چور ماﺅنٹ ایورسٹ پر بھی وارداتیں کرنے لگے

کٹھمنڈو….. کوہ پیمائی ایک بہت ہی سخت کام ہے اس میں صرف جسمانی طاقت نہیں چاہئے بلکہ پورے جسمانی نظام کو مکمل طور پر کام کرنا پڑتا ہے۔ پٹھے اور اعصاب سب سے پہلے متاثر ہوتے ہیں اور اس کے بعد نظام تنفس آزمائش کا شکار ہوتا ہے جس کے بعد کوہ پیماﺅں کو آکسیجن کی ضرورت پیش آتی ہے۔ دنیا کے مشہور ترین اس پہاڑی سلسلے میں ہر سال ہزاروں کوہ پیما دنیا کے مختلف علاقوں سے آتے ہیں اورکوہ پیمائی کی غرض سے اپنے ساتھ آکسیجن کے متعدد سیلنڈرز بھی لے آتے ہیں جو بوقت ضرورت انکی مدد کرتا ہے اور سانس کی دشواریاں دور کرتا ہے مگر اتنے کٹھن کام کے باوجود کچھ لوگ انکے مال و اسباب بالخصوص سیلنڈرز پر ہاتھ صاف کرنا ضروری سمجھتے ہیں ۔ یہ چور وہ لوگ ہوتے ہیں جو کوہ پیماﺅںکا سامان اٹھا کر بلندیوں تک لیجاتے ہیں اور شرپا کہلاتے ہیں۔ غالباً انہی شرپاﺅں میں سے ایک نے روپرٹ جونز اور انکے ساتھی کے سیلنڈر چوری کرلئے جس کے بعد انکی حالت اتنی خراب ہوئی کہ انہیں اپنے سیلنڈرز بھی نہیں ملے جو غالباً چرا لئے گئے تھے مجبور اً انہیں اپنی کوہ پیمائی کا مشن ترک کرکے نیچے اترنا پڑا۔ جس شخص نے بھی یہ چوری کی ہے ماﺅنٹ ایورسٹ ایڈمنسٹریشن کا عملہ اسکی تلاش میں ہے مگر چور کا پتہ لگانا مشکل ہی نظر آتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.