نواز شریف اور جہانگیر خان ترین تاحیات نااہل،آئندہ الیکشن میں حصہ نہیں لے سکیں گے،

سپریم کورٹ نے آرٹیکل 62 ون ایف کا محفوظ فیصلہ سنادیا
جب تک آرٹیکل ون ایف کے تحت نا اہل ہونے والے شخص کے خلاف ڈکلیریشن موجود رہے گا تب تک تا حیات نااہلی رہے گی
جب تک اس ڈکلیریشن کے خلاف کوئی عدالتی فیصلہ نہ آ جائے تب تک یہ نا اہلی رہے گی
آئین پاکستان میں ایسی شق بھی ہے جو کسی بھی اہلیت کے حوالہ سے مستقل پابندی عائد کرتی ہے اور وہ 63 ون اے ہے اگر کوئی شخص ذہنی طور پر درست حالت میں نہ ہو تو وہ امیدوار نہیں بن سکتا
18 ویں ترمیم کے بعد 62 ون ایف کے تحت نا اہلی کے لیے ایک میکنزم فراہم کیا گیا اور اس میں یہ کہا گیا کہ جب کسی عدالت کا ڈکلیریشن آ جاتا ہے تو اس کے تحت وہ نا اہلی ہو گی
آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت امیدوار کا صادق اور امین ہونا ضروری ہے، 62 ون ایف کی اپنی ایک حیثیت ہے اس کے لیے راست گو ہونا چاہیے
آرٹیکل 17 اے سے آرٹیکل 62 ون ایف متاثر نہیں ہوتا ، پارلیمنٹرین کی نا اہلی مفاد عامہ کا معاملہ ہے، نا اہلی سے کسی پارلیمنٹرین کا آئین کے آرٹیکل 17 کے تحت بنیادی حق مجروح نہیں ہوتا ، عدالتی فیصلہ
پانچوں ججز نے متفقہ فیصلہ سنایا ،فیصلہ جسٹس عمر عطاء بندیال نے لکھا ہے اور پڑھ کر سنایا،جسٹس سجاد علی شاہ سپریم کورٹ کوئٹہ رجسٹری میں موجود ہونے کے باعث موجود نہیں تھے
جسٹس شیخ عظمت سعید کی جانب سے فیصلہ میں اضافی نوٹ تحریر کیا ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.