متعلق انہوں نے کہا کہ مشرف مفرور ہیں انہیں واپس آکر عدالت میں پیش ہونا ہے، ان پر ایک سابق وزیراعلیٰ اور وزیراعظم کے قتل کا کیس ہے، وہ جواب دہ ہیں اور انہیں جواب دینا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں