13

میڈ ان پاکستان: ’پاکستانی فیشن کو پسند کیا جاتا ہے لیکن پاکستانیوں پر اعتماد نہیں ہے‘

کراچی میں کراچی ایکسپو 2017 کے تحت ‘میڈ ان پاکستان’ کے نام سے فیشن ویک جاری ہے جس میں کئی ممالک سے درجنوں خریدار بھی آئے ہوئے ہیں۔
میڈ ان پاکستان فیشن ویک کا مقصد ملبوسات کی محض نمائش کرنا نہیں ہے بلکہ ایسے ملبوسات کی نمائش کرنا ہے جو پاکستانی کپڑے سے بنے ہوں تاکہ برآمد کیے جا سکیں۔
یہ پہلی بار ہے کہ پاکستان کے فیشن کے فروغ کے لیے ایک جامعہ سٹیریٹجی بنائی گئی ہے تاکہ پاکستانی ڈیزائنرز اپنے ملبوسات برآمد کر سکیں۔
‘ہم نے پہلی بار ایک سٹریٹیجی کے تحت ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی کو شامل کیا ہے۔ اور اسی وجہ سے اس سال پہلی بار اتنے بڑے پیمانے پر غیر ملکی خریدار پاکستان آئے ہیں۔’
اس فیشن ویک میں حصہ لینے والے ایک ڈیزائنر کمپنی ‘دا پِنک ٹری’ کے محسن سعید نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایسے فیشن ویک اور ایسے ایکسپو گذشتہ دو سالوں سے ہو رہے ہیں۔
‘لیکن اس بار یہ بہت بڑا ہے اور اس میں جاپان، امریکہ، کویت، انگلینڈ سمیت کئی ممالک سے خریدار آئے ہیں۔’
جب ان سے پوچھا گیا کہ خریدار تو آ جاتے ہیں لیکن اس سے فائدہ کتنا ہوتا ہے تو انھوں نے نے کہا کہ کچھ غلطی پاکستانی ڈیزائنرز کی بھی ہے۔ ‘خریدار تو آتے ہیں اور پسند کرتے ہیں اور رابطے کے لیے معلومات کا تبادلہ بھی ہوتا ہے۔ لیکن ہم ڈیزائنرز اگر اس ابتدائی رابطے کے بعد مزید آگے نہ بڑھیں اور دوبارہ رابطے نہ کریں تو یہ ہماری غلطی ہے۔’

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں