1,083

بی بی سی پر ایک پنجاب پولیس کمانڈو نے نام ظاہر نہ کرنے پر انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ کاش وہ دن میری زندگی سے نکال دیا جائے جس دن میں پولیس میں بھرتی ہوا۔

بی بی سی پر ایک پنجاب پولیس کمانڈو نے نام ظاہر نہ کرنے پر انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ کاش وہ دن میری زندگی سے نکال دیا جائے جس دن میں پولیس میں بھرتی ہوا۔

اس لئے نہیں کہ فیض آباد دھرنے میں مظاہرین نے میری دو نوں ٹانگیں توڑ دیں بلکہ اس لئے کہ وہ اپنے سینئر افسران کی اپریشن کے دوران حکمت عملی اور اس کے رویہ سے مایوس ہے ۔ پولیس کمانڈو کا کہنا تھا کہ میں ان کمانڈوز میں شامل تھا جن کو ٹاسک دیا گیا تھا ۔کہ مظاہرین پر نہ صرف دھاوا بولنا ہے بلکہ ان کو گرفتار بھی کرنا ہے لیکن پھر بھی ناقص منصوبہ بندی اور بروقت فیصلہ نہ کرنے کی وجہ سے پسپائی ان فورسسز کا مقدر بن گئی ۔تبریز نے دکھ بھرے لہجہ میں پولیس حکام کے اس رویے سے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ زخمی ہونے کے باوجود بھی ان کے علاج و معالجے کی طرف کوئی توجہ نہیں دی گئی دو دن ہسپتال میں رکھنے کے بعد اسے 2ہفتے کی چھٹی دے کر گھر بھیج دیا گیا ۔ راولپنڈی پولیس کے ان افسران میں سب انسپیکٹر امانت اور محمد اسلم بھی شامل ہیں اور یہ قتل کے مقدمات کی تفتیش میں ماہر مانے جاتے ہیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں