87

معذور بچے کی آب بیتی چیف جسٹس آزاد کشمیر کے نام

قارئین کرام جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ ہنس چوکی میں ایک معذور بچے کی آب بیتی اپنی زبانی سنانے جارہا ہوں جوکہ آزادکشمیر کے ہر غیرت مند شخص کیلئے ہے اور وزیراعظم آزادکشمیرکیلئے کہ اگر اس ظلم کیخلاف وہ جاگ جائیں اور اس حوالے سے کاش کے چیف جسٹس آزادکشمیر از خودنوٹس لیں ۔میںآب بیتی سنانے جارہا ہوں میں ایک غریب محنت کش کا بیٹا ہوں میں معذورہوں بول نہیں سکتا میں بھی بڑی مشکل سے چلتا ہوں میری بہن بھی معذور ہے میرا والد ٹرک پر مزدوری کرتا ہے بعض دفعہ ہمارے گھر میںنوبت فاقوں تک آجاتی ہے کیا کروں میں ایک غریب کا بیٹا ہوں درندے رفیق نے میری معذوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مجھے زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا قوم لوط کا فعل کرکے اس نے ہماری غربت کا مزید مذاق اڑایا اور پیسوں کا لالچ دینے لگا غریب شخص غریب ضرور ہوتا ہے بے غیرت نہیں ہوتا محلے کے چند افراد نے میرے ساتھ ہونیوالی زیادتی کا ازالہ کرنے کیلئے پولیس میں رپورٹ درج کروا دی جبکہ ملزم نے کئی افراد سے جرم کا اعتراف بڑی دیدہ دلیری سے کیا ،پھر کیا ہوا میرا جرم یہ تھا کہ میں غریب تھا میرے پاس پیسہ نہیں تھا پیسے کی چمک نے سب کی آنکھیں اندھی کردیں، آخر پولیس بھی شفاف تفتیش نہ کرسکی کیونکہ ہمیشہ کی طرح سیاسی پشت پناہی اور پیسہ استعمال کرتے ہوئے بچے کی میڈیکل رپورٹ جعلی بنوا دی گئی غربی کی ایک سیاسی شخصیت اس نے ملزم کی پشت پناہی کی کیونکہ میں ایک موقع ان کو دینا چاہتا ہوں وہ اس کیس سے الگ ہوکر شفاف تحقیقات ہونے دیں ورنہ اگر بچے کومعذور بچے کو انصاف نہ ملا تو ایک ایک کرکے کالی بھیڑوں کو جوکہ چاہئے سیاستدان ہوںیا انتظامیہ کے بندے سب کو عوام کے سامنے بے نقاب کیا جائے گا کیونکہ معذور بچہ کیس میں ایک غریب جسکی نظر عدالت عالیہ پر ہے، اب عدالت ہی ہے جو اس غریب کو انصاف دے سکتی ہے کیونکہ معذور بچے کا باپ ٹرک پر مزدوری کرتا ہے لہٰذا اس کے پاس پیسے نہیں کہ وہ ان ظالموں کا مقابلہ کرے عدالت عالیہ دھیرکوٹ کو اس مظلوم کو جلدازجلد انصاف دے کر انصاف کابول بالا کرنا ہوگا میں ایک عام شہری کی حیثیت سے اور بطور صحافی اپنے اخبار ذریعے چیف جسٹس آزادکشمیر اور وزیراعظم آزادکشمیر راجہ فاروق حیدر خان تک یہ آواز پہنچا رہا ہوں ،میں صدائے حق ،ظلم کیخلاف مظلوم کیساتھ اس آواز کو آپ تک پہنچا رہا ہوں بطورمسلمان اور صحافی کی حیثیت سے آپ تک آواز پہنچا کر اپنا حق ادا کردیا ہے اب پورے آزادکشمیر کی نظریں اس کیس پر ہیں اگر پیسہ جیت گیا تو غریب آدمی عدالتوں سے مایوس ہوجائے گا اگر اس کیس میں دلچسپی نہ لی گئی تو اللہ کے عذاب سے نہیں بچ پائیں گے اللہ سے دعا ہے کہ اللہ پاک اس معذور بچے کو انصاف دے اگر اس کو یہاں نہ انصاف مل سکا تو آخرت میں ضرور ملے گا ۔مجرم کو سزا نہ ہوئی تو اللہ ضرور سزا دے گا ۔یہ آزادکشمیر کی تاریخ کا اہم کیس ہے ،آزادکشمیر کے عوام کی نظر اس کیس پر ہے امید ہے اس معذور بچے کو انصاف ضرورملے گا آزادکشمیر بھر سے میرا کالم پڑھ کر مجھے ایس ایم ایس،ملے اور قارئین نے حوصلہ افزائی کی آپ بھی اس کالم کے بارے میں اپنی رائے سے میرے نمبر 03215632355 پر رابطہ کرکے بتاسکتے ہیں اور معذور بچے کی آواز بن سکتے ہیں۔ آخر اجازت چاہوں گا اس امید کیساتھ آپ جہاں رہیں خوش رہیں اور اپنا اور اردگرد کے تمام افراد کا خیال رکھیے گا مجھے اپنی دعاؤں میں یاد رکھیے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں