ایگزیکٹ جعلی ڈگری کیس: پتا چلنا چاہیے اربوں کے اکاؤنٹس کہاں سے آئے، سپریم کورٹ

اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان نے ایگزیکٹ جعلی ڈگری کیس میں ریمارکس دیئے ہیں کہ ہمیں پاکستان کی عزت مقدم ہے اور باقی سب چیزیں ثانوی ہیں لہٰذا پتا چلنا چاہیے کہ اربوں روپے کے اکاؤنٹس کہاں سے آئے۔سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں ایگزیکٹ جعلی ڈگری کیس کی سماعت ہوئی تو پاکستان براڈ کاسٹر ایسوسی ایشن کی جانب سے کیس میں فریق بننے کی درخواست کی گئی۔دوران سماعت چیف جسٹس نے پی بی اے کے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ کا کیا مفاد ہے؟ اس پر وکیل نے کہا کہ جرائم کا پیسہ استعمال کیا جارہاہے، پوری میڈیا انڈسٹری اسٹیک پر ہے۔اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ پوری میڈیا انڈسٹری کل بھی اسٹیک پر تھی، کل شاہد مسعود نے کہا میڈیا انڈسٹری اسٹیک پر ہے، جب بھی ہم کسی سے کچھ پوچھیں تو پوری میڈیا انڈسٹری اسٹیک پر لگ جاتی ہے، پتہ نہیں یہ کون سا اسٹیک ہے؟ کہیں یہ چکن اسٹیک تو نہیں؟

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.