لائن آف کنٹرول بٹل سیکٹر پر بھارتی فوج کی مسلسل خلاف ورزیاں جاری۔کنٹرول لائن کے قریبی علاقوں پر گزشتہ روز بھارتی توپوں نے آگ برسا ڈالی

ہجیرہ(کشمیر لنک نیوز )
لائن آف کنٹرول بٹل سیکٹر پر بھارتی فوج کی مسلسل خلاف ورزیاں جاری۔کنٹرول لائن کے قریبی علاقوں پر گزشتہ روز بھارتی توپوں نے آگ برسا ڈالی ۔ٹارگٹ فائرنگ کے ساتھ ساتھ بھارتی افواج بھاری ہتھیاروں کا استعمال کرنے لگی ۔بٹل سیکٹر پر گزشتہ روز ہونے والی گولہ باری کے نتیجہ میں چار بچوں پانچ خواتین سمیت گیارہ شہری زخمی 15مکانات 1موٹر سائیکل اور کئی تعلیمی ادارے تباہ ،4بھینسیں اور 6بکریاں ہلاک ۔کنٹرول لائن کے ملحقہ علاقوں سہر مداپور ،دھرمسال ،ڈھپ بٹل ،منڈھول ،دھر ککوٹہ تیتری نوٹ اور سہر سمہاس کی سول آبادی بھارتی فوج کے نشانے پر ۔سینکڑوں خاندان نقل مکانی کر گئے ۔مزید کئی خاندان گھر بار چھوڑنے پر مجبور ۔کنٹرول لائن کے قریبی علاقوں کے عوام کی زندگیاں اجیرن ہو گئی ۔کوئی پرسان حال نہیں ۔چار سال سے حکومت آزاد کشمیر متاثرین کو ریلیف فراہم نہ کر سکی حکومتی دعوے جھوٹ کا پلندہ ثابت ہوئے ۔کنٹرول لائن کے متاثرین نے تنگ آ کر 16اپریل کو سہر کے مقام سے کراسنگ پوائنٹ تیترینوٹ سے انٹرا کشمیر ٹریڈ بند کرنے کی دھمکی دے دی ۔تفصیلات کے مطابق لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوج نے سیز فائر ماہدے کی دھجیاں اُڑاتے ہوئے کنٹرول لائن کے قریب آبادیوں پر آگ برسانا شروع کر رکھی ہے ۔بھارتی فوج نے لائن آف کنٹرول کے قریب دھرمسال کی عوام پر گزشتہ 9ماہ سے ٹارگٹ فائرنگ کرکے سینکڑوں شہریوں کو گھر بار چھوڑنے پر مجبور کیا ۔دھرمسال گائوں سے سولین آبادی کے انخلاء کے بعد بھارتی فوج نے اپنی ٹارگٹ کاروائیوں کا رخ سہر مدارپور اور تیتری نوٹ کی طرف موڑ کر یہاں کے شہریوں کو نقل مکانی کرنے پر مجبور کر دیا ہے ۔گزشتہ روز بھارتی فوج نے ایک بار پھر لائن آف کنٹرول پر سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کنٹرول لائن کے قریب سہر مداپور ، مینڈلہ ،دھرمسال ،ڈھپ بٹل ،منڈھول ،دھر ککوٹہ ،رکڑ ،ڈونگہ ،کھڑانج کی سولین آبادی پر ہیوی شیلنگ کی جس کے نتیجہ میں پانچ خواتین جن میں نائلہ خاتون سکنہ ناڑ کوملین ،انور جان ،لبنہ خا لد سکنہ رکڑ ،شا ہ بیگم سکنہ دھر ککوٹہ ،زاہدہ بیگم سکنہ بٹل ،محمد سدیر سکنہ منڈھول ،فرقان تعارف ساکن دھرمسال ،جبکہ چار بچے جن میں عدنان تبسم ساکن دھرمسال ،عمان رحیم ،آرزو رحیم ،کونین حفیظ ساکن بٹل زخمی ہو گئے جنہیں THQہسپتال ہجیرہ اور مختلف طبی مراکز سے ابتدائیطبی امداد کے بعد راولاکوٹ اور کوٹلی کے ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ۔ جبکہ جنید اسحاق ،سائیں خالد ،پٹواری عقیل ،محمد طارق ،محمد حفیظ ،محمد رضوان ،منور حسین ،منظور نقوی ،حبیب الرحٰمن ،سردار خان ، ملک محمد ظفر ،طاہر ، حاجی محمد صابر ،سمیت متعدد شہریوں کے مکانات جبکہ محمد الطاف کا موٹر سائیکل گولے لگنے سے تباہ ہو گئے ۔جبکہ مذکورہ علاقوں میں بھاری فوج کی گولہ باری سے کئی تعلیمی ادارے بھی تباہ ہوئے ۔ بھارتی فائرنگ سے مذکورہ علاقوں کے رہائشیوں افتخار حجازی،محمد فاروق ،کفایت حسین شاہ ،راجہ محمد اعظم ،محمد اسرار،محمد رفیق سمیت دیگر افراد کی بھینسیں اور بکریاں گولے لگنے سے ہلاک ہو گئیں ۔بھارتی فوج کی فائرنگ اور گولہ باری سے لائن آف کنٹرول پر بسنے والے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں دوسری طرف گزشتہ چار سال سے لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوج کی فائرنگ سے زخمیوں ،تباہ شدہ املاک کے معاوضہ جات حکومت آزاد کشمیر تا حال ادا کرنے میں ناکام رہی ہے ۔حکمرانوں کے بلند و بانگ دعووں اور وعدوں سے تنگ اور بھارتی فوج کی گولہ باری سے مشکلات کا شکار کنٹرول لائن کے باسیوں نے 16اپریل کو تیتری نوٹ کراسنگ پوائنٹ سے انٹرا کشمیر ٹریڈ کی مال بردار گاڑیوں کو سہر کے مقام پر روکنے کی دھمکی دے دی راجہ جمیل ہجیرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں