دشمنوں پر نظر رکھنے کیلئے بھارت نے جاسوس سیٹلائٹ خلا میں روانہ کردیا

بھارت نے پولر سیٹلائٹ لانچنگ وہیکل سی 40 کے ذریعے خلا سے زمین کی تصاویر لینے والے سیٹلائٹ سمیت 31 نئے مصنوعی سیارے خلا میں بھیج دیئے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق بھارت کے خلائی تحقیقاتی ادارے (اسرو) نے پولر سیٹلائٹ لانچنگ وہیکل سی 40 کے ذریعے خلا سے زمین کی تصاویر لینے والے سیٹلائٹ سمیت 31 نئے مصنوعی سیارے خلا میں بھیجے ہیں۔جمعے کو سری ہریکوٹا سے روانہ کیے جانے والے ان مصنوعی سیاروں میں انڈیا سمیت چھ مختلف ممالک کے سیٹلائٹس شامل ہیں۔گذشتہ سال اگست میں پولر سیٹلائٹ لانچنگ وہیکل سی 39 کی ناکامی کے بعد یہ بڑی کامیابی ہے۔اس راکٹ کی خاص بات یہ ہے کہ سیٹلائٹ سے نکلنے کے بعد دو گھنٹے تک خلا میں رہتا ہے اور اس دوران راکٹ کی اونچائی کم کر کے مزید سیٹلائٹ خلا میں بھیجے جا سکتے ہیں۔ یہ ایک بہت منفرد نوعیت کا مشن ہے۔انڈیا نے جمعے کو خلا میں ایک نیا سیٹلائٹ کارٹوسیٹ- ٹو بھی بھیجا ہے۔ یہ ایک سیمنٹیک امیجنگ سیٹلائٹ ہے جو زمین کی تصاویر کھینچے گا۔انڈین ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ یہ انڈیا کا ساتواں ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ ہے، جس کی معیاد پانچ سال ہے۔ اس سیٹلائٹ کی مدد سے انڈیا کی مشرقی اور مغربی سرحدوں پر موجود دشمنوں پر نظر رکھی جائے گی۔اس سیٹلائٹ کو خلا میں آنکھ کا نام دیا گیا ہے۔دوسری جانب پاکستان کا کہنا ہے کہ زمین کی نگرانی کرنے والی سیٹلائٹس سمیت تمام خلائی ٹیکنالوجیز کو عسکری اور شہری مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔پاکستان کے دفترِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ دوہرے نوعیت کے سیٹلائٹس سے عسکری عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔اس نوعیت کا ایک اور سیٹلائٹ پہلے ہی خلا میں موجود ہے اور اس سے حاصل ہونے والی تصاویر سے لائن آف کنٹرول پر سرجیکل سٹرائیکس کے بارے میں جاننے میں مدد ملے گی۔ اس کا کیمرا کافی بڑا ہے۔پولر سیٹلائٹ لانچنگ وہیکل انڈیا کا مائیکرو اور نینو سیٹلائٹ ہے۔ اس میں دوسرے ممالک کے سیٹلائٹس بھی شامل ہیں، جن میں امریکہ، برطانیہ، فن لینڈ اور جنوبی کوریا کے سیٹلائٹس شامل ہیں۔دوسرے ممالک کے سیٹلائٹس سے (اسرو) کو منافع بھی ہو گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں