سندھ میں کام ہونے کے باوجود مسائل ہیں، بلاول کا اعتراف

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اعتراف کیا ہے کہ سندھ میں ترقیاتی کام ہونے کے باوجود مسائل ہیں۔

سندھ کے ضلع سہون میں امراضِ قلب کے ہسپتال نیشنل انسٹیٹیوٹ آف کاڈیووسکیولر ڈزیزس (این آئی سی وی ڈی) کی افتتاحی تقریب سے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ امراضِ قلب کے اسپتال کا سیہون میں قیام بہت خوش آئند ہے۔ انہوں نے کہا کہ امراضِ قلب کا علاج بہت مہنگا ہے اور پہلے سندھ کے عوام دل کا علاج کروانے کے لئے دوسرے بیرونِ ملک جایا کرتے تھے لیکن سندھ حکومت نے مفت علاج کے ساتھ ہسپتال کو عام آدمی کی دسترس میں پہنچا دیا۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اسپتال میں مفت علاج کی سہولت فراہم ہوگی جبکہ پیپلز پارٹی ہسپتالوں سے صرف سندھ ہی نہیں بلکہ پورے پاکستان کی خدمت کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سہون میں قائم ہونے والے ہسپتال سے پورا پاکستان ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے لوگ مستفید ہو سکیں گے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ سندھ سے محبت کرنے والے چند افراد یہ کہتے سوال کرتے ہیں کہ سندھ حکومت نے کیا کیا ہے، لیکن وہ یہ نہیں بتاتے کہ جہاں پوری دنیا میں کینسز کا علاج کرنے کے لیے 250 سائبر نائف مشینز ہیں، لیکن پاکستان میں صرف یہ ایک ہی مشین ہے جو سندھ میں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس مشین کے ذریعے دنیا میں اندازاً 60 سے 70 لاکھ روپے خرچ کرکے علاج کیا جاتا ہے لیکن سندھ میں یہ علاج بالکل مفت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ میں ترقیاتی کام ہونے کے باوجود مسائل موجود ہیں تاہم ان مسائل کے حل کے لیے پیپلز پارٹی کی نیت پر شک نہیں کیا جا سکتا۔ سہون میں لعل شہباز قلندر پر گزشتہ برس ہونے والے خود کش دھماکے کی تلخ یاد کو تازہ کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا ’سیہون شریف انسانیت کے لیے ایک پناہ گاہ ہے، قلندر کی نگری پر دہشت گردوں نے دھمال روکنے کے لیے دھماکا کیا۔‘ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی روایت دلوں کو جوڑنا ہے اور سہون نے میں امراضِ قلب کے لیے قائم ہونے والے اس ہسپتال سے پی پی پی نے لوگوں کے دلوں کو جوڑ کر اپنی روایت کو برقرار رکھا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں