سرکاری اشتہارات میں ذاتی تشہیر ،پیسے واپس کریں،چیف جسٹس

اسلام آباد… سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ حکومتیں اپنی تشہیر کے لئے سرکاری خزانہ استعمال نہ کریں۔ سیاسی تشہیر کے لئے پارٹی فنڈ استعمال کئے جائیں۔سرکاری پیسے سے اشتہار سے پری پول دھاندلی ہوتی ہے۔چیف جسٹس نے حکم دیا کہ پیپلز پارٹی نے سرکاری اشتہارات کے ذریعے جو سیاسی تشہیر کی وہ رقم قومی خزانے میں واپس جمع کرائے ۔ چیف جسٹس نے عام انتخابات سے قبل حکومت کی جانب سے ارکان پارلیمنٹ کو ترقیاتی فنڈز کے اجراءکا بھی نوٹس لے لیا۔چیف جسٹس کے 3 رکنی بنچ نے سرکاری اشتہارات کیس کی سماعت کی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس د ئیے کہ یہ بات سامنے آ رہی ہے کہ حکومت الیکشن سے پہلے اراکین کوترقیاتی فنڈز جاری کر رہی ہے۔ حکومت کروڑوں روپے کے ترقیاتی فنڈز انتخابات سے قبل کس قانون کے تحت دیتی ہے؟۔ہو سکتا ہے انتخابات سے قبل ترقیاتی فنڈز کے اجرا پر پابندی لگا دیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ چاہتے ہیں کہ سیاسی شخصیات کی تصاویر اشتہارات میں لگوانا بند کرادیں ۔سیکرٹری اطلاعات خیبرپختون خوا نے بتایا کہ گزشتہ 3 ماہ میں صوبائی حکومت نے 24 کروڑ روپے اشتہارات پر خرچ کئے تاہم اشتہارات میں پرویز خٹک اور عمران خان کی تصاویرتلاش نہیں کرسکا۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے پنجاب حکومت کی جانب سے سرکاری اشتہارات سے متعلق رپورٹ جمع کراتے ہوئے بتایا کہ اشتہارات میں سیاسی رہنماوں کی تصاویر شامل ہیں۔ جسٹس ثاقب نثار نے سوال کیا کہ ذاتی تشہیرکے پیسے کون دےگا؟ جسٹس ثاقب نے نثار نے حکم دیا کہ اشتہارات میں جو تصاویر لگی ہیں پارٹی رہنماوں سے پیسے واپس کرادیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں