بدلتا سیاسی موسم

بدلتا سیاسی موسم
آئین پاکستان کے مطابق 2018 موجودہ حکومت کا اقتدار کا آخری سال اور آخری چند ماہ رہ گئے. سیاسی کھیل کی اننگز کھیلنے والے لنگوٹ کس کر میدان میں نکل آنے چاہیے تھے سیاسی جماعتوں کو آنے والے الیکشن کی تیاری میں دن رات ایک کر دینا چاہئے تھا حکمران جماعت اپنے دور حکمرانی کی کامیابیوں کا چرچا ہر چوک چوراہوں میں کرنا تھا. یہاں یہ بات بھی واضح کرتا چلوں کہ میری زندگی میں یہ دوسری سیاسی حکومت ہو گی جو اپنی مدت پوری کرے گی. تمہید کے بعد اصل موضوع پر آتا ہوں کہ اسے جمہوریت کی مضبوطی کہوں یا عوامی شعور کی بیداری کہ پچھلی حکومت نے اپنے 5 سالہ دور کو مکمل کیا تو اگلے الیکشن میں بدترین شکست سے دوچار ہوئی اور سوائے سندھ کے اپنا وجود کھو بیٹھی اور موجودہ حکومت کے حکمرانی کے 5 سالہ دور کے بعد آنے والے الیکشن میں بظاہر اس جماعت کا حال بھی کچھ مختلف نظر نہیں آ رہا ہے.
ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کرپشن کے خاتمے کے دعوے
اور کرپشن کرنے والوں کو کیفر کردار تک پہنچانے
تجربہ کار ٹیم کے ساتھ گڈ گورنس کے دعوے
سمیت دیگر اہم دعوے قصہ پارینہ بنتے نظر آ رہے ہیں اور جو تھوڑا بہت ملک کی بہتری کے لئے کئے گئے کام تھے وہ پس پردہ جاتے نظر ارے ہیں
اور تو اور غلط ٹائم میں مردم شماری کر کے آنے والے الیکشن کے انعقاد کو بھی مشکوک بنا ڈالا
دھرنے اور اپوزیشن کی بھرپور مذاحمت نے حالات کو ایک عجیب اور گومگو کیفیت میں تبدیل کر دیا اور اس میں خود موجودہ حکومت کا ایک بڑا کردار نظر آ رہا ہے وہ چاہے واقع ماڈل ٹاؤن ہو یا ختم نبوت کا قانون تبدیل کرنے کی کوشش ڈان لیک ہو یا پانامہ کا اسکینڈل عدالت سے محاذ آرائی ہو یا فوج سے دھینگا مشتی تمام معاملات میں حکمران جماعت نے اپنے پاوں پر خود ہی کلہاڑی ماری اس کار خیر میں کسی دشمن نے کوئی کردار ادا نہیں کیا
یہ سب انکا اپنا کرا دھرا ہے
اس تمام صورتحال کے پس منظر میں چند سیاسی کھلاڑیوں سے جب بات ہوئی تو انہیں بھی اس گومگو کی صورتحال میں پریشان نظر آئے اور الیکشن نہ ہونے کا عندیہ دیتے رہے عوام تو نہیں مگر ایک مخصوص حلقہ جو ووٹر کہلاتا ہے وہ بھی نا امید نظر آیا. آنے والا سال سیاست میں کیا ہل چل لائے گا اس کے بارے میں پیش گوئی کرنا تو مشکل ہے مگر موجودہ نظام جمہوریت کا چلنا بھی نظر نہیں ارہا دیکھیں کہ بدلتے سیاسی موسم میں اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے اور اگر موجودہ نظام کے تحت الیکشن وقت پر ہوئے تو اقتدار کے ایوانوں میں کون آ کر بیٹھتا ہے
ایک دعا کے ساتھ اپنی بات کو سمیٹتا ہوں کہ اللہ پاک اپنے حبیب کے صدقے رحم فرمائے اور اس ملک کی حفاظت فرمائے آمین
اپکی دعاؤں کا طالب
بدلتا سیاسی موسم
ملک عبدالصبور

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.